حضرت صدیق ِا کبر (رض) (3)۔۔۔از ۔۔ شمس جیلانی

0
139

گزشتہ قسط میں ہم یہاں تک پہونچے تھے کہ ابن ِ داغنہ کی پناہ کی وجہ سے انہیں مکہ معظمہ میں دوبارہ رہائش کا موقعہ مل گیا۔مگر ان کا گھر سے باہر چبوترہ بنا کر وہاں عبادت کرنا اور نماز پڑھنا کفار نے پھر وجہ ِ غوغا آرائی بنا لیا ، حضرت ابو بکر (رض) نے موقعہ کی نزاکت سمجھتے ہوئے ، ان کا یہ مطالبہ مان لیا کہ وہ باہر قرآن نہ پڑھیں اور اس طرح معاملہ رفع دفعہ ہوگیا۔ مورخین میں اس پر اختلاف ہے کہ حضرت اابوبکر (رض) کو شرف ِ دوستی حضور (ص) سے کب حاصل ہوا ، کچھ نے لکھا ہے کہ دونوں ہی راہ حق کے مسافر اور ہم عمر تھے۔ لہذا بچپن سے ہی دوستی تھی۔ کچھ کا خیال ہے کہ جب حضور (ص) سے حضرت ابوبکر (رض) کو حضور (ص) ساتھ شرفِ ہمسایگی حاصل ہوا تودوستی زیادہ بڑھی۔ واللہ عالم

شرف ِ ہمسا یہ گی ۔ اس سلسلہ میں علامہ سیو طی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کو حضور (ص) سے شرف ِہم سایہ گی اس وقت حا صل ہوا جبکہ حضو ر (ص) حضرت خدیجہ (رض) کے ساتھ نکا ح کر نے بعد اپنا آبائی گھر چھوڑ کر ان کے گھر منتقل ہو گئے۔چو نکہ دو نوں کے مکا نات اس وقت کی متحمو ل آبادی میں تھے۔ اور دو نوں ہی تجارت پیشہ اور ہم خیال بھی تھے ۔لہذا ان دو نوں میں تعلقات بڑھتے گئے ۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) نے اسلام قبول کر نے میں جلدی اس لیئے کی کہ وہ اس قافلہِ تجارت میں بھی شامل تھے جس میں بہیرہ را ہب نے حضور (ص)کے نبی ہو نے کی پیشنگو ئی کی تھی اس کے علاوہ ان کے ساتھ حضور (ص) کے ساتھ اپنے وہ مشا ہدات جو دعویٰ نبوت سے پہلے انہیں (ص)ہو تے تھے اس میں ان کو ہم راز بنایاکر تے تھے۔لیکن اس بارے میں وہ بھی متفق ہیں کہ جب حضور (ص) نے دعوت دینا شروع کی تو وہ بغرض تجارت یمن میں تھے جبکہ دوسرے مورخوں نے شام لکھا ہے بہر حال وہ اسوقت مکہ معظمہ میں موجود نہ تھے اور واپس آتے ہی انہوں نے سنا اور اسلام قبول کر لیا اور انکی دعوت پرجن لو گوں نے اسلام قبو ل کیا اس میں کچھ نا موں کا انہوں نے اضا فہ کیا ہے۔جو گیارہ ہیں۔ حضرت عثمان بن عفان، زبیر بن عوام ، طلحہ بن عبید اللہ ، عبد الر حمٰن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص ،عمر بن معاسن، ابو عبیدہ بن الجراح ، عبد اللہ بن عبد لاسد، ابو سلمہ ،خالد بن سعید اور ابو حدیفہ رضوان اللہ ِ تعالیٰ علیھم اجمعین۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اپنے قبیلہ بنو تمیم کے سردار اپنے والد کی زندگی میں ہی چن لیئے گئے تھے۔اس کا تقا ضہ تھا کہ وہ عہدہ قضا پر بھی فا ئز ہوں تاکہ وہ اپنے قبیلے کے مسائل اور دوسرے قبا ئل سے تنا زعات کے مقد مات فیصل کر سکیں۔اس کے علاوہ کو ئی اور خاص بات نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے بھی حضور (ص)اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تمام تکالیف برداشت فر مائیں ۔

حضرت عائشہ (رض) سے نکاح۔ حضور (ص) نے حضرت خدیجہ (س) کی زندگی میں کو ئی شادی نہیں کی حالانکہ وہ عمر میں بہت بڑی تھیں اور عرب میں ایک سے زیا دہ شادی کا صرف رواج ہی نہیں تھا بلکہ اس کو فخریہ نگاہ سے دیکھا جا تا تھا۔چو نکہ وہ صرف بیوی ہی نہیں تھیں بلکہ محسنہ بھی تھیں اور ان کا سب سے بڑا احسان یہ تھا کہ انہوں نے عام بیو یوں کی طرح حضور (ص) کی راہ رو کنے بجا ئے جو کہ خطروں سے پر تھی ۔ان کی دلجو ئی فر ما ئی اور ہر طر ح کی مالی اعا نت ہی کیا بلکہ پورا اثاثہ اسلام کی نذر کر دیا ۔ لہذا حضور (ص) نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ “ احسان کا بد لا احسان ہے“ ان کے اور حضرت ابو طالب کے انتقال کے بعد جو کہ اتفا ق سے ایک ہی سا ل ہو ئے حضور (ص)بے انتہا ،تنہا ئی محسو س فر ما نے لگے۔ لہذا حضرت خو لہ (رض) بنت حکم نے ان پر زور دیا اور حضرت سودہ (رض) سے شادی کرا دی۔ جو ان میں سے تھیں جو لوگ ا ول دور میں اسلام لا ئے، ان کی وجہ سے وقتی طو ر پر گھرتو سنبھل گیا مگر وہ اور بھی عمر رسیدہ تھیں اوران کی بھی خوا ہش تھی کہ حضور (ص) دوسری شادی کر لیں۔ نیز اس میں حق تعالیٰ کی یہ مصلحت بھی شاید کار فر ما تھی کہ وہ مسا ئل جو کہ خواتین سے متعلق ہیں اسی طر ح عام مسلمانوں تک پہو نچیں لہذا ان کی اور حضرت خولہ کی نگا ہ انتخاب حضرت عا ئشہ (رض) پر پڑی اور حضور (ص) سے حضرت خولہ نے فر مایا کہ آپ کسی ایسی عورت سے شادی کرلیں جو آپ کو سنگت دے سکے انہوں جب پو چھا کہ آپ کی نظر میں کو ئی ہے تو انہوں نے حضرت عا ئشہ (رض) کا نام لیا۔حضور (ص) نے فرمایاکہ آپ جاکر بات کریں ۔ یہاں دو مختلف روایات ہیں۔ جن میں کہا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اس رشتہ پر تھوڑے سے مذبذ ب تھے ۔ ایک مورخ نے وجہ یہ بتا ئی ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) حضرت عا ئشہ کی نسبت جبیربن معطم سے طے کر چکے تھے اور دوسرے مورخین نے یہ لکھا ہے کہ حضور (ص) اور حضرت ابو بکر (رض) میں جو برا درانہ تعلقات تھے اس کی وجہ سے وہ مذبذب تھے ۔جب برادرانہ تعلق کی بات حضو ر (ص)تک پہو نچی تو انہوں (ص) نے فر مایا کہ میں بھا ئی ہوں، مگر حقیقی تونہیں ہوں ۔حا لانکہ اسوقت تک وہ آیت نازل نہیں ہوئی تھی جو کہ حضرت زید (رض) کے سلسلہ میں نا زل ہو ئی کہ منہ بولے رشتوں کی کو ئی اہمیت نہیں ہے۔ مگر حضور (ص) کو اللہ نے کسی طر ح اس مسئلہ پر رہنما ئی فر ما دی تھی۔ ورنہ آج بھی سوائے اسلام کے تمام مذاہب اس غلط رواج میں مبتلا ہیں اور اس کے برے نتا ئج بھی بھگت رہے ہیں ۔اس لیئے کہ انسا ن تو انسان ہے اس کو صرف سگے رشتوں کا احترام کر نا سکھا یاگیا ہے، منہ بو لی بیٹی بیٹا بہن ماں اگر محرم نہیں ہیں تو بہر حا ل نا محرم ہیں ۔ لہذاپہلاجواز مذبذب ہو نے کا زیادہ درست معلوم ہو تا ہے اس لیئے کہ دسرے میں تو حضور (ص)کا صرف عندیہ ہی ظاہر کرنا حضرت ابو بکر (رض) کے لیئے بہ منزلہِ فرض تھا۔ ہاں پہلی میں وزن ہے کہ حضرت ابو بکر صداقت کا پیکر تھے لہذا وہ کس طر ح اپنی زبان سے پھر سکتے تھے ۔ جب حضرت خو لہ (رض) نے یہ اطلا ع حضور (ص) کو پہو نچا ئی کہ ان کی نسبت ہو چکی ہے تو حضور (ص) نے فر مایا کہ انتظا ر کرو اللہ خو د ہی کو ئی سبیل نکا لے گا۔اسی دوران معطم نے حضرت ابو بکر (رض) کو اپنے گھر بلا یا اور اس کی بیوی نے کہا کہ ہم تمہا ری بیٹی سے اپنے بیٹے کی کیسے شادی کردیں تم ہما رے بیٹے کو بھی گمرا ہ کردو گے ۔اس پر حضرت ابو بکر (رض) نے بجا ئے اس کو جواب دینے کے معطم کی بیوی سے پو چھا کہ وہ کیا کہنا چا ہتی ہتی ؟ اس کے جواب میں اس نے کہا کہ جو آپ نے سنا۔ حضرت ابو بکر (رض) نے پھر فر ما یا کہ کیا تم لو گ منگنی تو ڑنا چا ہتے ہو؟ اس نے کہا کہ آپ درست سمجھے ہیں! اور وہ وہاں سے خوشی خوشی وپس چلے آئے پھر حضرت خولہ (رض) کو پیغام دیا کہ وہ حضور (ص) کو ان کے گھر لیکر آجا ئیں۔لہذا بہت سا دھے طر یقہ سے تقریب نکاح انجام پا ئی اور رخصتی بعد کے لیئے اٹھا رکھی گئی جو ہجرت کے بعد ہو ئی ۔( باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY