ہمارے لئے یہ نقطہ یقینا باعثِ افسوس اور شرمنا ک ہے کہ ہمارے یہاںگُڈ گورننس نہیں ہے، جس کی اصل وجہ بس ایک یہی نظر آتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور شہریانِ پاکستان کے ارادے عدم استحکام کا شکار ہیں جب یہ ہوگا تو ادارے بھی غیر مستحکم ہوں گے اور گُڈ کورننس بھی نہیں رہے گی، جب گُڈگورننس قا ئم نہیں رہے گی تو پھر لا محالہ مُلک اور معاشرے میں بگاڑ پیداہوگا جس سے نہ تو قانون کی بالادستی قائم رہ سکے گی اور نہ کوئی ادارہ صحیح سمت میں کام کرسکے گا ،مُلکی ایوانوں سے لے سرکاری محکموں اور اِن سے لے کر شہر شہر گاو ¿ں گاو ¿ں اور گلی گلی رشوت ستانی ، اقربا ءپروری اور میرٹ کا قتلِ عام ہونالازمی طورایک ایسے ناسُور کی شکل اختیار کرجا ئے گا جس کا شکار ہوئے بغیر کوئی بھی بچ نہیںپا ئے گا اگرچہ اِس سے چھٹکارہ اِسی صورت میں ممکن ہو سکے گا جب صاحبان اقتدار و اربابِ اختیارسے لے کر عوام کے ارادے بھی کچھ اچھااور قابلِ تعریف عمل کرنے کے لئے مستحکم اور ادارے مضبوط ہوں گے۔

اِس سے قطعاََ کوئی اِنکار نہیں ،بےشک، مُلکوں اور قوموںکی تعمیرو ترقی اور خوشحالی کا دارومدار ارادوں او راداروں کی مضبوطی ہی میں مضمرہے،اگر آج بھی ہم اِسی تناظر میں دنیا کے بیشتر ممالک اور اقوام کا جا ئزہ لیں توہمیں یہ بات واضح طوسےر پر نظر آئے گی کہ دُنیا کے جن ممالک کے سربراہِ مملکت اور عوام کے ارادے مستحکم اور پا ئیدار ہیں وہاں کے اداروں کی کارکردگی بھی دیدنی اور مثلِ چراغ ہے جس کی مضبوطی کے سُوتِ چاردانگِ عالم میںپھیلے ہوئے ہیں مگراِس کے برعکس ہماری طرح جن ممالک اور اقوام کے ارادے ہی غیر مستحکم اور متزلزل ہوں تو پھراُن کے ادارے بھی ڈنواں ڈول ہوتے ہیں اور اِن کی کارکردگی بھی پھُس پھُسی اور دغدار ہوتی ہے۔تاہم یہاں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ جہاں مُلکوں اور اقوام کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ارادوں اور اداروں کی پا ئیداری میں ہے یعنی کہ حکمرانوں سیاستدانوں اور شہریوں کا کسی منصوبے اور پلاننگ کو پایہءتکمیل تک پہنچا نے کے لئے باہمی رضامندی سے ارادے کے پیچ پر ایک ہونا لازمی ہے اوراِ س کے ساتھ ہی پھراِن کے خوابوں کو سُنہری تعبیر دینے والے اداروں کا مضبوط ہونا بھی اِسی طرح بہت ضروری ہے جس طرح سب کے ارادے مضبوط ہیںجب مُلکوں اور اقوام کے ارادے اور ادارے مضبوط ہوں تو پھردنیا کی کوئی طاقت بھی قوموں اور مُلکوں کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی سے نہیں روک سکتی ہے۔

آہ ، بدقسمتی سے سرزمینِ پاکستان میں ہمیشہ ہی سے ارادوں اور اداروں کی مضبوطی اور اِن کے مستحکم ہونے کا فقدان ایک بڑا مسئلہ رہاہے ، اِسی عالمِ فقدانی میں شہریانِ پاکستان اپنے سَتر سال حالتِ کسمپرسی اور طرح طرح کے بحرانوں میں گزارچکے ہیں اور خدا جا نے یہ اِسی عالمِ پریشانی میں مزید کتنے سال گزاریں گے ، جو ایک المیہ ہے، اَب جس کا دیر پااور پا ئیدار وکوئی حل نکل جا نا چا ہئے کیو نکہ اگلی تین دہائیوں کے بعد ہم اپنے قیام کی ایک صدی (سینچری) مکمل کرنے والے ہیں کوئی یہ نہ سمجھے کہ ابھی سینچری ہونے میں تیس سال کا ایک لمباعرصہ پڑاہوا ہے ہم یہ کرلیںگے ؟؟ تو وہ کرلیں گے؟؟ فقدانی اور بحرانوں کیفیات سے نکل جا ئیں گے، اللہ کرے کہ ایسا ہی ہوجا ئے جیسا کہ ہماری سوچ ہے مگر ایسا اُسی وقت ممکن ہوگا کہ جب ہم متحرک ہوں گے، یوں ہی ہا تھ پہ ہاتھ دھرے رہنے اور خوابِ خرگوش میں پڑے رہے تو پھر ہم یہیں پڑے رہیںگے جہاں آج ہیں ایسے میں ہمارا یہ نصب العین ہونا چاہئے کہ ہمیں جلد ازجلد ا پنے قیام کی صدی مکمل ہونے سے قبل ہی اپنا آپ دنیا کے سامنے منوانا ہوگا اور یہ اُسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم سب اپنے ارادوں اور اپنے اداروں کو مضبوط کرلیں گے۔کہاجاتا ہے کہ اگر دنیا میں کچھ اچھا کر دیکھا نے اور قابلِ تعریف عمل چھوڑ جانے کی خوا ہش ہے تو پھر اِس کام کو اپنے مضبوط ارادے سے تکمیل تک پہنچاو ¿ اگر تمہاری قوتِ ارادی ہی کمزور ہے تو پھر پستی ہی تمہارا مقدر ہوگی یعنی یہ کہ جب کسی بھی کچھ اچھا کرنے اور رہتی دنیا تک بابِ ورلڈ کی بُک میں زندہ رہنا ہے تو پھرمُلکوں اور اقوام و اشخاص اور فرد و شخص کو ہر حال میں اپنے ارادے کا پکاہونا پڑے گا تب ہی دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے اور جب ارادے مستحکم ہوجا ئیںگے تو پھر مُلک اور معاشرے کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور چلانے والے ادارے بھی خود بخود مضبوط ہوتے چلے جا ئیں گے۔

آج جہاں یہ افسوس کی بات ہے تو وہیں یہی بات ہمارے لئے باعثِ حوصلہ بھی ہے کہ ایک بڑے عرصے تک ارادوں اور اداروں کی مضبوطی کا خواب دیکھنے والی ہماری قوم میں آہستہ آہستہ کسی نقطے پر پہنچ کر فیصلہ کرنے اور آگے بڑھنے کا رجحان پروان چڑھتا جارہا ہے جو کہ قابلِ تعریف عمل ہے آج یہی وہ پُرمسرت لمحہ ہے کہ ہم گردن تان کر اور اپنا سینہ چوڑا کرکے یہ تو کہہ سکتے ہیںکہ اَب ہمارے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور شہریانِ پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمارے اہم نوعیت کے اداروں کے کرتادھرتاو ¿ں کے ارادوں میں یکسوئی اور سنجیدگی کا عنصر غالب آتا جارہاہے خواہ مُلکی معاملات ہوں یا بین الاقوامی سب ہی ایک کال پر سر جوڑ کر بیٹھنے اور ایک دوسرے کی سُننے اور سُنانے کے بعد ایک دوسرے کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے قا ئل کرنے اور کسی مثبت اور تعمیری سمت کے تعین کرنے کے خاطر کسی ایک رائے اور ارادے پر قائم رہ کر رائے عامہ ہموار کرنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں اِس کی مثال پچھلے چند ایک سالوں میں اندرونی اور بیرونی معاملات پر پیداہونے والے مسائل اور اِن کے دیر پا حل کی تلاش کے لئے کی جا نے والی کوششوں سے واضح ہے جیسے آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن ردِ الفساد اور فوجی عدالتوں کی توسیع کا معاملہ جیتی جاگتی مثالیں ہیں اللہ کرے کہ یہ لا متناہی سلسلہ جاری و ساری رہے اور ہمارے ارادوں اور اداروں میں دیر پاپائیداری اور استحکام اورمستحکم ہونے کا عنصر غالب آتا رہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY