پنجاب یونیورسٹی میں ثقافتی پروگرام کے دوران طلبہ کے 2 گروہوں میں ہونے والے تصادم میں 5 طالب علم زخمی ہوگئے۔

جامعہ پنجاب میں طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا، تقریب کے دوران دوسری تنظیم کے طالب علموں نے دھاوا بولتے ہوئے ڈنڈے اور پتھر برسانے کا سلسلہ شروع کردیا۔

طلبہ میں بڑھتے ہوئے تصادم کو دیکھتے ہوئے پولیس نے جامعہ پنجاب میں مزید نفری طلب کی،تاہم دونوں گروہوں کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ اور ڈنڈوں سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ز
مشتعل طلبہ نے نہ صرف تقریب کے لیے لگائے گئے ٹینٹ اکھاڑ دیئے بلکہ متعدد کیمپس کو نذرِ آتش کردیا۔

بعد ازاں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کے ذریعے مشتعل طلبہ کو قابو کیا، جبکہ فوری طور پر کسی کے گرفتار کیے جانے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

تصادم کے نتیجے میں 5 طلبہ زخمی ہوئے، جنہیں جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا، یہ واضح نہ ہوسکا کہ زخمی ہونے والے طلبہ کسی تنظیم سے تعلق رکھتے تھے، یا عام طلبہ تھے۔

واضح رہے کہ تصادم کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ مکمل طور پر جائے وقوع سے غائب ہوگئی، جبکہ پولیس نے جامعہ کے احاطے کو کلیئر کرالیا۔

‘کچھ افراد جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹرز سے آئے تھے’
ڈان نیوز سے گفتگو میں وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی میں کلچرل شو جاری تھا جس کا انعقاد انتظامیہ سے اجازت طلب کرنے کے بعد کیا گیا تھا تاہم اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے یہاں ہنگامہ آرائی کی۔
رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق کچھ طلبہ یونیورسٹی سے تھے جبکہ کچھ افراد جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر سے آئے تھے تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں جس کے بعد ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی جب کبھی اس طرح کے تصادم سامنے آئے ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے اور اب بھی ایسا ہوگا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کی توجہ واقعے کی جانب مبذول کراتے ہوئے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیئے، ایک طرف سراج الحق دہشت گردی کے خلاف، نیشنل ایکشن پلان کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ان کے اپنے لوگ کس طرح کی کاروائیوں میں ملوث ہیں۔

صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پولیس کو ہدایت دی جا چکی ہے کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور انہیں گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا جائے

SHARE

LEAVE A REPLY