حضرت صدیق ِ اکبر ۔۔۔ (4) از ۔۔،شمس جیلانی

0
120

ہم گزشتہ ہفتے یہاں تک پہو نچے تھے کہ حضور(ص) کا حضرت عا ئشہ (رض) سے نکا ح ہو گیا اور رخصتی مو خر کردی گئی ۔ اسی دوران حضور (ص) کو ہجرت کا حکم آگیااور وہ (ص)مدینہ منورہ تشریف لے گئے ۔لہذا رخصتی ہجرت کے بعد انجام پائی ۔اب آگے بڑھتے ہیں ۔جب مسلما نوں پر مکہ میں عرصہ حیا ت تنگ کر دیا گیا تو حضور (ص) نے سب کو ہجرت کی اجا زت دیدی اور مکہ میں صرف وہ ہی مسلمان رہ گئے جو کہ مجبو ر تھے یا قید تھے یا کسی کہ غلام تھے آزاد لو گوں میں صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت ابو بکر (رض) تھے ۔مگر حضرت ابو بکر (رض) نے جب بھی اجا زت چا ہی تو ہمیشہ در با ر ِ رسا لت مآب (ص) سے ایک ہی جو اب ملا کہ انتظار کرو اللہ شایدتمہیں کو ئی بہتر رفیقِ سفر عطا فر ما دے۔ چو نکہ وہ مزا ج شنا س تھے لہذا انہو ں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ فرمالیا کہ انہیں شا ید ہجرت میں حضو ر (ص) کی ہمرا ہی کا شرف حا صل ہو گا ۔اور انہوں نے در پر دہ تیا ری بھی شروع کر دی ۔ دو بہترین اونٹ خرید لیئے اور اس خدشہ کے تحت کہ نہ جا نے کب ضرورت پڑ جا ئے ان کو جنگل بھیجنے کے بجا ئے گھر پر ہی چارہ کھلا تے رہے۔قرا ئن سے یہ تو ظا ہر تھا کہ حضور (ص) کو ہجرت کا حکم آنے والا ہے مگر وقت سوا ئے خدا کے کسی کو بھی معلوم نہ تھا ؟۔کیو نکہ حضور (ص) کا ہر فعل تابعِ وحی ہوتا تھا لہذا جیسا حکم ہو ، ویسا ہی عملدر آمد ہونا تھا۔اگر فو را ً کا حکم ہوتا تو فو را ً عملدر آمد ہو جا تا ۔ جیسا کہ بنو قریظہ کے سلسلہ میں ہوا کہ ابھی حضور (ص) غزوہ خندق سے واپس تشریف لا کر غسل فر ما ہی رہے تھے کہ حضرت جبر ئیل (ع) تشریف لے آئے اور فر ما یا کہ ارے ! آپ نے ہتھیا ر کھو ل دیئے ہم لو گ تو ابھی تک مسلح ہیں اور اللہ تعالیٰ کا آپ (ص) کے لیئے فورا ً بنی قریظہ پر حملہ کرنے کا حکم ہے۔لہذا حضور (ص) نے تعمیل حکم میں ایک لمحہ کی تا خیر گوارا نہیں فر مائی اورلشکر کو روا نگی کاحکم دے یا گو کہ عصر کی نما ز کا وقت ہو گیا تھا مگر فرمایا سب لو گ فو را ً روانہ ہو جا ئیں اور وہا ں جا کر نما ز ادا کر یں۔حضور (ص)اور لشکرِ اسلام فو را ً روانہ ہو گئے اور عصر کی نماز وہا ں جا کر ادا کی جبکہ وقت گزر چکا تھا۔یہا ں بھی یہ ہی ہو ا کہ جب قریش کویہ خدشہ ہو ا کہ کہیں حضور (ص) چلے نہ جا ئیں !تو انہو ں نے دا ر الندوہ میں سب کو مشا ورت کے لیئے جمع کیا سب نے مختلف تجا ویز پیش کیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ حضور (ص) کو زنجیرو ں میں جکڑ کر قید کر دیا جا ئے ۔اس کو ابو جہل اور شیطان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ان کو ان کے سا تھی چھڑا لے جا ئیں گے ۔دو سری تجویز یہ پیش ہو ئی کہ جلا وطن کر دیا جا ئے۔ وہ بھی رد ہو گئی کہ اس طر ح تو منہ ما نگی مراد ہم انہیں (ص) فرا ہم کر دیں گے ۔ وہ یہاں سے جا کر لو گوں میں تبلیغ کر ینگے اور تم جا نتے ہو کہ لو گ ان (ص) کی جا دو بھری با توں سے متا ثر ہو تے ہیں ۔لہذا وہ جمعیت جمع کر کے لے آئیں گے اور مکہ پر قبضہ کر لیں گے ۔ان سب میں صا ئب مشورہ شیطان کا مانا گیا جو کہ ایک نجدی شیخ کی شکل میں آکر مجلس میں شامل ہو گیا تھا ۔اس نے مشورہ دیا کہ تم ایسا کرو کہ ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی لے لو اور جب محمد (ص) حسب عا دت صبح کو حرم شر یف جا نے کے لیئے نکلیں تو سب ملکر وار کرو اور کام تما م کر دو۔اکیلے بنو عبد المناف سب قبا ئل سے بہ یک وقت تو لڑنے سے رہے۔ لہذا قصاص دے کر جان چھڑا لینا ۔اس رائے کو سب نے پسند کیا ۔ مگر اللہ سبحانہ تعا لیٰ اپنے نبی (ص) کو پہلے ہی با خبر کر چکا تھا ۔لہذا بقول حضرت عا ئشہ صدیقہ (رض) اس دن جس دن کہ وہ مجلسِ مشاورت طلب کر نے والے تھے خلاف معمول حضور (ص)بجا ئے صبح یاشام کے دوپہر کوتشریف لا ئے۔ تو انہوں (ص)نے خلوت چا ہی۔ میرے والد نے فر ما یا کہ یہاں سوا ئے آپ (ص) کے حرم کے اور کو ئی نہیں ہے۔ توانہوں (ص)نے بتا یا کہ آج رات کو ہجرت کر نا ہے۔ جب میرے والد نے پو چھا کہ آپ کے حرم کا کیا ہو گا ؟ تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ وہ بعد میں دیکھا جا ئے گا فل الحال تمہیں میرے (ص) ساتھ ہجرت کا حکم ہے لہذا وہ اپنی ہمرا ہی کا سن کر اتنے خو ش ہو ئے کہ رونے لگے اور میں نے (اپنی زندگی میں )کسی کو خو شی کی وجہ سے پہلی دفعہ رو تے ہو ئے دیکھا۔لہذا انہوں نے تیا ری شروع کر دی میری بہن اسماء نے کھانا تیا ر کیا اور میرے والد دونوں اونٹ ابن ِ ار قط کو دے آئے جسے گا ئڈ کے طور پر ساتھ جانا تھا ۔ لیکن کچھ مورخین نے اس کے بر عکس یہ لکھا ہے کہ حضو ر (ص)منہ اندھیرے تشریف لا ئے اور فر ما یا ابھی ہجرت کر ناہے۔ اور ان (ص) کے پا س وحی شام کو نا زل ہو ئی تھی۔ جب لو گ مشورہ کر رہے تھے۔ مگر اس میں قباحت یہ ہے کہ ثور تک پانچ میل بہ عافیت طے کر نا اور دوسرے انتظا مات اتنی جلدی کرنا ممکن نہ تھا۔ واللہ عالم۔ آگے باقی دو نوں روا یتوں میں یکسانیت ہے کہ حضرت جبرا ئیل (ع) نے آکر فر ما یا کہ آپ (ص)ہجرت کے لیئے تیا ر ہو جا ئیں اور وہ سبز چا در آج نہ اوڑھیں جو کہ آپ کے ہمیشہ زیر ِ استمال رہتی ہے۔ وہ (ص) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے (ص) بستر پر سلا کر اوڑھا دیجئے۔ لہذا حضور (ص)نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فر ما یا کہ تم یہ چا در اوڑھ کر میرے بستر پر لیٹ جا ؤ اور خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی چادر اوڑھ لی۔ جب ان (ص) کے بستر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ محوِ استراہت ہوگئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ہدا یت فر مائی کہ یہ تمہا را انشا اللہ کچھ نہیں بگا ڑ سکیں گے۔ تم ان کی اما نتیں لو ٹا کر میرے (ص) پا س آجا نا۔ یعنی یہاں بھی حضو ر (ص) نے اپنی اعلیٰ تر ین دیا نت کاثبو ت دنیا کے سامنے پیش فر مایا۔کہ جو لو گ ان کے خون کے پیا سے تھے ان کے سا تھ بھی بد دیا نتی نہیں فر مائی۔اور اپنے ایک بہترین رفیق کی جان خطرے میں ڈالنا پسند فر ما ئی ۔جبکہ با لکل ایسا ہی وا قعہ تا ریخ عالم میں ایک اور مو جو د ہے کہ بنی اسرا ئیل قبطیوںکی اما نتیں پکڑے جانے کے خو ف سے ساتھ لے آئے تھے۔پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اللہ پر یقین دیکھئے کہ وہ اکثر فر ما یا کر تے تھے کہ اس رات سے اچھی نیند مجھے زندگی بھر کبھی نہیں آئی۔ رات کے پچھلے پہر حضور (ص) اپنے دو لت کدے سے با ہر تشریف لا ئے اور یہ وہ وقت تھا جب ابو جہل طنزیہ کہہ رہا تھا کہ محمد (ص)یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے ان کی با ت مان لی تو قیصر و کسر یٰ کے خزانے اور ملک ہمارے پاس ہو نگے اور اگر ایمان نہ لا ئے تو جہنم میں جلا ئے جا ئیں گے اور حضور (ص) نے یہ سن کر فر مایا کہ ہا ں! دشمن ِ خدا میں یہ کہتا ہو ں ۔اور ایک مٹھی بھر خاک ان کی طر ف اچھا لی تو ان میں سے کو ئی ایسا نہ بچا جس کے سر میں وہ نہ پڑی ہو ۔ اس کے بعد انکی آنکھوں کے سامنے سے گزرتے ہو ئے حضور(ص) بخیر یت حضرت ابو بکر (رض) کے دولت خانہ تک پہو نچ گئے۔ اس سے آگے پھر حضرت ابو بکر کا وہ نادرکردار دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ میری بیٹیاں ہیں جو پیچھے بے یا رو مدد گا ر رہ جا ئیں گی اور بیٹا اور نا بینا والد ان کی کیسے حفا ظت کر یں گے۔وہ خو شی خو شی حکم کی تعمیل میں مصروف ہوجا تے ہیں۔ اور گھر میں سوائے اللہ اور رسول (ص) کچھ نہیں چھو ڑتے ۔ جو ان کے پاس پانچ یا چھ ہزار درہم تھے وہ اسلام اور حضو ر (ص) پر نثار کر نے کے لیئے ہمراہ لے لیتے ہیں ۔ چونکہ وہ پہلے ہی سارے انتظا مات مکمل کر چکے تھے لہذا جیسے ہی حضور (ص) پہو نچے وہ ساتھ ہو لیئے اور دو نوں پچھلے در وازے سے نکل کر بجا ئے مدینہ کی طر ف جا نے کے اس کی مخالف سمت میں غار ِ ثو ر میں جاکر مقیم ہو گئے۔ پہلے انہوں نے تمام غار کو صا ف کیا پھر ایک ایک سوراخ ڈھو نڈ کر تمام سورا خ بند فر ما ئے صرف ایک باقی رہ گیا جس کے لیئے کچھ نہ بچا تو اس پر اپنا انگو ٹھا رکھ دیا اور حضور (ص) سے فر ما یا کہ قدم رنجہ فر ما ئیں ۔ حضور (ص) ان کی زا نو پر سر ِ مبا رک رکھ کر محو ِ استرا ہت ہو گئے اور جب بیدار ہوئے کہ حضرت ابو بکر (رض) کے آنسو گر نے لگے ۔ جو بل کے اندر سے سانپ کے ان کے انگو ٹھے میں کا ٹنے کی تکلیف کی وجہ سے نکل آئے تھے ۔ یہ غا ر جس پہا ڑ پر ہے وہ منیٰ جا تے ہو ئے بس کے را ستہ میں پڑتا ہے ۔اور ابھی تک بھی وہا ں صا حب ِ ہمت ہی جا سکتے ہیں۔لو گ بتا تے ہیں کہ سا ڑھے تین گھنٹے کی پہا ڑی چڑھا ئی ہے۔اس کہ با وجود کہ وہ غارلوگوں کی نگا ہوں میں آسانی سے نہیں آسکتا تھا ۔ حضور (ص) نے اپنی طر ف سے حتیٰ الا مکان احتیاط فر ما ئی۔محض اس لیئے کہ امت اس سے یہ سبق نہ لے لے کہ سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ ورنہ ان سے زیادہ متو کل اور کون ہو سکتا ہے۔ حضرت ابو بکر (رض) کے آزاد کر دہ غلام حضرت عامر (رض) بن فہیرہ کو ہدایت فر ما ئی کہ وہ جب غار میں دا خل ہو جا ئیں تو وہ اپنی بکر یوں کا ریو ڑ لے کر اسی راہ پر آجا ئیں تا کہ قدموں کے نشان مٹتے رہیں اورآنے جانے کے نشان کسی کے بھی باقی نہ رہیں ۔کیو نکہ عرب کے کھو جی نشان ِقدم سے کھو ج لگا نے کے ماہر تھے اور وہ یہ تک بتا دیتے تھے ۔جس کا نشان ِ قدم ہے اس میں کیا عیب ہے۔(یہ فن مجھے عرب میں تو پتہ نہیں کہ اب ہے یا نہیں مگر سندھ میں عر بوں کی یاد گار کے طو ر پر آزمانے کا اتفاق ہوا۔ کہ اگر پولس واقعی کسی کو پکڑناچا ہے تو کھو جیوں کی نشان دہی پر وہ مجرم تک بآ سانی پہو نچ جا تی ہے ۔نیز یہ پیشہ سرکا ری طو ر پر تسلیم شدہ ہے اور کچھ کھو جی پو لس کے تنخواہ یا فتہ ہیں)۔حضرت عامر (رض) بن فہیرہ کی ایک ڈیو ٹی یہ لگا ئی گئی تھی کہ وہ ایک بکری رو زانہ ذبح کر کے گھر لے جا ئیں تا کہ کھا نا پہنچتا رہے اور حضرت عبد اللہ (رض) بن ابو بکر (رض) کے سپرد یہ ڈیو ٹی ہو ئی کہ وہ روزانہ رات کو آکر قریش کی سر گر میوں کی اطلا ع دیں۔وہ لو گ اپنے اپنے فرا ئض اس طر ح انجام دیتے رہے کہ کسی کو شبہ تک نہ ہو سکا۔
( باقی آئندہ )

SHARE

LEAVE A REPLY