سلام بحضور باب الحوائج شہزادہ علی اصغر علیہ السلام

شبیر کے آنگن میں جو یہ پھول کھلا ہے
ہے لعل بدخشان کہ چندن سے دھلا ہے

عباس سا تیور ہے تو حیدر سی ادا ہے
چھوٹے علی اصغر کو ملا رتبہ بڑا ہے

اصغر ہے لقب کام میں ہم رتبہ حیدر
معصوم سی مسکان کو تلوار کیا ہے

احمد کی مدد کی ہے علی شیر جلی نے
یہ چھوٹا علی شیر_ شہ کرب و بلا ہے۔

ہاں کوثر و تسنیم پہ ہے اسکی حکومت
شان اسکی بڑی یہ کہ تاج شہدا ہے۔

مسکین وگدا پلتے ہیں دن رات یہیں پر
در اس کا کھلا رہتا ہے یہ باب عطا ہے

شبیر کے جھولے سے ملک ہو گیا آزاد
اصغر تیرے جھولے سےہمیں دین ملا ہے

ونحر کی تو تفسیر ہے کوثر ہے سراپا
وہ تیر لگا جس پہ۔ محمد کا گلا ہے۔

کاظم پہ کرو نظر_ کرم ہنسلیوں والے
بے مایہ و بیکار ہے پر تیرا گدا ہے۔

کاظمیات۔

SHARE

LEAVE A REPLY