قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں کی سندھ میں گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان افراد کو فوری عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران پی پی پی کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے حکومت دراصل پارلیمنٹ کی توہین کررہی ہے جبکہ حال ہی میں منظور کیے گئے قانون کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیز پابند ہیں کہ گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے دوران ان افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

خورشید شاہ نے سوال اٹھایا کہ ‘اٹھائے جانے والے افراد کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جارہا؟’

انھوں نے غلام قادر مری کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا، جو آصف زرداری کے مینجر تھے، اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر نے نواب لغاری کے مبینہ اغوا پر بھی آواز اٹھائی، جو حکومت سندھ کے سابق مشیر تھے اور انھیں کچھ روز قبل اسلام آباد سے نامعلوم افراد اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

غلام قادر مری اپنے ڈرائیور اور دو دیگر لوگوں کے ساتھ نوڈیرو سے حیدرآباد واپسی پر لاپتہ ہوئے، ان کی گاڑی جمعہ کے روز جام شورو تھرمل پاور پلانٹ کے قریب سے ملی۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں کو اٹھا رہے ہیں تو مجھے بھی اٹھائیں، میں بھی ان کا قریبی ہوں’۔

پی پی پی کے رہنما نے وزیراعظم نواز شریف پر الزام لگایا کہ وہ پارلیمنٹ کو کسی قسم کی اہمیت نہیں دیتے جس کا ثبوت ہے کہ انھوں نے قومی اسمبلی کے اب تک ہونے والے اجلاسوں میں صرف 8 فیصد شرکت کی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے وفاقی حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں مبینہ ناکامی پر تنقید کا نشانہ بتایا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے نیشنل ایکشن پلان کی نگرانی کیلئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنانے پر رضا مندی کا اظہار کیا تھا لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی پیش رفت عمل میں نہیں آئی۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آپریشن رد فساد کے آغاز کے باوجود دہشت گردوں نے لاہور کو ایک مرتبہ پھر نشانہ بنایا ہے۔

انھوں نے وفاقی حکومت کو ملک میں صوبائی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے سے خبردار کیا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ‘لوگوں کو مشتعل نہ کیا جائے، آپ چاہتے ہیں کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں اور ریاست کے خلاف بات کریں؟’

پی پی پی کے رہنما نے وفاقی حکومت پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس کے معاملے میں سندھ حکومت کے معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صرف تین سال میں وزارت داخلہ کے 3 سیکریٹریز اور اسلام آباد کے 5 آئی جیز کو تبدیل کیا لیکن سندھ حکومت پر ان کی مرضی کا آئی جی تعینات کرنے پر سوال اٹھائے جارہا ہے۔

خورشید شاہ نے سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما لیکس کیس کے فیصلے کے اعلان میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال اور خارجہ پالیسی میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

SHARE

LEAVE A REPLY