ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اے ٹی سی کورٹ میں پیش ہونے کی تحریری یقین دہانی پولیس کو کرائی ہے جس کے بعد انہیں حراست سے رہا کردیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق انہیں اعلیٰ افسران کے حکم پر رہا کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق فاروق ستار کو گرفتار کرنے والی ٹیم میں 2 ڈی ایس پی اور 4 ایس ایچ اوز شامل تھے ۔ٹیم کی سربراہی ڈی ایس پی کلاکوٹ زاہد حسین کررہے تھے جبکہ ڈی ایس پی چوہدری ارشاد حسین بھی ان کے ہمراہ تھے ۔

حراست میں لینے کے بعد فاروق ستار کو ابتدائی طور پر آرٹلری میدان تھانے منتقل کیا گیا۔ تاہم بعد میں افسران بالا کی ہدایت پر تفتیش کے لیے کھارادر اور اس کے بعد چاکیواڑہ تھانے منتقل کیا گیا ۔

فاروق ستارکو چاکیواڑہ تھانے منتقل کرنے کا مقصد یہ تھا تاکہ پارٹی کے رہنما اور کارکن لیاری نہ پہنچ سکیں اور تھانے کے باہر حالات قابو میں رہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق فاروق ستار نے تحریری طور پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ڈی ایس پی کلاکوٹ زاہد حسین نے فاروق ستار سے تفتیش بھی کی۔ فاروق ستار کو پہلے ڈی ایس پی نے اپنے کمرے میں رکھا اور بعد ازاں لاک اپ بھی کیا

SHARE

LEAVE A REPLY