سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) شرقی فیصل عبداللہ نے سولجر بازار میں قومی ورثہ قرار دی گئی اسکول کی تاریخی عمارت کو مسمار کیے جانے کے معاملے پر تھانہ سولجر بازار کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) ارشاد سومرو کو معطل کردیا۔

اس سے قبل انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اللہ ڈنو خواجہ نے کراچی کے علاقے سولجر بازار میں 100 سال پرانے اور قومی ورثہ قرار دیئے گئے اسکول کو گرائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی (اے آئی جی) پولیس ڈاکٹر آفتاب پٹھان کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی کو تین دن میں اپنی رپورٹ آئی جی پولیس کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔

آئی جی سندھ کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے جبکہ اس واقعے میں پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

میڈیا سے بات چیت میں اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ تباہ کی گئی عمارت قومی ورثہ تھی اور جس نے بھی اسے تباہ کیا اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب چند نامعلوم افراد نے کراچی کے علاقے سولجر بازار میں واقع جفل ہرسٹ اسکول میں موجود 100 سالہ قدیم عمارت کو مسمار کردیا تھا، مذکورہ عمارت کو سندھ حکومت کے محمکہ ثقافت کی جانب سے قومی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY