بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ہندو انتہا پسند یوگی آدیتیاناتھ کو ریاست اتر پردیش کا نیا وزیر اعلیٰ نامزد کردیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوگی آدیتیاناتھ اپنے کٹر ہندوتوا نظریے کی وجہ سے مشہور ہیں اور کئی بار مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے خلاف سخت بیانات دے چکے ہیں۔

یوگی آدیتیاناتھ ہندو انتہا پسند تنظیم ’ہندو یووا واہینی‘ کے سربراہ بھی ہیں، جس پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

لوک سبھا میں اپنی پروفائل میں اتر پردیش کے نامزد وزیر اعلیٰ نے خود کو ’مذہبی مشنری اور سماجی کارکن‘ بنا کر پیش کیا ہے۔

اتر پردیش میں حالیہ انتخابات میں انہوں نے ہندوؤں کے خلاف امتیازی سلوک کے دعوے کرکے ریاست کے عوام میں مسلمان مخالف جذبات کو ابھارا۔

یوگی آدیتیاناتھ نے ہندو اور مسلم تہواروں میں توانائی کی فراہمی اور قبرستانوں اور کا الزام لگایا شمشان گھاٹ کے لیے زمین مختص کرنے میں امتیاز برتنے کا بھی الزام لگایا۔

ان پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذاہب کی جبری تبدیلی کی مہم ’گھر واپسی‘ کی قیادت کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر بگاڑ آنے کے بعد یوگی آدیتیاناتھ نے پاکستانی اداکاروں کی حمایت میں بولنے والے بولی وڈ اداکاروں کے خلاف بھی سخت بیانات دیئے تھے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یوگی آدیتیاناتھ 19 مارچ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY