برطانوی حکومت کی جانب سے شائع کردہ دستاویز سے پتہ چلا ہے کہ تین چوتھائی بالغ افراد صحت کے لیے مفید ثابت ہونے والے پھل اور سبزیاں نہیں کھاتے۔

یہ انکشاف برطانوی حکومت کے محکمہ نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کی جانب سے شائع کردہ دستاویز سے ہوا۔

برطانوی بالغ افراد حکومت یا ماہرین صحت کی جانب سے تجویز کردہ وہ پھل اور سبزیاں ہی نہیں کھاتے جو ان کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

برطانوی اخبار’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے حکومت نے آگاہی مہم میں بالغ افراد کو یومیہ کم سے کم 400 گرام پھل اور سبزیاں کھانے کا مشورہ دیا۔

این ایچ ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2015 میں انگلینڈ کے تین چوتھائی بالغ افراد نے پھل اور سبزیاں بہت ہی کم کھائیں، جب کہ اسی عرصے کے دوران 16 سے 24 سال کی عمر کے نصف نوجوانوں نے حکومت کی تجویز پرعمل کیا۔

حکومت کی جانب سے بالغ اور نوجوان افراد کو مشورہ دیا گیا تھا کہ اپنی روز مرہ زندگی میں ذیادہ سے ذیادہ پھل اور سبزیاں کھائی جائیں، کیوں کہ یہ دل کے امراض، فالج اور کینسر جیسے موضی امراض کے طویل المدتی خطرات کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل رواں برس فروری میں بھی امپیریل کالج لندن کی جانب سے بھی لوگوں کو اپنی یومیہ خوراک کا دسواں حصہ پھل اور سبزیوں پر مشتمل رکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

مختلف اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں گزشتہ 5 برس میں موٹاپے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جب کہ اس میں گزشتہ برس 20 فیصد اضافہ ہوا۔

سال 2016-2015 کے درمیان موٹاپے کی شکایات کے باعث انگلینڈ کی مختلف اسپتالوں میں 5 لاکھ 25 ہزار افراد علاج کے لیے آئے، جنہیں پہلے اور دوسرے درجے کی بیماریاں لاحق تھیں، جب کہ ان مریضوں میں دو تہائی خواتین تھیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY