دہشت گردی اور ایران کے خلاف امریکا، سعودی عرب ہم خیال ہیں

0
98

سعودی عرب کے مشیر دفاع اور یمن میں جاری آپریشن کے لیے قائم عرب عسکری اتحاد کے ترجمان جنرل احمد عسیری نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل میں دلچسپی کو سعودی عرب قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش، دہشت گردی اور ایران کے بارے میں امریکا اور سعودی عرب کے موقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل احمد عسیری نے ایک تفصیلی نیوز کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی، داعش اور ایران سے عرب ممالک کو بھی ایسے ہی خطرات لاحق ہیں جیسے دنیا کے دوسرے ممالک کو ہیں۔ ایران عرب ممالک میں کھلے عام مداخلت کا مرتکب ہے۔ یمن اس کی سب سے بڑی اور واضح مثال ہے۔
خیال رہےکہ گذشتہ ہفتے امریکی حکومت کی میزبانی میں واشنگٹن میں داعش کے خلاف جنگ میں شریک 68 ممالک کا اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں سعودی عرب نے بھی شرکت کی تھی۔

جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوسرے ممالک امریکا کی ضرورت ہیں۔ امریکا ہماری اہمیت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ہم سب خطے میں ایک ہی جیسے خطرات کا سامنا کررہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے’فاکس نیوز‘ کی ویب سائیٹ کے مطابق سعودی مشیر دفاع نے وائیٹ ہاؤس میں گذشتہ ہفتے سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کو اہمیت کی حامل قرار دیا۔
جنرل عسیری نے خطے میں بدامنی کے فروغ میں ایرانی کردار کا ادراک کرنے پر امریکی حکومت کے موقف کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت نے تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر ایران اور چھ عالمی طاقتوں کےدرمیان معاہدے پر درست تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور ’سی آئی اے‘ چیف مائیک بومبیو نے ایران کو دنیا بھر میں دہشت گردی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک قرار دیا تھا۔ جب کہ امریکا کے نائب صدر مائیک بنس نے عالمی طاقتوں اور ایران کےدرمیان طے پائے معاہدے کو’بدترین سمجھوتے‘ سے تعبیر کیا۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل عسیری نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا مل کر خطے میں ایرانی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں گے۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کی شراکت نے تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY