حضرت صدیقِ اکبر(رض)۔۔ 5.شمس جیلانی

0
106

گزشتہ ہفتے ہم یہا ں تک پہو نچے تھے۔کہ حضور (ص)اور حضرت ابو بکر (رض) غار ثو ر میں تھے ۔اور کفا ر ِ مکہ کی سر گر میوں سے با خبر رہنے کے لیئے اپنا نظام بنا یا ہوا تھا ۔جبکہ حضور(ص) ان کی نگا ہوں کے سامنے سے تشریف لے گئے اور انکو خبر تک نہ ہو ئی حتیٰ کہ صبح کو انکو کسی نے خبر دی کہ وہ(ص) تو تشریف لے جا چکے ہیں میں نے خود انہیں (ص) جاتے دیکھا تھااور تم کس کا گھراؤکیئے ہو ئے ہو اور یہ تم نے یہ اپنے سروں پر خاک کیو ں ڈالی ہو ئی ہے ؟ تو انہوں نے اپنے سر ٹٹو لے اور دیکھا کہ وا قعی ان میں سے ہر ایک سر میں خا ک پڑی ہو ئی ہے ۔تو وہ ایک دم دیواریں کود کر مکان میں تصدیق کے لیئے دا خل ہو گئے اور اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو حضو ر (ص) کے بستر ِمبا رک پر آرام فر ما تھے اٹھ کر بیٹھ گئے۔وہ انہیں چھو ڑ کر چا روں طر ف دو ڑ گئے اور حضور (ص) کوتلا ش کر نے لگے ۔سب سے پہلے ابو جہل حضرت ابو بکر (رض) کے گھر پہو نچا کہ اس کو یقین تھا کہ پہلا ٹھکا نہ یہ ہی ہو گا ۔ اس نے دروا زہ پر دستک دی حضرت اسما ء (رض)با ہر تشریف لا ئیں ۔اس نے ڈپٹ کرپو چھا بتا اے لڑکی تیرا با پ کہا ں ہے؟ اور جب انہو ں نے فر ما یا کہ مجھے کو ئی علم نہیں تو ۔اس کمبخت نے ایسا ان کے منہ پر تھپڑ مارا کہ ان کے کا ن سے آویزہ نکل کردو ر جا گرا اور کا ن لہو لہان ہو گیا۔ یہاں سے نا امید ہو کر وہ پھر جمع ہو ئے اور چا روں طر ف آدمی دوڑا ئے اور اعلان کیا جو حضور (ص) کوگر فتا ر کر کے لا ئے گا اس کے سو اونٹ انعا م میں دین گے ۔ پھر کیا تھا پو را مکہ نکل پڑا کیو نکہ ہر ایک کی خو اہش تھی کہ یہ انعا م وہ حا صل کر ے ۔لا محا لہ غا ر وں کی طر ف نگاہ جا نا تھی اور ممکن ہے کو ئی پا رٹی غا ر حرا کی طر ف بھی گئی ہو۔ مگر اس کا تا ریخ میں کو ئی ذکر نہیں ملتا ۔لیکن غا رثو ر پر ایک جما عت اتنی چڑھا ئی چڑھ کر پہنچ ہی گئی اور صورت ِ حا ل یہ ہو گئی کہ اب پکڑے اور تب پکڑے گئے ۔ وہ لو گ با ہر کھڑے تھے اندر سے حضرت ابو بکر (رض) ان کے پیر دیکھ کر پریشا ن ہو ئے اور اپنی تشویش کا اظہا ر حضور (ص) سے فر ما یا ۔کہ حضور (ص) مجھے اپنا تو غم نہیں ہے مگر میں آپ کی وجہ سے پر یشان ہو ں کے وہ اگر اندر آگئے اور ہم لو گ پکڑے گئے تو کیا ہو گا ؟ حضو ر (ص)نے کما ل اطمینا ن سے فر ما یا مت خو ف کرو اللہ ہما رے ساتھ ہے ۔ جس کو قر آن نے قیامت کے لیئے آیت کی شکل میں محفو ظ کر دیا ہے۔ “اللہ معنا “پھر معجزہ رونما ہو ا با لکل اسی طرح، جس طر ح حضور (ص)وہا ں سے نکلے تھے اور اللہ نے ان کو آنکھو ں سے اند ھا فر ما دیا تھا ۔ یہا ں عقل پر پر دا ڈا لکر انکو اندھا کر دیا ۔ اس چھو ٹے سے را ستہ پر جو غا ر کے اندر جا تا تھا اللہ تعا لیٰ کے حکم سے ایک مکڑی نے جا لا تن دیا اور اس کے منہ پر جو جھا ڑی اگی ہوئی تھی اس میں ایک کبو تری نے انڈے دیدیئے اور انکو یہ سو چنے پر مجبو ر کر دیا کہ اس میں اگر کو ئی انسا ن دا خل ہو تا تو جا لا ٹو ٹ جا تا اور یہ کبو تر کے انڈے بھی پا ما ل ہو جا تے ۔ لہذا یہا ں سے مطمعن ہو کر وہ واپس چلے گئے ۔جب ان کی سر گر میاں ما ند پڑگئیں تو گا ئڈ کو مع اونٹوں کے تیسرے رو ز حضور (ص) نے طلب فر ما یا ۔ اور جب وہ آگیا تو حضرت ابو بکر (رض) نے حضور (ص) سے عرض کےا کہ آپ اس اونٹ پر تشریف فر ما ہو ں جو کہ دو نوں میں زیا دہ بہتر تھا ۔لیکن حضو ر (ص) نے اس کا معا وضہ دیئے بغیر اس پر سوار ہو نا گوا را نہ فر ما یا تھو ڑی رد و کد کے بعد انہوں نے فر ما یا کہ حضور (ص) یہ آپ کا ہو ا آپ قیمت ادا کر دیجئے گا ۔ لہذا حضور (ص) اورابن ِ ار قط (گا ئیڈ ) ایک اونٹ پر بسم اللہ کر کے سوار ہو گئے اور دو سرے پر حضرت ابو بکر (رض) اور حضرت عا مر بن فہیرہ (رض) سوار ہو ئے اور اس مرتبہ بھی یہ احتیا ط ملحو ظ رکھی گئی کہ مدینہ کا عام راستہ اختیا کر نے کے بجا ئے سا حل کے سا تھ سا تھ یعنی جد ہ کے طر ف سے یہ قافلہ روا نہ ہو ا ۔اس طر ف تو یہ صو رت تھی حال تھی ۔ دوسری طرف جب حضرت ابو بکر (رض)کے والد حضرت ابو بکر (رض) اور حضور (ص) کی ہجرت سے با خبر ہو کر پہلے ہی دن حضرت ابو بکر (رض) کے گھر پہو نچے کہ دیکھیں بچیا ں کس حال میں ہیں !کیو نکہ ان کا ارادہ وقتی طو ر پر کہیں چلے جا نے کا تھا۔ لفظ وقتی طورپر ہم نے اس لیئے زور دیا کہ وہ فتح مکہ سے پہلے واپس مکہ تشریف لے آئے تھے اور وہا ں اس دن مو جود تھے اور انہوں نے اسی موقعہ پر اسلام قبول کیا ۔ انہوں نے آتے ہی حضرت اسما ء (رض) سے پو چھا کہ تمہا را باپ تمہارے لیئے کیا چھو ڑ گیا ہے؟ جبکہ حضرت ابوبکر (رض) اپناتما م نقدمال جو کہ پا نچ یا چھ ہزار در ہم تھا، اپنے ساتھ لے گئے تھے تا کہ وقت پڑنے پر وہ حضور (ص) اور اسلام پر نچھا ور کر سکیں اور حسب عادت گھر پر اللہ اور رسول (ص) کا سہارا چھو ڑ گئے تھے ۔ لیکن اس نیک اور سعاد تمند دختر کو اپنے والد ِمحترم کا پر دہ رکھنا مقصود تھا لہذا انہوں نے فر مایا کہ آپ بے فکر ہو کر تشریف لے جا ئیں ۔وہ ہما رے لیئے کا فی ما ل چھو ڑ گئے ہیں ۔ اور ایک تھیلی جس میں کچھ کنکر یا ں تھی بھر رکھی تھیں اٹھا کر دکھا دیں کہ یہ ما ل ہے۔ چو نکہ وہ نا بینا تھے انہوں نے چھو کر دیکھا اور مطمعن ہو کر چلے گئے ۔ ان بچیوں کو ساتھ لے جا نے میں شا ید انہیں یہ مجبو ری رہی ہو کہ انہوں نے خود ہی نہ جانا چا ہا ہو۔جیسا کہ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں جوکہ حضور (ص) کا ارشاد ِ گرا می تھا حضرت ابو بکر کے استفسار پر کہ میرے (ص) ساتھ صرف تمہیں ہجرت کا حکم ملا ہے۔ لہذا انہو ں نے مر ضی پر وردگا ر سمجھ کر ان کے ساتھ نہ جا نا چا ہو تب یہ تھیلی والا طر یقہ حضرت اسما ءنے اپنے دادا کو مطمعن کر نے کے لیئے استمال کیاہو۔ لیکن اس پر کسی مو رخ نے روشنی نہیں ڈالی ۔کہ انہوں نے ایسا کیو ں کیا ۔ واللہ عالم ۔ حضور (ص) کا یہ مختصر سا قافلہ رات کو سفر کر تا اور دن میں کہیں روپو ش ہو کر آرام کر تا ہو ا مدینہ کی طر ف گا مزن تھا ۔ کہ یہ اس بستی کے قریب سے نکلا جہا ں پر سراقہ نا می ایک شخص کا قبیلہ آبا د تھا۔وہاں پر اس کے کسی آدمی نے انہیں دیکھ لیا جو کہ اپنا کو ئی کھو یا ہوا جا نور تلا ش کر رہا تھا۔ اس نے وہا ں آکر ذکر کیا جہا ں سرا قہ اپنے دو سرے سا تھیوں کے ساتھ کچہری لگا ئے بیٹھاتھا۔ اس نے اس کو تو یہ کہہ کر جھٹلا دیا کہ یہ تیرا وہم ہے وہ (ص)اب تک تو مدینہ پہنچ چکے ہو نگے ۔مگر سو اونٹوںکا لا لچ اس کو حضور (ص) کے تعقب میں لے گیا اور وہ دونوں اونٹ جا تے ہو ئے نظر آگئے۔ مگر ایک حد کے بعد اس کے گھو ڑے نے آگے بڑھنے سے انکا ر کر دیا۔ جب وہ واپسی کی طر ف منہ مو ڑتا تو وہ چلنے لگتا اور جب آگے بڑھا تا تونہیں بڑھتا ۔یہاں کچھ مو ر خین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس نے عرب کے دستور کے مطا بق فا ل نکا لی اور وہ تینو ں مر تبہ اس کے خلا ف نکلی جو وہ کر نے جا رہا تھا۔ اور اس نے اس وجہ سے ارادہ ترک کر دیا۔ مگر کچھ نے لکھا ہے کہ وہ پھر بھی آگے بڑھنے کے لیئے گھو ڑے کو ما رنے لگا گھو ڑے نے قدم آگے بڑھا ئے تو وہ زمین میں دھنسنے لگا ۔ لہذا اس نے حضور (ص)سے دعا کی در خواست کی اور جب گھو ڑا اس مصیبت سے نکل آیا تو وہ یہ سمجھ گیا کہ یہ کو ئی غیر مر ئی طا قت ہے جو مجھے حضور (ص) تک نہیں پہنچنے دے رہی ہے۔ اس نے حضور (ص) سے در خواست کی کہ آپ مجھے ایک امان لکھ کر دیدیں ۔ حضو ر (ص) نے حضرت عامر بن فہیرہ (رض)کو حکم دیا کہ لکھ کر دیدو۔ اور انہوں نے ایک اونٹ کی ہڈی پر امان لکھ کر دیدی۔ جو کہ اس نے فتح مکہ کے مو قعہ پر حضور (ص) کے سامنے پیش کی اور اس سے امان پا ئی ۔ یہ وہی سراقہ ہیں ۔ جو بعد میں مدینہ پہنچ کر اسلام لا ئے اور ایک دن جب مسجد ِ نبوی (ص) میں بیٹھے تھے کہ حضور (ص) نے انہیں دیکھ فر ما یا کہ سرا قہ میں تیرے ہا تھ میں کسر یٰ کے کنگن دیکھ رہا ہو ں اور جب ایران حضرت عمر (رض) کے زمانے میں فتح ہو ا تو وہ کنگن ما ل ِ غنیمت میں آئے پھرحضرت عمر (رض) نے حضور (ص) کی پیشنگو ئی کے مطا بق حضرت سراقہ (رض) کو عطا فرمادیئے۔ یہاں ان کی اس نیکی کا صلہ اللہ تعالیٰ نے یہیں عطا فر ما دیا ۔جو کہ ہیرے جواہرات جڑے ہو ئے سونے کے کنگن تھے۔ اور ان کی قیمت سو اونٹوں سے بہت زیا دہ تھی۔ اللہ ان کو وہاں کیا عطا فر ما ئے گا ۔وہ وہی جا نتا ہے ۔ آپ نے دیکھا کہ نیکی کبھی ضا ئع نہیں ہوتی ۔یہ در اصل سبق تھا اللہ تعا لیٰ کی طر ف سے دنیا والوں کے لیئے ۔ (باقی آ ئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY