سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ میں بھاگنا والا نہیں، الزامات کا سامنا کرنے وطن واپس آیا ہوں، ملک میں دو قانون ہیں، شریف برادران سمیت میگا اسکینڈل والوں کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے، کیا نیب صرف پیپلزپارٹی کے لیے بنا ہے؟ـ

نیب کو مطلوب سندھ کے سابق وزیر شرجیل میمن نے گرفتاری و رہائی کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میرا کراچی میں بھی علاج چل رہا تھا ، تکلیف بڑھنے پر ڈاکٹرز نے باہر جانے کی تجویز دی ،اس وقت کے وزیراعلیٰ سے اجازت لے کر باہر گیا ، اس کےبعد اچانک ای سی ایل میں میرا نام آگیا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اور نیب کو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں ملک میں نہیں ہوں، اس دن تک مجھے کسی قسم کا نوٹس نہیں ملا تھا ، براہ راست ای سی ایل میں نام ڈالنا انتہائی قدم ہے، جتنی بھی کارروائیاں ہوئی ہیں میرے ملک سےباہر جانے کے بعد ہوئیں، اکتوبر دو ہزار سولہ میں پہلی ضمانت لی ، اس وقت بھی کسی سرگرمی کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ میرا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ، ہمارے لیے تو بالکل مختلف قانون ہے ، میرے گھر سے رقم برآمدگی کی غلط خبر چلائی گئی جس پر میں نے نوٹس بھی بھیجا ، میں تمام الزامات کا سامنا کرنے کے لیے وطن واپس آیا ہوں، مجھ پر پانچ چھ سو صفحات کا ریفرنس بنایا گیا ہے ، اگر میں ملوث پایا گیا تو کسی سے رحم نہیں مانگوں گا ، میری غلطی ہے تو سزا دیں ، کرپشن کے الزامات فخر کی بات نہیں۔

ان کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے کہ نیب کا رول کیا ہے، اگر اس ملک میں قانون ایک ہے تو میگا اسکینڈلز والوں کے نام تو ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے، نواز شریف، شہباز شریف کے نام تو ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے ، نیب اگر بنی ہے تو صرف سندھ اور پیپلز پارٹی کے لیے بنی ہے، دو قانون کیوں ہیں ، یہ میرا سوال ہے، نیب کیا پیغام دے رہی ہے ، اگر چیرمین نیب میں اتنا حوصلہ ہے تو وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالے۔

سابق وزیر کا کہنا تھا کہ ہر شخص کے لیے الگ قانون ہے ، پورے ریفرنس میں میرے نام پر ایک روپے کمیشن کا بھی الزام نہیں ، صرف منظوری دینے کاالزام ہے، نیب نے ساری کارروائیاں صرف سندھ میں کرنی ہیں ، کیا پاکستان میں پنجاب نہیں آتا، نیب کی مجال ہے کہ پنجاب میں گھس کر دکھائے، رانا مشہود کی ویڈیو کوئی نہیں دیکھتا ،کوئی ایک ادارہ تو کہے کہ اس نے نوٹس بھیجا اور میں نہیں آیا ، میں جہاز سے اترا اور اچانک سے آٹھ دس لوگ سامنے آگئے ، میں نے صرف ایک سوال پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں ، لیکن بتایا نہیں گیا۔

شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ یہ جنگل کا قانون ہے ، کیا وہ ہمیں چہروں سے نہیں جانتے تھے ، یہ گرفتار ی نہیں تھی ، یہ اغوا تھا، بغیر تعارف کرائے سادہ لباس میں مجھے اٹھایا گیا ، راستے میں گاڑیاں تبدیل کی گئیں ، اگر آپ کو ضمانت پر اعتراض ہے تو میں ضمانت لینے بھی نہیں جاتا ، میں توہین عدالت کی درخواست نہیں دوں گا ، جنہوں نے کل غیر قانونی اقدام اٹھایا انہیں معاف کیا۔

سابق وزیر نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں چودھری نثار اور شریف برادران کی مہمان نوازی پر مشکور ہوں، جو لوگ مجھے لے گئے انہوں نے بدسلوکی نہیں کی

SHARE

LEAVE A REPLY