روسی پارلیمان کے ایوان زیریں نے اس بات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ کیا امریکی نشریاتی ادارے آر ایف ای/آر ایل (ریڈیو فری یورپ/ ریڈیو لبرٹی)، وائس آف امریکہ اور سی این این روس کے قواعد و ضوابط کی پابندی کر رہے ہیں۔

روس کی اسٹیٹ ڈوما کی طرف سے اس اقدام کی منظوری 17 مارچ کو ایک ایسے وقت دی گئی جب ڈیموکریٹ امریکی سینیٹر جین شاہین نے ایک بل پیش کیا جس میں محکمہ انصاف سے کہا گیا ہے کہ وہ روس کے سرکاری ٹی وی چینل آر ٹی کی فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کی ممکنہ خلاف ورزی کے معاملے کی چھان بین کرے۔

روس کی پارلیمان کے ایوان زیریں نے اس اقدام کی منظوری صدر ولادیمر پوٹن کی جماعت یونائیٹد رشیا پارٹی کے رکن کونسٹینٹن زاتولن کی تجویز پر دی ہے جسے روسی پارلیمان میں اکثریت حاصل ہے۔

روسی قانون سازوں نے اس اقدام کی منظوری 17 مارچ کو دی تھی جس میں پارلیمان کی ایوان زیریں کی اطلاعات کی پالیسی سے متعلق کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کی چھان بین کریں کہ کیا وی او اے، سی این این اور وی او اے کی روسی سروس ملکی قوانین کی پابندی کر رہے ہیں۔

زاتولن نے خصوصی طور اس بل کو امریکی سینٹر شاہین کے بل سے جوڑا ہے جس میں امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے کہ آر ٹی کریملن کی ہیکنگ اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کی اس مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حریف صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن کی گزشتہ سال کے صدارتی انتخاب میں شکست دینے میں مدد کرنا تھا۔

روسی ٹی وی چینل ‘آرٹی’ اور کریملن اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ اس کی ادارتی پالیسی آزاد ہے اور یہ کریملن کے تحت نہیں ہے۔

آر ایف ای/آر ایل اور وی او اے براڈکاسٹنگ بورڈ آف گورنر کے تحت کام کرتے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر سول حکومت کی نشریات اور میڈیا آپریشن کی نگرانی کرتا ہے۔

وی او اے ایک وفاقی ادارہ ہے جبکہ آر ایف ای/ آر ایل ایک غیر منافع بخش غیر سرکاری تنطیم ہے جسے کانگرس کی طرف سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

دوسری طرف سی این این کو بھی امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت اور صدارتی انتخاب سے پہلے ٹرمپ کی مہم کے بعض افراد کے روسی عہدیداروں کے ساتھ میبنہ رابطوں سے متعلق خبریں نشر کرنے کی وجہ سے ہدف بنایا جا رہا ہے۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا ذخاروف نے رواں ماہ قبل ازیں سی این این پر ” جھوٹی خبریں”پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا جکبہ ٹرمپ بھی تواتر کے ساتھ اسی حوالے سے اس پر تنقید کر چکے ہیں۔

شاہین نے آر ایف ای/آر ایل کو بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کی طرف سے پیش کیے جانے والے بل کی وجہ سے کریملن اور روسی پارلیمان کے ایوان زیریں کے ارکان کو پریشانی ہوئی ہے۔

شاہین نے ایک بیان میں کہا کہ “میرا بل سیدھا سادہ ہے، آرٹی نیوز نے کھلے عام یہ فخریہ طور پر کہا تھا کہ وہ فرضی کمپنی کے ذریعے ہمارے قوانین کو دھوکا دے سکتا ہے۔ اور اس (مجوزہ) قانون سازی کے ذریعے محکمہ انصاف کو اس معاملے کی چھان بین کرنے کا وہ اختیار مل جائے گا جس کی اسے ضرورت ہے۔”

فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ ایک دس سال پرانا قانون ہے جو اس بات کو ضروری قرار دیتا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص یا ادارہ کسی غیر ملکی حکومت کی طرف سے امریکہ میں “سیاسی یا نیم سیاسی حیثیت میں کام کرتا ہے” تو اسے محکمہ انصاف کے پاس اندراج کروانا ضروری ہے

VOA

SHARE

LEAVE A REPLY