ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 19 سال بعد ہونے والی مردم شماری کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘انہیں مردم شماری کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں، معلومات تک رسائی ہمارا بنیادی حق ہے جبکہ مردم شماری میں کئی اہم معاملات کو خفیہ رکھا گیا ہے’۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق ‘موجودہ طریقہ کار میں شفافیت کا فقدان ہے جس کی وجہ سے مردم شماری کا تمام عمل مشکوک ہوسکتا ہے, جو پاکستان اور وفاق کی سالمیت کے لیے خطرناک ہوگا’.

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ‘مردم و خانہ شماری میں جو معلومات اکھٹی کرکے مرتب کی جائیں، انھیں اُسی وقت ویب سائٹ پر مشتہر کیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ ان کے علاقے میں ہونے والی خانہ شماری میں کتنے گھر سامنے آئے ہیں’۔

طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ‘یہ نہ ہو کہ لوگ معلومات سے لاعلم رہیں اور تمام معلومات اسلام آباد روانہ کردی جائیں’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اگر میں بحیثیت شہری مردم شماری کرنے والے عملے کو معلومات فراہم کرتا ہوں تو میرے پاس بھی اس کا ثبوت موجود ہونا چاہیئے، یہ نہ ہو کہ میں معلومات فراہم کردوں اور مجھے ایک سال بعد علم ہو کہ میرے حوالے سے ریکارڈ میں شامل معلومات وہ نہیں جو میں نے فراہم کی تھیں’۔

SHARE

LEAVE A REPLY