لندن میں پارلیمان کے باہر حملہ کرنے والے مشتبہ شخص کی پہلی تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں۔برطانوی روزنامے ڈیلی میل کے مطابق ایک اسٹریچر پر جس باریش نوجوان کو طبی امداد دی جارہی ہے،دراصل وہی حملہ آور ہے۔ وہ پولیس کی گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا اور بعد میں دم توڑ گیا تھا۔
بعض میڈیا ذرائع نے اس حملہ آور کی شناخت ابو عزالدین کے نام سے کی ہے۔ وہ ٹریور بروکس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور کلیٹن، ہیکنی سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ منافرت آمیز تقاریر کرتا رہا ہے۔برطانیہ کے بعض میڈیا ذرائع نے اس اطلاع کے ساتھ ابو عزالدین کی بعض تصاویر بھی جاری کی ہیں لیکن العربیہ فوری طور پر ان معلومات کی تصدیق نہیں کرسکتا ہے۔
لندن کے قلب میں واقع پارلیمان کی عمارت کے باہر اور ویسٹ منسٹر کے علاقے میں بدھ کو پیش آئے اس واقعے میں اس حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اس حملہ آور نے مبینہ طور پر پہلے پارلیمان کے باہر راہگیروں پر اپنی کار چڑھا دی تھی جس سے کم سے کم بیس افراد زخمی ہوگئے۔
پھر اس نے اپنی کار پارلیمان کی عمارت کے جنگلے سے ٹکرا دی تھی۔اس کے بعد اس نے ایک پولیس اہلکار کو چھرا گھونپ دیا تھا۔برطانوی پولیس نے اس لمحے اس حملہ آور کو گولی مار دی تھی۔ پولیس نے اس کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ حملہ آور دو ہوسکتے ہیں اور وہ دوسرے حملہ آور کی تلاش میں ہے۔
یہ سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا اور ابتدا میں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اچانک اتنے لوگ کیسے زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔اس واقعے کے فوری بعد پارلیمان کی عمارت کو سیل کردیا گیا اور ارکان پارلیمان اور عملہ کو اندر ہی رہنے کی ہدایت کی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY