اسرائیل نسل پرست ، رپورٹ واپس لینے کے دباؤ پر اقوام متحدہ کی اہلکار مستعفی

0
75

اسرائیل کو نسل پرست ریاست قرار دینے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کی سربراہ ریما خلف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ریما خلف نے اپنا استعفیٰ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے رپورٹ واپس لینے کے لئے دبائو ڈالنے پر احتجاجا دیا ہے۔

اسرائیل کے بارے میں یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے مغربی ایشیا کے معاشی اور سماجی کمیشن کی طرف سے شائع کی گئی تھی جس کی سربراہ اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری ریما خلف تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی رپورٹ تھی جس میں اسرائیل کو نسل پرست قرار دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے اپنے آپ کو اس رپورٹ سے علیحدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ رپورٹ اس کے مرتب کرنے والوں کے خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔

اردن سے تعلق رکھنے والی ریما خلف نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پیش کر دیا ہے۔ سیکریٹری جنرل ان پر رپورٹ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ ریما خلف نے کہا ہے کہ بلا شبہہ ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد شدید دباؤ ڈالیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد شدید احتجاج کیا تھا اور اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اسرائیل کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ جس کے بعد اسرائیل سے متعلق یہ رپورٹ جمعہ کو اقوام متحدہ کی ویب سائٹ سے ہٹالی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو نسل پرستانہ جرائم کا مرتکب قرار دینے سے پہلے انہوں نے بڑی جامع اور عالمانہ تحقیق کی ہے اور ان کے پاس بے انتہا ثبوت موجود ہیں جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی 1967 سے اسرائیل کے تسلط میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 5 لاکھوں یہودیوں کو آباد کرنے کے لیے بستیاں تعمیر کی ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY