اللہ رب العزت نے اپنے محبوب،باعث تخلیق کائنات ،فخر موجودات کے اطمینان قلب کی خاطر آیت مبارکہ نازل فرما کر ایک عظیم الشان تحفہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا،’’وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیْ‘‘ ،عنقریب آپ کا رب آپ کو وہ عطاکرے گا کہ آپ فوراًراضی ہو جائیں گے۔ذہن انسانی سوچ میں پڑگیا کہ قادر مطلق اپنے حبیب کو سب کچھ عطا کردینے بعد وہ کون سی انتہائی عظیم المرتبت شے دینے کا وعدہ فرما رہا ہے کہ جو اس نے ابھی تک اپنے پیارے رسول سے پوشیدہ رکھی ہے۔ بشریت حیرت و استعجاب کے سمندر میں غوطہ زن تھی کہ ایک دن قاصد ایزدی مژدۂ جانفزا لے کر آن پہنچا، ’’اِنَّااَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرْ‘‘،میرے حبیب،ہم نے آپ کو الکوثر عطا کر دی۔’’قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلاَ ‘‘ کا حکم دینے والے معبود نے ہر وقت شکر ادا کرتے رہنے والے رسول اعظم کو اگلا فرمان جاری کیا، ’’فَصَلِّ لِرَبّکَ وَانْحَرْ‘‘میرے حبیب اس عطائے گرانقدر کا شکرانہ ا دا کیجئے۔وہ عظیم المرتبت تحفہ جوخداکا ا پنے محبوب ر سول سے محبت کی انتہا ہے ،تمام جلیل القدر مفسرین کرام کے مطابق،
’’اَلْفَاطِمَہْ ھِیَ الْکَوْثَرْ الْمُعْطِیْ لِرَسُوْلَ اللّٰہ‘‘

ملکۂ ملک سخاوت،مطلع چرخ کرامت،سرچشمۂ صبر ورضا،ام شہیدان وفا،بنت رسول اکرم، نشانی ء خدیجہ معظمہ ،سیدہ ،طیبہ،طاہرہ، مخدومۂ کونین حضرت فاطمہ الزہراء کی ذات عالیہ ہے جو ’’ھَدْیَۃُالْمَنّانْ وَالْکَوْثَرْ اَلْقَیّمْ فِیْ الْقُرْآن ‘‘ ہے جو اللہ کی طرف سے رسول اللہ کے لئے ہدیہ ہے ،جوخدا کا رسول کے لئے تحفہ ہے ۔کُل کائنات دے کر اللہ رب العزت نے جس عظیم ہستی کے لئے لفظ عطا استعمال فرمایا ہے وہ سیدۃالنساء العٰلمین کی ذات والا صفات ہے۔اللہ رب العزت نے جب اس لفظ کوثر کو مجسم فرمایا تو صورت فاطمہ میں سامنے آیا اور جب فضائل و خصائل زہراء کو سمیٹا تو الکوثرکا نام دیا۔

طیبہ،طاہرہ،عابدہ،زاہدہ،بنت خیرالوریٰ،سیدہ فاطمہ سیدہ،صالحہ،راکعہ،ساجدہ،نور شمس الضحیٰ،سیدہ فاطمہ
راضیہ،مرضیہ،صائمہ،عاصمہ،نیرہ،انورہ،ناظمہ،ناصرہ زاکیہ،ازکیہ،اکرمہ،اعظمہ،عکس ظل خدا،سیدہ فاطمہ
کاملہ،اکملہ،صادقہ،اصدقہ،عالمہ،فاضلہ،راحمہ،راشدہ شاہدہ،شافعہ،قاسمہ،آمنہ،عذرا ،خیر النساء،سیدہ فاطمہ
ہادیہ،مہدیہ،جیدہ،ناصحہ،مکیہ،مدنیہ،قرشیہ،سرورہ مشفقہ،محسنہ،ذاکرہ،زاہرا،حافظہ،حامدہ،سیدہ فاطمہ
قائمہ،دائمہ،ماحیہ،ماجدہ،خازنہ،حاکمہ،صابرہ،شاکرہ حاذقہ،قائدہ،احسنہ،افضلہ،وارثہ،پارسا،سیدہ فاطمہ
واعظہ،واصفہ،شافیہ،کافیہ،رہبرہ،فائقہ،واقفہ،عارفہ عالیہ ،اشرفہ،قاطعہ،ساطعہ،عاقلہ،اطہرہ،سیدہ فاطمہ
امجدہ،اجملہ،مخلصہ،تارکہ،ثابتہ،ثاقبہ،خاشعہ،خالدہ ان کے القاب صائم ہوں کیسے بیاں،خرد سے ماوریٰ سیدہ فاطمہ
اِنَّااَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرْ:

ہر تحفۂ ایزدی ، اللہ رب العزت نے اپنے رسول کے لئے خودروانہ فرمایامگر اس عظیم الشان تحفہ کو عطا کرنے کے لئے پیارے مصطفٰی کو عرش علیٰ کی دعوت دی۔شب معراج، مہمان ربانی فردوس بریں کی سیر کو تشریف لے گئے اور قصر ام المومنین خدیجہ الکبریٰ میں داخل ہوئے ۔قصر خدیجہ کا معائنہ فرماتے ایک نورانی درخت پر لگے سیب پر آپ کی نظر مبارک ٹھہری جسے دست قدرت نے آمد مصطفٰی سے تین لاکھ سال پہلے خلق کیا تھا۔حکم الٰہی پر آپ نے وہ نورانی سیب تناول فرمایا اور حجاب قدرت سے نور عصمت ،صلب رسالت میں منتقل ہوا۔واپس تشریف لائے تو اس تحفۂ خداوندی کو محبوب زوجہ خدیجہ الکبریٰ کی آغوش محبت کی زینت بنایااورعطائے الٰہی اور خدیجہ طاہرہ نے مل کر رحل رسالت پر قرآن فاطمہ نازل کر دیا۔

مہک فردوس کی مکہ کی گلیوں میں چلی آئی کہ آغوش خدیجہ میں تھی جب بنتِنبی آئی
سیدہ طاہرہ 20جمادی الثانی،5نبوی ،17مارچ 614ء ،بروزجمعہ المبارک ،قصر خدیجہ میں جلوہ فرما ہوئیں۔ نور زہراء کا ظہور ہوا تو زمیںسے لے کر آسمان تک ذرہ برابر جگہ بھی ایسی نہ رہی جہاں اس نور مبارکہ کی تجلی نے روشنی نہ پھیلائی ہو۔آپ خیر کثیر کا مصدر ہیںاور جہاں جہاں خیر کثیر کا ذکر ہوا ہے وہ اللہ رب العزت نے در زہرا سے صادر فرمایا ہے۔آپ کا اسم گرامی ذات قدرت نے ’’فاطمہ‘‘رکھا۔آپ اہل سماء میں’’منصورہ ‘‘کے نام سے جانی جاتی ہیںکیوں کہ اللہ رب العزت نے آپ کو نصر اللہ قرار دیا ہے۔

نور زہرا :
چھٹے خلیفۂ راشد، صادق آل محمدفرماتے ہیں کہ ،’’خداوند عالم نے حضرت فاطمہ الزہراکو اپنے نور کی عظمت سے خلق فرمایا،جب آپ کے نور کی ضیاء ارض وسماء میں پھیلی تو ملائکہ کی آنکھیں خیرہ ہونے لگیںاور وہ خدا کے حضور سربسجودہوکر کہنے لگے،’’اے پروردگار!یہ کیسا نور ہے‘‘۔ارشاد ربانی ہوا،’’یہ نور میرے ہی نور کی عظمت سے پیدا ہوا ہے ،اسے میں نے آسمان پر رکھا اور اپنے انبیاء میں سب سے باعظمت نبی کے صلب میں ودیعت فرما کر ظاہر کروں گاپھر اس سے ایسے انوار پیدا کروں گا جو اہل زمین پر میری تمام تر مخلوقات میںافضل ہوں گے اور میرے دین حق کی طرف لوگوں کی ہدایت کریں گے اور سلسلۂ وحی کے ختم ہو جانے کے بعد بھی وہی انوار ائمہ میرے خلیفہ اور میرے دین کے محافظ ہوں گے‘‘۔ایک مقام پر آپ نے فرمایا،’’جب آپ عبادت محراب میں قیام فرما ہوتیں تو آپ کا نور اہل سماء کو روشنی عطا کرتا تھا‘‘،بے انتہا نور کے باعث آپ کو زہرا کا لقب عطا فرمایا گیا۔یہی انوارات مقدسہ آپ کی جبین اقدس سے ظاہر ہوتے رہے یہاں تک کہ جب سیدنا امام عالیمقام امام حسین کی آمد ہوئی تو یہ نور آپ کی پیشانی میں جلوہ فرما ہوااورریگزار کربلا پر آپ کی شہادت عظمیٰ کے بعدسیدنا امام علی زین العابدین سے ہوتا سیدنا ولی العصر مہدیء دوراں کی جبین اقدس میں روشن ہے۔اس باعث مخدومۂ کونین معدن نبوت کے ساتھ معدن امامت بھی ہیں اور ائمہ اہلبیت اطہار ،آپ کا فیضان ہیں۔

کرم کامخزن،سخا کا مرکز ،عطا سراپا،جناب زہرا نبی کی صورت ،نبی کی سیرت ،نبی کا نقشہ، جناب زہرا
رسول اعظم کی پیاری دختر،شہید اعظم کی پاک مادر جناب شیر خدا کی زوجہ ، جناں کی ملکہ جناب زہرا
سراپا رحمت ،سراپاراحت،سراپاعفت،سراپا عصمت رسول اکرم کے دل کی ٹھنڈک،بتول وعذرا ،جناب زہرا
ہے غیر ممکن کہ ان کے در سے کوئی سوالی بھی آئے خالی قسیم جنت ، قسیم کوثر ، قسیم دنیا جناب زہرا
تمام حوریںکنیزیں ان کی ،غلام ان کے سبھی فرشتے مگر چلاتی ہیں خود ہی چکی بغیر شکوہ جناب زہرا

آغازبشریت و نور فاطمہ :
عبداللہ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا،کہ’’ جب اللہ رب العزت نے حضرت آدم و حوا کو پیدا کیا تو وہ دونوں جنت میں فخر کرتے تھے۔بالآخر انہوں نے جنت میں فخر کیا کہ حق تعالیٰ نے ہم سے بہتر کسی کو پیدا نہیں کیا ۔اسی اثناء میں انہوں نے ایک مخدرہ کی صورت کو دیکھا کہ ان کے جمال سے نور چمک رہا ہے اور ان کے سراقدس پر ایک تاج ہے اور دونوں کانوں میں گوشوارے ہیں،تب انہوں نے بارگاہ احدیت میں عرض کی،پروردگار!یہ مخدرہ کون ہے ؟،ارشاد ربانی ہواکہ اے آدم وحوا!یہ صورت فاطمہ ہے جو محمد کی دختر نیک اختر ہیںجو سردار اولاد آدم ہیں۔پھر عرض کی ،ان کے سر پہ تاج کیسا ہے ؟،حکم ہواکہ یہ ان کے شوہرعلی ابن ابی طالب ہیں۔پھر عرض کی کہ یہ گوشوارے کیسے ہیں؟،فرمایا یہ حسن و حسین ان کے صاحبزادے ہیں۔ان کا وجود میرے اسرار علم میں تمہیں خلق کرنے سے چار لاکھ سال پہلے سے موجود ہے‘‘۔
وَمَا اَدْرٰکَ مَالَیْلَۃُالْقَدْر:
حضرت فاطمہ الزہراکی ذات بابرکات کوفرقان حمید نے لیلۃالقدر قرار دیا ہے اور عرفان مخدومۂ کونین سے متعلق فرمایا ہے کہ تمہیں کیا معلوم لیلۃالقدر کیا ہے۔لیلۃالقدر ہزار ماہ سے افضل ہے ۔ عرفانی تفاسیر کو سمجھنے کے لئے ظرف بشریت کی گنجائش کہاں۔یک زمانہ صحبتے با اولیاء ،بہتر از صدسالہ طاعت بے ریا،مخدومۂ کونین سے ایک لمحہ کی عقیدت، ہزار ماہ کی عبادت سے افضل ہے۔انہی کی خدمت کے لئے ملائکہ اور روح القدس اترتے ہیں اور یہ سلامتی ہی سلامتی ہیں۔آپ ہی لیلۃالمبارکہ ہیں اور آپ ہی کو احدیٰ الکُبر فرمایا گیا ہے۔سیدنا حضرت امام جعفر صادق فرامتےہیں کہ ہر نماز کے بعد تسبیح زہرا کا پڑھنا ہر روز ہزار رکعت نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔

بتولِ پاک :
لفظ بَتُوْل، بَتَلٌسے بنا ہے ۔ بَتَلٌکے لغوی معنی ،قَطَعُ الْشَّیئِ وَاَبَانُہُ عَنْ غَیْرہِ ،کسی چیز کا کسی چیز سے منفرد یا جدا ہونا۔بَتَّلَ وَتَبَتَّلَ، اِنْقَطَعَ عَنِِالْدُّنْیَااِلَی اللّٰہ ، دنیا سے کٹ کے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا۔سیدۃ النسا ء العالمین،سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکو اس لئے بتول کہا گیا ہے کیونکہ،لِاِنْقِطَاعِھَاعَنْ الْنّسَائِ زَمَانِھَافَضْلاًوَدِیْناًوَحَسَباً، کہ آپ اپنے دور کی تمام عورتوں سے فضیلت ، دین اور حسب ونسب کے اعتبار سے منفرد ویکتاہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ،لِاِنْقِطَاعِھَاعَنِالْدُّنْیَااِلَی اللّٰہِ تَعَالیٰ،آپ کو دنیا سے ہٹ کراللہ تعالیٰ کی طرف رخ کرنے کی وجہ سے بھی بتول کہا گیا ہے ۔

عبیدہ الہروی ،غریبین میں لکھتے ہیں ، سُمِّیَتْ فَاطِمَۃُبَتُوْلاًلِاَنَّھَابَتَلَتْ عَنِِالْنَّظِیْر،فاطمہ کا نام بتول اس لئے ہے کہ آپ کی کوئی نظیر نہیں۔
ہو گیا امت پہ قرباں گھر بتولِ پاک کا کس قدر احسان ہے ہم پر بتولِپاک کا
مانگنا ہے جو بھی بنت مصطفٰی سے مانگ لے در رسول پاک کا ہے در بتولِپاک کا
مشکلیں جب ہر طرف سے تم کو آکر گھیر لیں ذکر اٹھتے بیٹھتے پھر کر بتولِپاک کا
چارسو پھیلی ہوئی ہے روشنی ہی روشنی فیض ہے دنیا میں جلوہ گر بتولِ پاک کا
عرش وکرسی ،چاند تارے وجد میں سب آگئے یوں جھکا خالق کے آگے سر بتولِ پاک کا
ہیں بتول پاک کے بیٹے شہیدوں کے امام سارے ولیوں کا ہے سلطاں بر بتولِ پاک کا
مر کے بھی زندہ رہے گا روز محشر تک خضر کس طرح خادم سکے گا مر بتولِپاک کا

اجررسالت :
اللہ کے پیارے رسول نے دین حق پھیلا کر اور پیغام ایزدی پہنچا کر،بحکم الٰہی صرف ایک تقاضا فرمایا ،قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًاًاِلَّاالْمُؤدَّۃَ فِیْ الْقُرْبیٰ، میرے حبیب ان سے فرما دیجئے کہ میں آپ سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ قربیٰ سے مؤدت کرو۔قربیٰ واحد مونث ہے اورجذبۂ مؤدت ،عشق کی وہ منزل ہے جو مچھلی کو پانی کے ساتھ ہے۔ مچھلی کی زندگی پانی ہے اور پانی کے بغیر وہ تڑپتی ہے اور اسی تڑپ میں جان دے کر اپنا وجود ختم کر دیتی ہے۔تما م مفسرین متفق ہیںکہ واحد مونث،مخدومۂ کائنات سیدہ فاطمہ الزہرا ہیں اور آپ کی ذریتِطیبہ طاہرہ کے ساتھ جذبۂ مؤدت،کمال عشق و محبت کو اللہ رب العزت نے اجر رسالت قرار دیا ہے اور عشق اہلبیت اطہار کو امت مسلمہ پر واجب قرار دیاہے۔

اجرمؤدت زہرا :
صحابیء رسول،سلمان فارسی روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سرکار دوعالم نے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایاکہ ،اللہ رب العزت نے تمام ملائکہ کو مخاطب کر کے فرمایا،’’مجھے اپنی عزت و جلالت کی قسم ،میں تمہاری تسبیح وتقدیس کا ثواب قیامت تک ان مخدرہ،ان کے والد ،ان کے شوہر اور ان کے صاحبزادوں سے محبت کرنے والوں کو عطا کروں گا‘‘۔
حُجَّۃُاللّٰہ:
گیارہویںخلیفۂ راشد،سیدناامام حسن العسکری فرماتے ہیں، ’’نَحْنُ حُجِّۃُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ جَدَّتُنَا زَہْرَا حُجَّۃُاللّٰہِ عَلَیْنَا‘‘ ، ہم اللہ کی حجت ہیں تم پراور ہمارے دادی معظمہ سیدہ فاطمہ الزہراء ،اللہ کی حجت ہیں ہم پر۔

کنیز زہراء کے لئے آب کوثر:
شہادت مخدومہ ء کونین کے بعد حضرت ام ایمن نے مدینہ منورہ سے روانگی کا فیصلہ کیا اور عازم مکہ ہوئیں۔مکہ مکرمہ کے راستہ میں ایک مقا م پر انہیں شدید پیاس لگی،انہوں نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور بارگاہ ایزدی میں دعا کی ،’’اے پروردگار!میں فاطمہ زہراکی کنیز ہوںاور پیاس سے ہلاک ہو رہی ہوں،کیا پیاس سے جان دے دوں؟‘‘ابھی دعا ختم ہی نہ ہوئی تھی کہ اللہ رب العزت نے ان کے لئے آسمان سے پانی کا ایک ڈول نازل کیا جس سے وہ سیراب ہو گئیںاور عرصۂ دراز تک انہیں بھوک وپیاس محسوس نہیں ہوئی۔انتہائی شدید گرمی کے ایام میں بھی وہ پیاس سے ناآشنا رہیں۔

فَاطِمَہْ بِِضْعَۃُ مِنّیْ:
ایک دن سیدالمرسلین نے سیدہ فاطمہ زہراء کا ہاتھ تھام کر فرمایا،’’جو انہیں پہچانتاہے سوپہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ جان لے کہ یہ فاطمہ بنت محمد ہیں ،یہ میرا حصہ اور ٹکڑا ہیں،یہ میرا قلب و دل ہیں جو میرے پہلو میں موجود ہے،پس جس کسی نے انہیں اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی‘‘۔
عبداللہ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا،’’بے شک فاطمہ میرا حصہ ہیں،میرا نور ہیں،میرے دل کا میوہ اور ٹھنڈک ہیں،جو انہیں ناراض کرے گا وہ مجھے ناراض کرے گا اور جو مجھے راضی وخوش کرے گا وہ انہیں راضی اور خوش کرے گا‘‘۔
جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا،’’فاطمہ میرا حصہ ہیں،جس کسی نے میرے حصہ کو اذیت پہنچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی ،جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوق اس پر لعنت کرے گی‘‘۔آپ ارشاد فرماتے ،’’فاطمہ !اللہ آپ کی رضاوخوشنودی سے خوش اور راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سے ناراض ہوتا ہے‘‘۔’’فاطمہ مجھ سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہیں‘‘،’’فاطمہ میرے سامنے ایک حقیقت ہیں‘‘۔’’فاطمہ میرے دو پہلوؤں کے درمیان روح ہیں‘‘۔
وارث قرآن نے فرمایا،’’بے شک اللہ نے رسول اللہ کو نبوت و شفاعت سے نوازا،علی کو فضل و کرامت سے نوازااور فاطمہ کو علم و عصمت سے نوازا‘‘۔

مَرِجَ الْبَحْرَیْنِِیَلْتَقِیَانْ:
ختمیء مرتبت نے فرمایا،’’ مَا کَانَ عَلِیُُُ لَمْ یَکُنْ کُفْواً لِفَاطِمَہْ‘‘،اگر علی نہ ہوتے تو روئے زمین پر فاطمہ کا کفو ممکن نہ تھا۔اسی پرمسرت موقع پر بارگاہ علی و زہرامیں تہنیت ایزدی اور رضائے الٰہی کا اظہار کرنے کی غرض سے زُہر ہ ستارہ زمین پر اترا اور مدینہ منورہ میں آکر در حیدر کرّار کے کے سامنے سجد ہ ریز ہو گیا۔مخدومۂ کائنات ،خانۂ رسالت کی چھت سے اس ستارے کا اترنا اور فرزندابو طالب کی چوکھٹ کو چومنا دیکھ رہی تھیں۔

زُہرہ نے آسمان چھوڑا تو آپ نے اللہ اکبر کا ورد فرمایا اور اس ستارے کے زمین پہ پہنچنے تک آپ نے چونتیس دفعہ اللہ اکبر کا ورد فرمایا۔یہ ستارہ، در حیدر کرّار کے سامنے آیا توآپ کی زبان اقدس سے سبحان اللہ کا ورد جاری ہوا اور آپ کے تینتیس دفعہ ورد فرمانے تک یہ ستارہ سجدہ ریز رہااور جب حکم الٰہی کی مہر ثبت کر کے زُہرہ واپس ہوا تو آپ شکر الٰہی ادا کیااور ستارہ کے واپس اپنے مقام پر پہنچنے تک آپ
نے تینتیس دفعہ الحمدللہ ارشاد فرمایا ۔
اسی پرمسرت موقع کے صدقے عالم اسلام کو کثرت ذکر الٰہی کی مصداق تسبیح زہراء عنایت ہوئی اور بنتِرسول کا عقد،ماہ رجب میں اللہ رب العزت کے حکم سے سیدنا ابو طالب کے مولود کعبہ صاحبزادے سیدنا علی مرتضیٰ شیر خدا سے ہوا۔بوقت عقدسیدۃالنساء پندرہ سال پانچ ماہ اور پندرہ دن جبکہ امیرالمومنین اکیس سال او ر پانچ ماہ کے تھے۔ یکم ذی الحجہ2 ھ میں رخصتی ہوئی۔ اس پر مسرت موقع پر
حوران جنت نے یہ کلمات پیش کئے ،جَعَلَ الْرَِبُّ،رَبَّۃْبَیْتِ عَلِیّاً بِِنْتِ نَبِیّاً ، بِنْتِ نَبِیّاً، مالکِحقیقی نے بنتِنبی کو علی کے گھر کی مالکہ بنا دیا۔

عقد زہراءاور یادخدیجہ الکبریٰ :
اس پرمسرت موقع پر ام المومنین حضرت ام سلمہ نے بارگاہ رسالت میں گزارش کی ،’’یا رسول اللہ !حضرت سیدہ کی رخصتی کا سامان تو تیار ہے مگر میرے دل میں ایک یاد طوفان بن کر تڑپا رہی ہے ۔
کاش آج ملکۂ اسلام حضرت خدیجہ الکبریٰ بھی اس تقریب میں شامل ہوتیں تو کس قدر خوشی و اطمینان ہوتا۔سرور کونین نے جب سیدہ خدیجہ کا ا سم گرامی سنا تو تڑپ کر رہ گئے ۔دیدار الٰہی سے منور ہونے والی
آنکھیںرحمت کے موتیوں سے بھر گئیں۔آپ کی آنکھوں کے سامنے خدیجہ طاہرہ کے آخری وقت کا حسرت آمیز منظر تھا ۔ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ہم نے حضرت خدیجہ الکبریٰ کا ذکر حضور کے سامنے کیا تو
آپ آبدیدہ ہو کر فرمانے لگے ،
خَدِیْجَہْ وَ مَنْ مِثْلُ خَدِیْجَہْ ،صَدقنِیْ وَارْزقنِیْ عَلیٰ دِیْنِ اللّٰہ وَ اَعَانَتِیْ عَلَیْہِ بِمَالھَا، خدیجہ، خدیجہ تھیں،ان کے مثل کون ہو سکتا ہے ۔انہوں نے سب سے پہلے میری نبوت کی تصدیق کی ،اپنا مال فدا کر کے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی اور بہت مصائب برداشت کئے ،کاش آج حضرت خدیجہ بقید حیات ہوتیں،دنیا سے رخصت ہوتے وقت ان کے دل میں یہی ارمان اور حسرت تھی کہ میں اپنی لخت جگر کی شادی نہ دیکھ سکی اور میں اپنی نورنظر کا جہیز اپنے ہاتھوں نہ بنا سکوں گی اور پھر وہ اسی حسرت و ارمان کے ساتھ یہ فریضہ ہمیں ادا کر نے کی وصیت کرکے فردوس بریں میں داخل ہو گئیں۔
حضور سے حضرت خدیجہ کی تعریف سن کر تمام ازواج مطہرات کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور کہنے لگیں کہ واقعی حضرت خدیجہ طاہرہ کا مرتبہ بلند اور بے مثل ہے۔سیدۃ النساء صلوٰۃ اللہ و سلامہ علیہا کو والدہ ء معظمہ کی یاداسقدر آئی کہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر اتنا روئیں کہ چادر تطہیر آنسوؤں سے تر ہو گئی۔
یَخْرُجُ مِنْہُمَ اْللُؤلُؤْوَالْمَرْجَانْ:
اس عقد مبارک کے بعدآسمان سے ایک فرشتہ بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوااور سلام عرض کر کے کہنے لگا،’’یا رسول اللہ میرا نام شیطائیل ہے اور میں عرش الٰہی پر مؤکل ہوں، اذن پروردگار سے میں آپ کو اس عقد سے اہل اور پاکیزہ نسل مقدس کی بشارت دینے کی سعادت حاصل کرنے حاضر ہوا ہوں۔میرے بعد جبرائیل بھی آرہے ہیں اور وہ آپ کو اس موقع پر عنایات الٰہی اور احکامات و انتظامات ربانی سے آگاہ کریں گے۔
یہ عقد مبارک جہاں نسل رسول کی بقا کا باعث بنا وہیں تاقیامت اسلام کی ابدی بقا اور پاسداران اسلام وپیغامات الٰہی کا بھی مصدر ثابت ہوا۔مولائے کائنات کے مخدومۂ کونین سے تین صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تشریف لائیں۔
۱۵رمضان المبارک۳ھ بمطابق ۲۸فروری۶۲۵ء پہلے صاحبزادے اور رسول اللہ کے دوسرے خلیفۂ راشد ،سیدنا امام حسن المجتبیٰ کی آمد ہوئی ۔۳شعبان المعظم ۴ھ بمطابق ۱۸ جنوری۶۲۶ء بروز جمعہ،دوسرے صاحبزادے اور سرور کونین کے تیسرے خلیفۂ راشد سیدنا امام حسین ؑشہید کربلا تشریف لائے۔۱۵جمادی الاول۵ھ میں ثانیء زہرا ،عقیلۂ بنی ہاشم ،سیدہ زینب الکبریٰ کی آمد ہوئی اور 7ھ سیدہ زینب الصغریٰ ام کلثوم کی آمد ہوئی۔۲۵ذوالحجہ ۱۰ھ کو سب سے چھوٹے صاحبزادے سیدنا محسن بن علی ،شہید جفا کی آمد ہوئی اورآپ ۱۲جمادی الاول۱۱ھ کو منافقین ودشمنان رسالت کے ہاتھوں شہید کر دیئے گئے۔

قران حکیم میں سیدہ طاہرہ کے انہی نور پاروں کو لوء لوء والمرجان کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور انہی کی عطا کو عظیم الشان فضل ایزدی قرار دے کراہل عالم سے فرمایا گیا ہے، فَباِیِّآلَائِ رَبّکِمُاَ تُکَذِّبَانْ، اور تم اپنے پروردگا ر کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
سیدنا امام حسن المجتبیٰ اور سیدنا اما م حسین شہید کربلا کی اولاد اطہارعترت بتول و ذریت رسول ہے ۔یہ حسنی حسینی سادات عظام روئے زمین پر سب سے مقدس ،محترم اور نجیب ترین خانوادہ ہیں اور اس دور میں اللہ رب العزت کا فضل خاص ہیں۔سیدنا امام حسن مجتبیٰ کی نسل مطہر آپ کے تین صاحبزادوں سیدنا قاسم شہید کربلاوسیدنا امامزادہ حسن مثنّٰی غازیء کربلا ،داماد حسین اور سیدنا زید بن امام حسن سے چلی۔سیدنا امام حسین کی ذریت طیبہ میں نو خلفاء رسول تشریف لائے جن کی اولاد اطہار سادات حسینی عالم فانی میں فیض رساں ہے۔ذریت بتول نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت ہر شعبۂ فکر و عمل میں اپنی برتری کا ثبوت دیا ہے اور خزائن عالم کو اپنے فہم و خرد سے فیضیاب فرمایا ہے۔ اسی کثرت نسل رسول کو الکوثر قراردیا گیا ہے جو آپ کی الکوثر صاحبزادی سیدہ فاطمہ الزہراسے جاری ہوئی ہے۔
جہاناں وچ نیں تھاں تھاں تے بڑے احسان زہرا دے نبی دے دین تے ہوئے ، پُتر قربان زہرادے
انوکھے نیں جہاناں توں ، نرالے نیں جواناںچوں جو پُتر نوک نیزہ تے پڑہن قرآن زہرا دے

سادات بنی فاطمہ کے لئے سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کا پدری سلسلۂ نسب امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب اور مادری سلسلۂ نسب بنت رسول اکرم کی بارگاہ میں حاضری دیتا ہے اور دوسری خصوصیت سادات کی یہ ہے کہ ان کا ظاہری بدن اور طینت حضرت فاطمہ الزہراسے متصل ہے۔قیامت تک آنے والی آپ کی ہر اولاد طینت بہشت کا جزو ہے ۔اکابر علماء اسلام اور فقراء و عارفین، سادات عظام کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔سادات کا کم عمر صاحبزادہ بھی آئے تو اس کی دست بوسی کی جاتی تھی اور راہ میں ان پہ سبقت نہ کی جاتی اور صدر مجلس میں جگہ دی جاتی۔اکابر علماء سادات جیسی نعمت پر اظہار مسرت و تشکر کا درس دیتے تھے اور فضائل سادات کی نشر و اشاعت کو کار ولایت سمجھتے تھے۔

سادات سے محبت واجب ایمانی اور اجر رسالت ہے ۔تمام ائمہ اہلبیت اطہار نے فضائل سادات سے انکار کرنے والوں کو لعنت کا حقدار قرار دیا ہے اور خارج از اسلام فرمایا ہے۔یہ سلسلہ ء نسب آدم علیہ السلام سے خاتم المرسلین تک انبیاء کرام اور خاتم المرسلین سے خاتم المعصومین امام مہدی علیہ السلام تک ،ائمہ اہلبیت عظام اور ان کی ذریت و عترت، سادات کرام پاک و پاکیزہ اور طیب و طاہر و مطاہر ہے۔طول تاریخ میں انتہائی شدت و سختی اور سادات کشی کے باوجود کرۂ ارضی پر اس خانوادۂ سیدۃالنساء کے افراد کا نظر آنا اور امور دینی و دنیاوی میں اپنی سبقت و برتری کے جھنڈے گاڑنا معجزہ ہے ۔

امیر المومنین ،سید الاولیاء،سیدنا و مولانا و مرشدنا اما م علی ابن ابی طالب اپنی ہر دعا میں ان سادات کرام کو یاد رکھتے اور فرماتے، اللّٰھُمَّ اِنَّھُمْ عِتْرَتُ نَبِیّّیک فَھَبْ مُسِیئَھُمْ لِمُحْسَنِھِمْ وَ ھَبْھُمْ لِیْ، پروردگار !یہ تیرے پیغمبر کی عترت ہیں ۔ان کے گنہگاروں کو ان کے نیک سیرت لوگوں کی وجہ سے بخش دے اور ان سب کو میری وجہ سے بخش دے۔سادات بنی فاطمہ ،پہلی صدی کے ہوں یاپندرہویں صدی کے یا قیامت کے دن کے عظمت و وقار، احترام اور نسبی فضیلت میں یکساں ہیں۔ان میں زمانی فاصلہ رکاوٹ نہیں۔ام المومنین حضرت ام سلمہ نے فرمایا،’’آل محمد کا حق تاقیامت پوری امت پر واجب ہے‘‘۔ادباء عرب میںیہ شعر معروف ہے،
اِذَا وَلَدَ الْمَوْلُودُ مِنْ نَسْلِ اَحْمَدْ لَقَدْ زَیْدُ فِیْ اَہْلِ الْمَکَارِمِ وَاحِدْ

حدیث ندا،حدیث لواء وحدیث کساء:
تاریخ اسلام میں دیگر احادیث کے ساتھ تین احادیث مبارکہ خصوصی اہمیت و امتیاز رکھتی ہیں۔سرکار دو عالم نے ندائے حق کے لئے حدیث ندا ارشاد فرمائی ۔امیر المومنین نے حدیث لواء ارشاد فرمائی اور مخدومۂ کونین نے تاقیامت بقائے ایمانِاہل حق کے لئے حدیث کساء ارشاد فرمائی۔حدیث مبارکہ کساء میں پروردگار عالم نے خانوادۂ نبوت کا تعارف اہل ارض و سماء کو آپ کے حوالہ سے کراتے ہوئے فرمایا ہے، ھُمْ فَاطِمَۃْ وَ اَبُوْھَا وَبَعْلُھَا وَبَنُوْھَا،یہ نورانی قبیلہ فاطمہ ہیںاور ان کے والد،ان کے شوہر اور ان کے صاحبزادے۔مخدومۂ کائنات کی چادر تطہیر کے باعث اسے حدیث کساء شریف کہا جاتا ہے جو اہل ایمان وپیران عظام کا وظیفہ اور انتہائی سریع و قوی الاثر فیضان طریقت کا مجرب عمل ہے۔

اس حدیث مبارکہ کو عظیم المرتبت صحابیء رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے خود اپنے کانوں سے مخدومۂ کائنات سے سماعت فرمایااور جابر بن یزید سے نقل کیا۔جابر بن یزید نے ابان بن تغلب کو سنائی جنہوں نے اسے ابو بصیر کے گوش گزار کیا۔ابوبصیر نے قاسم بن یحییٰ الکوفی سے اور قاسم الکوفی نے احمد بن محمد بن ابی انصرالبیزنطی کوسنائی جنہوں نے ابراہیم بن ہاشم کو اور ابراہیم بن ہاشم نے علی بن ابراہیم کو جنہوں نے شیخ کلینی کے گوش گزار کی ۔شیخ کلینی نے شیخ ابن بابویہ قمی کو اور انہوں نے شیخ مفید کو جنہوں نے شیخ الطائفہ سے اور انہوں نے یہ حدیث مبارکہ اپنے صاحبزادے حسن بن محمد الطوسی سے بیان کی جنہوں نے علامہ طبرسی اور انہوں نے ابن شہر آشوب جنہوں نے ابن حمزہ طوسی سے بیان کی۔ابن حمزہ طوسی نے شیخ محمد بن ادریس حلی سے ،انہوں نے ابن تماحلی سے جنہوں نے علامہ حلّی سے اور انہوں نے فخر المحققین سے جنہوںنے شہید اول سے اور انہوں نے اپنے فرزند ضیاء الدین علی سے جنہوں نے علی بن خازن الحائری سے انہوں نے احمد بن فہد الحلّی سے جنہوں نے علی بن ہلال الجزائری سے جنہوں نے شیخ علی بن عبدالعلی الکرکی سے انہوں نے شیخ مقدس اردبیلی سے جنہوں نے شیخ حسن بن زین الدین سے جنہوں شیخ الحدیث سید ماجد البحرانی سے انہوں نے سید ہاشم البحرانی سے جن سے محدث وشارح شیخ عبداللہ بن نور اللہ البحرانی نے نقل کیا ہے جو بارہویں صدی ہجری کے نامور علماء میں سے ہیں۔
اس حدیث مبارکہ کے تلاوت کرنے والے کو فرشتے گھیرے میں لے کر اس کے لئے استغفار اور اس کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور اس بات پہ سرکار دوعالم اور امیر المومنین نے مہر تصدیق ثبت فرمائی ہے۔حضرات پنجتن پاک کے نورانی اجتماع کی یہ داستان محبان سیر و سلوک اور عشق و نور کے لئے عطائے خداوندی کااحسان عظیم ہے۔

ناقۂ رسول اور آغوش بتول :
ٍ رسول اللہ سے منسوب ہر چیزشان و عظمت اور قدر و منزلت کے اعتبار سے انتہائی بلند مرتبہ ،بامعرفت اورمحترم و مکرم ہے۔آپ کے پردہ فرمانے کے بعد ایک رات مخدومۂ کائنات بیت الحزن
سے باہر تشریف لائیں تو ناقۂ رسول ’’عصبا‘‘نے آکر قدمبوسی کی اور سلام عرض کرکے کہا، ’’جگرگوشۂ رسول آپ پر سلام !آپ نے اپنے والد کے حضور کوئی پیغام بھیجنا ہو تو میں آج ہی ان کی بارگاہ میں حاضر
ہونے والی ہوں‘‘۔سیدہ ء عالمین نے یہ سنا تو والد گرامی کی یاد میں دل بھر آیااور چشم نور سے موتیوں کی لڑیاں بہنے لگیں۔آپ نے اس کی گفتگو سنی تو تڑپ کر رہ گئیں اور روتے ہوئے فرمایا،
’’میرے بابا حضور کی یادگاراور ان کی زیارت کی مشتاق اور میری ہمدرد و مونس تو بھی مجھے چھوڑ کر جا رہی ہے ؟۔جب تو میرے والد کی بارگاہ میں پہنچے تو سلام پیش کرنا اور عرض کرنا ،یا رسول اللہ !
آپ کے دیدار کا شوق مجھ پر غالب آچکا ہے ،دعا فرمائیں کہ جلد از جلد باریاب ہو جاؤں‘‘۔ناقۂ رسول کا سر اپنی آغوش رحمت میں لے کر روتے ہوئے شفقت سے اونٹنی کی گردن پر ہاتھ پھیر رہی تھیں کہ اسی
حالت میں وہ بارگاہ نبوت میں پیش ہو گئی ۔ مخدومۂ دوعالم نے ایک کمبل میں لپیٹ کر اسے دفن کروا دیا۔تین دن بعد اس جگہ کو کھدوایا گیا تو اس کا نشان بھی نہ ملا۔

وقف نامہ مخدومۂ کونین :
ابو بصیر روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا باقر العلوم نے مجھ سے فرمایا،’’کیا میں تمہیںفاطمہ الزہراکی وصیت پڑھ کر بتاؤں؟‘‘،میںنے عرض کی ،’’جی ہاں سنائیے‘‘۔آپ نے ایک صندوقچہ نکالااور اس میں سے ایک نوشتہ نکالااور اسے پڑھاجس میں یہ لکھا ہوا تھا،
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
’’یہ فاطمہ بنت محمد کا وصیت نامہ ہے۔میں وصیت کرتی ہوںاپنے ان ساتوں باغات سے متعلق جن کے نام یہ ہیں، العواف،دلال،برقہ،مبیت،حسنٰی،صافیہ اور ام ابراہیم والا باغ کہ یہ سب علی ابن ابی طالب کو دے دیئے جائیں اور جب وہ دنیا سے گزر جائیںتو ان سب کے متولی حسن ہوںگے اور جب حسن گزر جائیںتو ان کے متولی حسین ہوں گے اور حسین بھی نہ رہیں تو میری اولاد میں سے جو بزرگ ہو وہ ان کا متولی ہو گا۔اس کا شاہد اللہ ہے ،مقداد اور زبیر بن عوام ہیںاور اس کے کاتب علی ابن ابی طالب ہیں‘‘۔
مبیت،باغ سلمان فارسی ہے۔اس وقف نامہ کو سیدنا امام جعفر صادق اور سیدنا امام علی رضانے بھی روایت فرمایا ہے۔

فراق نبوی اور ایام آخر:
سرور کونین کے وصال پرملال اور اس جانگداز صدمہ کے بعد مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والی صورتحال اور منافقین کی ریشہ دوانیوںاور فتنہ پردازیوں کے باعث مخدومۂ کائنات پہ غم والم اور ہجر و فراق کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔آپ صبح و شام گریہ زاری میں مصروف رہتیں۔زیارت قبر رسول اللہ کے وقت دعا مانگتیں، اللّٰھُمَّ الْحِقْ رُوْحِیْ بِرُوْحَہُ وَاشْبِعْنِیْ بِاِلْنَّظْرِ اِلَیٰ وَجْھَہُ وَلَا تُحَرِّمْنِیْ اَجْرَہُ وَشَفَاعَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَہْ ، یا الٰہی، میری روح، حضور کی مقدس روح سے ملا دے اور حضور کے مقدس رخ انور کی زیارت سے میری آنکھیں ٹھنڈی فرمااور بروز قیامت حضور کے اجر اور شفاعت سے محروم نہ فرما۔آپ رسول اللہ کی قبر اطہر کی خاک شفا اٹھا کر مقدس آنکھوں سے لگاتیںاور فرماتیں،
مَاذَاعَلیٰ مَنْ شَمَّ الْتُّرَابَۃ اَحْمَدْ اَنْ لَا یَشُمَّ مُدَیٰ الْزَّمَانِِِغَوَالِیَا
جو شخص احمد کی قبر کی مٹی سونگھ لے اس پر لازم ہے کہ تاعمر زمانے کی کوئی اور بیش قیمت خوشبو نہ سونگھے
قُلْ لِلْمُغِیْبِِتَحْتَ اَطْبَاقِِالْثَّریٰ اِنْ کُنْتَ تَسْمَعُ فَرَقَتْ وَنِدَائِیَا
خاک کے پردوں میں چھپ جانے والے سے فرقت کے بین کہہ دیجئے
صُبَّتْ عَلَیَّ مَصَائِبٌلَوْ اَنَّھَا صُبَّتْ عَلَی الْاَیَّامِ صِرْنَ لَیَالِیَا
مجھ پر اتنی مصیبتیں آئیں کہ اگر دنوں پر ڈالی جاتیںتو وہ سیاہ ہو جاتے
قَدْکُنْتُ ذَاتَ حِمَی بِظِلّ مُحَمّدٍ لَا اَحْشِیْ ضَیْمِیْ وَکَانَ جَمَالِیَا
محمد کے سائے میں کتنی امان میں تھی ،نہ مجھے کسی ظالم کا ڈر تھا نہ کسی کو میرا حق لینے کی جرات
فَالْیَوْمَ اَخْضَعْ لِلْذَّلِیْل وَِاتْقی ضَیْمِیْ وَادْفَعْ ظَالِمِیْ بِردَائیَا
اورآج ذلیل لوگوںسے ڈرکے ان کی منت کرنا پڑ رہی ہے ،ظالم آگے بڑھتے ہیں تو چادر سے ہٹانا پڑتا ہے
سیدنا محسن کی شہادت اور در تطہیر پہ آگ لگنے اور جلتا دروازہ گرنے سے آپ کی پسلیاں مبارک ٹوٹ جانے کے باعث آپ بستر علالت پہ تشریف لے گئیں۔شب و روز آہ و زاری میں گزرتے اور بار بار غش آنے کے باعث آپ پر عالم استغراق طاری رہتا۔جسم اطہر بخار سے جل رہا تھا تو دل آتش فراق سے بریاں۔ان ایام میں حضرت فضہ و حضرت اسماء بنت عمیس امور خانہ داری سرانجام دے رہی تھیں۔

ایک دن آپ کے رخ انور سے یکدم غم و الم کے اثرات ختم ہو گئے اور یوں محسوس ہونے لگاجیسے آپ مکمل طور سے تندرست ہو چکی ہیں۔دست عصمت سے گھر کے تمام کام نبٹائے۔جگر پاروں کے کپڑے خود دھوئے۔شہزادوں،شہزادیوں کو نہلا دھلا کر اجلا لباس پہنایااور شام کو کھانا تیار فرمایا۔ امیر المومنین گھر تشریف لائے تو سیدہ طاہرہ کو ہشاش بشاش پا کر بہت خوش ہوئے اور آپ سے اس فرحت و انبساط کا سبب دریافت فرمایا۔مولائے کائنات کو مخدومۂ کائنات نے جواب میں فرمایا،

’’تاجدار ہل اتیٰ!میرے سردار!میں نے کل نہایت ہی مبارک خواب دیکھا ہے ۔دیکھتی ہوں کہ میرے دل کا سکون وقرار ،میرے ابا حضور میرے سرہانے رونق افروز ہیں اور منتظر ہیں۔آپ کے جمال جہاں آرا کی زیارت کی تو میں نے بے ساختہ فریاد عرض کی ،’’ابا حضور !آپ کہاں ہیں؟،میں آپ کے فراق میں تڑپ رہی ہوں ،دل جل رہا ہے اور روح بے قرار ہے۔میری فریاد سن کر فرمایا، ’’میری پیاری بیٹی ،میں یہاں ہوں اور منتظر ہوں ۔میں نے عرض کی کس کے منتظر ہیں ؟ارشاد فرمایا ،میری نور نظر !ہمیں آپ ہی کا انتظار ہے ۔ہجر کی گھڑیاں طویل ہو گئیں ،اب نہ تاب جدائی ہے نہ یاراء فراق، عنقریب ہماری ملاقات ہو گی۔جان پدر ،تیاری کیجئے،ہم آپ ہی کو لینے آئے ہیں۔جب تک آپ نہ آئیںگی ہم نہیں جائیں گے۔ابا حضور سے یہ خوشخبری سنی تو میرے دل کو سکون اور روح کو آرام آگیا۔میں نے عرض کی ،اباحضور ! میں تو پہلے ہی آپ کے دیدار کو ترس رہی ہوں ،مجھے جلد اپنے حضور بلا لیجئے ۔میری بے قراری دیکھ کر ارشاد فرمایا، میری لخت جگر!فکر نہ کرو ،کل ہماری ملاقات ہو گی‘‘۔

خواب بیان فرما کر خاتون جنت نے فرمایا،’’ یا علی ! اس وقت شوق زیارت کا غلبہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ آج یا کل میں اپنے والد کی بارگاہ میں پہنچ جاؤں گی۔میری روانگی کا وقت انتہائی قریب ہے ، اسی لئے میں نے آج روٹیاں پکا دی ہیں کہ کل آپ میری سوگواری اور تجہیز و تکفین میں مصروف ہوں گے اور میرے بچے بھوکے نہ رہیں۔ان کے کپڑے دھو دیئے ہیں کہ میرے بعد شاید کوئی میرے یتیموں کے کپڑے دھوئے یا نہ دھوئے اور میرے بعد ان کا حال پوچھے یا نہ پوچھے۔میں چاہتی ہوں کہ اپنے بچوں کے سروں میں کنگھی کر کے ان کی زلفیں سنوار کر دیکھ لوں، نہ معلوم ان کے غبار آلود گیسو میرے بعد کوئی دھوئے یا نہ دھوئے‘‘۔یہ گفتگو سن کر شاہِمرداں کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا ۔آپ زاروقطار روئے اور کچھ فرمانے کی کوشش کی مگر آواز گلے میں پھنس کر رہ گئی۔بمشکل تمام فرمایا،

’’اے میری رفیق و غمگسار،بنت رسول عالمین !میرے سینے پر تو ابھی تک آپ کے والد محترم کی جدائی کا غم ہی چھریاں چلا رہا ہے ،ابھی تو غم رسول ہی کے زخم مندمل نہیں ہوئے کہ آپ اپنی مفارقت کا زخم لگانے والی ہیں‘‘۔ شیر خدا درد بھری گفتگو میں ڈوبے حسرت بھری نگاہوں سے شہزادیء رسول کی جانب دیکھتے جا رہے تھے۔ حضرت علی کی غم میں ڈوبی نگاہیں دیکھ کر سیدۃ النساء العٰلمین نے فرمایا، ’’شیر خدا!صبر کیجئے اور میرے پاس بیٹھئے ،دور نہ جائیے اور مجھ سے باتیں کیجئے‘‘۔پھر آپ کی نگاہیں حسنین کریمین کی جانب اٹھ گئیں ،حسرتوں میں ڈوبی آہ سرد کے ساتھ ،غم و اندوہ میں ڈوبے آنسوؤں کا دھارا بہہ نکلا۔آپ نے اپنے شہزادوں کی طرف دیکھ کر فرمایا، ’’میرے جگر پارو!نہ جانے اب تمہیں کون کون سے صدمات اٹھانا پڑیں گے‘‘۔شہزادوں نے یہ حسرت ناک کلمات سنے تو آنکھیں اشکبار ہو گئیں ۔ سیدۂ دو عالم نے حضرت اسماء بنت عمیس سے فرمایا، ’’میرے بچوں کے لئے کھانا لاؤتا کہ میں انہیں آخری بار کھانا کھاتے دیکھ لوں‘‘۔آپ نے اپنے شہزادگان کو جنت البقیع اور روضۂ رسول پہ حاضر ہونے کا کہااور شاہ اولیا ء سے مخاطب ہوئیں ، ’’ یا علی!اب میری زندگی کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ،جو لمحات باقی ہیں مجھے سہارا دے کر میرے پاس تشریف رکھئے‘‘۔

وصیت فاطمہ الزہراء :
جناب سیدہ نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو امیر المومنین کی مقدس آنکھوں سے آنسو ابل رہے تھے۔شہزادیء کونین نے شوہر نامدار کو روتا دیکھ کر فرمایا،’’میرے سرتاج!یہ وصیت کا وقت ہے نہ کہ تعزیت کا ‘‘۔شاہ ولایت نے فرمایا،’’سیدۂ دوعالم وصیت فرمایئے میں پوری توجہ سے سن رہا ہوں‘‘۔سیدۃ النساء نے فرمایا،’’میرے سرتاج!میری چار وصیتیں ہیں، اول یہ کہ اگر میری طرف سے کبھی آپ کو کوئی تکلیف پہنچی ہو یا میں نے آپ پر کوئی زیادتی کی ہو توبراہِخدا مجھے معاف فرمایئے‘‘۔امیر کائنات نے اشکبار آنکھوں سے بھرئی ہوئی آواز میں فرمایا، ’’بنت رسول !ماشاء اللہ آپ کی طرف سے تو نہ مجھے کوئی تکلیف پہنچی اور نہ میرے دل میں کوئی شکایت ہے ۔آپ نے تو ہمیشہ میری دلجوئی فرمائی ،کبھی دل آزاری کا موقع نہ دیا ۔آپ نے ہمیشہ میری غمگساری فرمائی،غم میں نہ ڈالا ،آپ ہمیشہ میری وفادار رہیں‘‘۔

دوسری وصیت ،میرے بچوں کو ہمیشہ شفقت فرمانا ،دلداری کرنا ،پیار فرمانا ،رحم و کرم سے پیش آنا اور قیامت تک آنے والے میرے ہر بچے کو میرا سلام پہنچانا۔میری تیسری وصیت یہ ہے کہ میرا جنازہ رات کے وقت قبرستان لے جانااور رات کی تاریکی میں دفن کرنا۔چوتھی وصیت یہ ہے کہ مجھے بھول نہ جانا ،میری قبر پر آتے رہنااور دعائے خیر فرماتے رہنا‘‘۔حضرت علی نے یہ وصیتیں سن کر بے قراری وگریہ زاری سے فرمایا،’’بنت رسول !میں آپ کی تمام وصیتوں کو ایمان و دل سے قبول کرتا ہوں اور ان پر مکمل ذمہ داری سے عمل کروں گا۔اب کچھ باتیں میری بھی سن لیجئے ،پہلی بات یہ ہے کہ اگر میری طرف سے آپ کی خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو معاف فرما دیجئے ۔دوسری بات یہ ہے کہ جب آپ اپنے والد مکرم، سلطان الانبیاء کی بارگاہ قدس میں مشرف ہوں تو بصد نیاز و ادب مجھ غمزدہ،مہجور ومحزون کا سلام پیش کیجئے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اپنے والد حضور کی بارگاہ بیکس پناہ میں میری کوئی شکایت پیش نہ فرمانا‘‘۔
جناب سیدہ نے یہ گفتگو سن کر فرمایا، ’’تاجدار ہل اتیٰ ومیرے سرتاج!میں نے ہمیشہ آپ کے مقدس کردار اور حسن گفتار کا مشاہدہ کیا ہے۔اسلئے شکایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘‘۔بنت رسول اور فرزند ابوطالب کی گفتگو یہیں تک پہنچی تھی کہ حجرہ مبارک کے باہر نالہ و فریاد اور فغاں و شیون کی آوازیں بلند ہوئیں ۔سیدنا حسنین کریمین فریاد کر رہے تھے کہ والد محترم ،باب مدینۃ العلم ،ہمیں اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائیے تا کہ ہم اپنی مادر مہربان کاآخری دیدار کر سکیںاور امی جان کی خدمت عالیہ میں الوداعی نذرانہ ء سلام عرض کریں۔امیر المومنین بیقرار ہو کر اٹھے اور دروازہ کھول کر شہزادوں کو اندر لے آئے۔

انبیاء و مرسلین کی آمد:
شیر خدا نے دونوں صاحبزادوں کو آغوش رحمت میں لے کر انتہائی نوازش اور شفقت سے ارشاد فرمایا،’’جان پدر!تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ تمہاری والدہ مکرمہ داغ مفارقت دینے والی ہیں؟‘‘ ۔ شہزادوں نے عرض کی،’’والد محترم!جب ہم نانا حضور کے دربار میں حاضر ہوئے تو وہاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو یہ فرماتے سنا کہ حضرت فاطمہ زہراکے یتیم آگئے ۔حضرت اسماعیل ذبیح اللہ فرما رہے تھے ، شفیعان قیامت آگئے اور ہمارے نانا حضور فرما رہے تھے ،ہمارے جگر گوشے آگئے۔پھر ہمیں نانا جان کے روضۂ اقدس سے یہ آواز سنائی دی ،
’’میرے بیٹو!نورنگاہ مصطفٰی !واپس جاؤ اور اپنی امی جان کا آخری دیدار کر لو ،وہ ہمارے پاس تشریف لانے والی ہیںاور ہم تمام پیغمبروں کو ساتھ لے کر ان کے استقبال کے لئے آئے ہیں‘‘۔

وقت رخصت:
یہ فرما کر شہزادگان بتول نے ناقابل بیان دردانگیز آہ و گریہ زاری کی،کبھی والدہ محترمہ کے پاؤں پر چہرے ملتے اور کبھی زمین پر گر کر تڑپنے لگتے۔غم والم کا طوفان خانۂ بتول میں اٹھا تھاجس میں یتیمان بتول تڑپ رہے تھے۔شہزادوں کی آہ و زاری کی صدا سن کر آپ نے آنکھیں کھولیں اور بانہیں پھیلا کر رسول اللہ کے نواسوں کو آغوش رحمت میں لے کر فرمایا، ’’مظلومان مادر!خداجانے میرے بعد آپ کا کیا حال ہواور آپ کے دشمن آپ پر کون کون سی جفائیں روا رکھیں‘‘۔آپ نے اپنی صاحبزادیوں سیدہ زینب و سیدہ ام کلثوم کو طلب فرما کر حسنین کریمین کے سپرد فرمایا۔پھر ان سب کو امیر المومنین کے سپرد فرما کر سفارش فرمائی اور سب کو روضۂ رسول حاضری کے لئے روانہ فرما کر ام المومنین حضرت ام سلمہ کوبلا کر فرمایا،

’’امی جان !میرے لئے پانی کا انتظام فرمائیں تا کہ میں غسل کر لوں۔سیدہ طاہرہ نے غسل فرما کر صاف ستھرالباس طلب فرمایا اور وہ پہن کر اپنا دایاں ہاتھ مبارک،دائیں رخسار اطہر کے نیچے رکھ کر لیٹ گئیں۔بعد ازاں آپ نے حضرت اسماء بنت عمیس کوپاس بلا کر ارشاد فرمایا،’’جب میرے ابا حضور بستر علالت پہ تھے تو اس وقت ایک روز جبرائیل بہشت سے کافور لائے تھے۔اس خوشبوئے فردوس کے تین حصے کر کے ایک حصہ میرے ابا حضور کے جسد اطہر کو لگا دیا گیا تھا اور باقی دو حصے محفوظ کر دیئے گئے تھے۔ جن میں سے ایک حصہ میرے لئے ہے،وہ مجھے لا دواور ایک حصہ حضرت علی مرتضٰی کے لئے ہے اسے حفاظت سے رکھ دو۔وہ کافور آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ملکۂ عظمت وتقدیس، رشک مریم ، سیدۃالنساء العٰلمین، طیبہ ،طاہرہ،مخدومۂ کائنات ،سیدہ بتول عذراء نے حضرت اسماء بنت عمیس سے فرمایا، آپ تھوڑی دیر کے لئے باہر چلی جائیںتا کہ میں بارگاہ خداوند قدوس میں اپنی معروضات و مناجات پیش کر سکوں۔اس کے بعد شہزادیء رسول نے بارگاہ قاضی الحاجات میں رو رو کر دعا فرمائی۔

ا مّتی امّتی:
حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ بنت رسول دعا مانگ رہی تھیں،’’پروردگار!میرے ابا حضور کے صدقہ میںاور میرے ابا حضور کے اس شوق کے صدقہ میں جو انہیں میری ملاقات کا ہے،یااللہ!حضرت علی المرتضٰی کے اس درددل اور آہ زاری کے صدقہ میں جو انہیں میرے فراق میں میں درپیش ہے،یا اللہ !میرے حسن و حسین کے سوز و الم اور درد و غم میں ڈوبے ہوئے چہروں کے صدقہ میں ،اے میرے خالق! میری یتیم ہو نے والی بچیوں کے رونے،تڑپنے اور آہ و فغاںکے صدقہ میں میرے والد ماجد کی امت کے گنہگاروں پر رحم فرما ۔یا اللہ !میرے ابا حضور کی امت کے عاصیوں سے در گزر فرما‘‘۔

حضرت اسماء فرماتی ہیںکہ حضرت سیدہ صلوٰۃاللہ و سلامہ علیہاکی اس فریاد و مناجات نے مجھے تڑپا کر رکھ دیا اور میری آنکھوں سے انسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا ۔میں نے بے قرار ہو کر دروازہ کھولا اور بارگاہ سیدہ میں پہنچ گئی ۔جناب سیدہ نے آہٹ پا کر مبارک آنکھیںاوپر اٹھا کر ارشاد فرمایا،’’اسماء !میں نے تمہیں بلا اجازت اندر آنے سے منع نہیں کیا تھا ،جاؤ اب پھر باہر چلی جاؤاور مجھے علیحدہ رہنے دواور میرا انتظار کرو۔میں نے تھوڑی دیر بعد بلا لیا تو بہتر، ورنہ جان لینا کہ میں بارگاہ حقیقی میں اپنے اباجان کے حضور حاضر ہو چکی ہوں‘‘۔
حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میں نے جناب سیدہ کے حکم کے مطابق کچھ دیر انتظار کیا اور پھر دروازے پر آہستہ سے آواز دی ،’’یا قرۃ عین الرسول ‘‘،اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔میں نے دوبارہ آواز دی ، ’’ یا سیدۃ النساء ، یابنت المصطفٰی ‘‘ مگر کوئی جواب نہ ملا۔پھر مجھے طاقت انتظار نہ رہی تو میں اندر چلی گئی ۔آپ کے رخ انور سے چادر تطہیر کا آنچل اٹھا کر دیکھا تو شہزادی ء کونین اپنےوالد بزرگوار کی بارگاہ میں مشرف دیدار ہو چکی تھیں۔

وصال حق:
شہزادیء کونین کی بارگاہ ایزدی میںحاضری کے لئے اللہ رب العزت نے ملک الموت عزرائیل کو حکم دیا تو مقرب فرشتہ گردن جھکا کر خاموش ہو گیا۔اِدھر حکم پروردگارہے اُدھر احترام شہزادیء کونین ۔یہ مقام عظمت ہے بنت رسول کا جنہیں سورج،چاند،ستارے نہ دیکھ پائے اور نہ آپ پر کسی فرشتے کی نگاہ پڑی۔حضرت عزرائیل کی مجبوری بارگاہ خداوندی میں برحق تھی۔لہٰذااللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے اپنے محبوب کی لخت جگر کی روح مبارک کو اپنی رحمت میں لپیٹ لیا۔
بپاس پردہ ملک الموت کے انکار کرنے پر خدا نے قبض فرمائی تھی خود ہی جان زہرا کی
خانوادۂ نبوت کی حور،ملکۂ تقدس ،مصداق تطہیر،شہزادیء عصمت و عفت،بانوئے تاجدار ہل اتیٰ،مادر حسنین کریمینٍ،پناہ زینب و ام کلثوم،مخزن فقر و غنا،محسنۂ کائنات،معصومہ و مخدومۂ کائنات ، بنت رسول،عذرا بتول،سیدہ فاطمہ الزہراصلوٰۃ اللہ و سلامہ علیہا و علیٰ ابویہ الکریمان،بستر استراحت پر سر اقدس کے نیچے دایاں ہاتھ رکھے،قبلہ رو ابدی نیند سو رہی تھیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
۔
فراق بتول :
شہزادیء کونین کو ابدی نیند سوتا دیکھ کر اسماء بنت عمیس کی چیخ نکل گئی۔آپ نے اپنے رخسار ،بنت رسول کے پائے اقدس سے ملنا شروع کئے اور عرض کی ،’’اے عذرا بتول !اے نور مصطفٰی !جب آپ اپنے ابا حضور سے ملاقات کریں تو بحضور رحمت اللعا لمین میرا سلام پیش فرمائیں۔

اسی وقت حسنین کریمین واپس تشریف لائے اور حضرت اسما سے اپنی امی جان کا حال دریافت فرمایا۔جناب اسما نے شہزادوں کا سوال سنا تو لرز کر رہ گئیں۔دھڑکتے دل اورکانپتے ہاتھوں سے چادر تطہیر کا آنچل مبارک اوپر اٹھایاتو شہزادوں نے الفراق ا لفراق پکارنا شروع کیا اور روتے ،چیختے،تڑپتے اور آہ و فغاں کرتے مسجد نبوی تشریف لے گئے۔آپ کی گریہ زاری سے امیر کائنات جدائی کاتصور فرماتے عالم استغراق میں تشریف لے گئے۔صحابۂ کبار نے پانی لا کر چہرۂ اقدس پہ چھینٹے دیئے تو آپ نے آنکھیں کھولیں اور اپنے جگر پاروں کے ہمراہ کاشانۂ بتول تشریف لائے۔آپ شدت غم سے کانپ رہے تھے۔حیدر کرّار جنہیں میدان جنگ میں دیکھ کر دشمن انبوہ درانبوہ کانپا کرتے ،جو میدان جنگ میں آہنی چٹان نظر آتے،وہی فاتح خیبر فراق بتول میں کانپ رہے تھے ۔آپ کی مبارک آنکھیں جو دشمنان خدا و رسول پر قہر کی بجلیاں گرایاکرتیں، ہجر بنت رسول میں آنسوؤں کی لامتناہی برسات برسا رہی تھیں

آپ کاشانۂ بتول میں تشریف لائے تو اور بھی بے قرار ہو گئے ۔شہزادیوں کی آہ و زاری سنی تو اور بھی غمگین ہو گئے ۔شہزادیوں کی فریادیں سنیں تو آہ و فغاں فرمانے لگے۔ اس موقع پر آپ نے بے ساختہ فرمایا، حَبِیْبُُ غَابَ عَنْ عَیْنِیْ وَجِسْمِیْ وَعَنْ قَلْبِیْ حَبِیْبِیْ لَا یَغَیْبْ۔ تاجدار ولایت بچوں کو باری باری گود میں لیتے اور اپنے عمامہ سے ان کے آنسو پونچھتے مگر آپ کے اپنے آنسوؤں کا دھارا بدستور تیزی سے بہہ رہا تھا۔

مرثیہ:
مخدومۂ کائنات کے وصال پرملال کے جانگداز صدمہ میں باب مدینۃالعلوم نے متعدد مرثیہ جات ارشاد فرمائے ۔چند اشعار اسطرح ہیں،

اَرَیْ عِلَلَ الْدُّنْیَاعَلَیَّ کَثِیْرَۃٌ وَصَاحِبُہَاحَتّٰی الْمَمَاتُ عَلِیْلٌ
دنیا میں رہنے والاموت کے وقت تک مصیبت زدہ رہتا ہے اور میں اپنے اوپر مصائب کو بہت زیادہ پاتا ہوں۔
وَاِنّیْ لَمُشْتَاقٌاِلیٰ مَنْ اَحَبُّہْ فَہَلْ لِیْ اِلیٰ مَنْ قَدْہَوَیْت سَبِیْلٌ
میںمحبوب سے ملنے کا مشتاق ہوں ۔کیا میرے لئے ان تک پہنچنے کی کوئی سبیل ہے ۔
وَاِنّیْ وَاِنْ شَطَتُّ بِیْ الْدَّارُنَارہا وَقَدْمَاتَ قَبْلَ بالْفِرَاق جَمِیْلٌ
اس گھر نے مجھے ایک پاک دامن سے علیحدہ کر دیا ہے ۔میرے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ میں اس سے پہلے( ان کے والد)اور صاحب کمال کو خیر باد کہہ چکا ہوں۔
فَقَدْقَالَ فِیْ الْامْثَال فِیْ الْبَیْن قَائِلٌ اَفَرُّبِہَایَوْمُ الْفِرَاقِ رَحِیْلٌ
جدائی کی امثال میں کسی نے کہا ہے کہ میں جدائی کے دن کوچ سے بھاگتا ہوں۔
لِکُلّ اجّتِمَاع مِنْ خَلِیْلَیْن فُرْقَۃٌ وَکُل الَّذِیْ دَوْنَ الْفِرَاق قَلِیْلٌ
دو دوستوں کا اجتماع جدائی پر جا کے ختم ہوتا ہے اور ہر مصیبت جدائی اور موت کے مقابلہ میں کم ہے
اِنْ اِفْتِقَادِیْ فَاطِماًبَعْدُاَحْمَد دَلِیْلٌعَلیٰ اَنْ لَا یَدُوْمُ خَلِیْلٌ
حضرت محمد مصطفٰی کے بعد میرا بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا کو کھو دینا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی دوست ہمیشہ رہنے والا نہیں۔
وَکَیْفَ ھُنَاکَ الْعَیْشُ مِنْ بَعْدُفَقَدْہَمْ لَعُمْرُکَ شَیئٌ مَااِلَیْہِ سَبِیْلٌ
ان کے فوت ہونے کے بعد زندہ رہنا کیسے ممکن ہے ۔مجھے آپ کی حیات کی قسم یہ ایسی بات ہے جس کے بغیر چارہ نہیں۔
یُریْدُالْقُرآنَ لَایَمُوْتَ حَبِیْبُہْ وَلَیْسَ اِلٰی مَایَبْتَغِیْہِ سَبِیْلٌ
انسان چاہتا ہے کہ اس کا حبیب اس سے علیحدہ نہ ہو۔حالانکہ اس خواہش کا پورا ہونا غیر ممکن ہے ۔
وَلَیْسَ جَلِیْلًارَزْء مَالٌوَفَقْدُہْ وَلٰکِنَّ رَزْئَ الْاَکْرَمِیْنَ جَلِیْلٌ
مال کی مصیبت اور اس کا ضائع ہونا کوئی بڑی بات نہیں ۔لیکن اچھے لوگوں کی جدئی کی مصیبت بہت سخت ہے ۔
لِذَالِکَ حَبِبْنِیْ لَایوَاتِیْہِ مضْجَحْ وَفِیْ الْقَلْب مَنْ حَرَّالْفِرَاق غَلِیْلٌ
یہی وجہ ہے کہ مجھے کوئی بستر راس نہیں آتااور دل میں فرقت کی تپش کے باعث پیاس پائی جاتی ہے ۔

فردوس بریں:
۳جمادی الثانی ۱۱ھ سرور کونین کے وصال کے تین ماہ بعدعطائے الٰہی کی بارگاہ ایزدی میں واپسی کے بعد،آپ کی وصیت کے مطابق رات کی تاریکی میںنماز جنازہ ادا کر کے آپ کے حجرہ مبارک ہی میں دفن کر دیا گیا۔امیر کائنات نے آپ کا جنازہ پڑھایااور اپنے دست مبارک سے آپ کو دفن فرمایا۔منافقین کے قبر مبارک کی بیحرمتی کے عزائم کو مد نظر رکھتے ہوئے جنت البقیع میںسات قبور تیار کیں اورچالیس قبورپر پانی چھڑکاتا کہ شہیدۂ مظلومہ کی قبر مبارکہ مشتبہ ہوجائے ۔ر صبح جب طویل القامت رئیس المنافقین نے قبر زہرا اکھاڑنے کا ارادہ ظاہر کیا تو شیر خدا نے گردن سے پکڑ کر اٹھا کے زمین پہ دے مارا اور تیغ ذو الفقار کی یاد دلا کر فرمایا کہ اگر اس ناپاک جسارت کی کوشش کی گئی تو میں خون کی ندیاں بہا دوں گا۔

کس قدر احسان ہے مخدومۂ کونین کا
ممنون خود رحمان ہے مخدومۂ کونین کا
وہ عطائے ایزدی وہ ہیںخدیجہ کی عطا
خلد اک ایوان ہے مخدومۂ کونین کا
آپ ہیں سرکار کی لخت جگر،نورنظر
جبریل بھی دربان ہے مخدومۂ کونین کا
آپ نے بخشی جہاں کو روشنی ہردور میں
دین حق فیضان ہے مخدومۂ کونین کا
آپ کے بیٹے ہیںسردارِجناںو کائنات
یہ سروسامان ہے مخدومۂ کونین کا
یہ عطائے فاطمہ زہرا کا صدقہ ہے عباس
تو یکے غلمان ہے مخدومۂ کونین کا

سجادہ نشین ڈاکٹرپیر سید علی عباس شاہ

SHARE

LEAVE A REPLY