شہر ادھیڑا جا چکا ہے ۔۔ از۔۔ سدرہ سحرعمران

0
117

جو نفرتو ں کے خلا ف قتل ہوئی
تم ہمیں اُس سڑک سے منسوب کرو گے ؟
ہم۔۔۔جو گم شدگی کا اشتہا ر بن کر …
دیوار سے جا لگے ہیں

جن دنو ں ہم نعرے سی سی کر
اپنے دن پو رے کرتے تھے
اور سوچتے تھے کہ مٹی ہمیں پا نی نہیں دے سکتی
تم ہمیں پرچمو ں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندرو ں کے حق میں دستبردار ہو جا ؤ
تب ہم اپنی آ نکھیں کھو د کر
ایک ادھڑا ہوا شہر دریا فت کر تے تھے
اور سڑکوں سے پو چھتے تھے
کہ۔۔۔۔ تم ہما رے راستے میں کیو ں لکھے گئے ہو ؟
(تم ۔۔۔جو ادھڑا ہوا شہر تھے )

SHARE

LEAVE A REPLY