سال 2015-2014 میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کی فروخت میں 5 فیصد کمی کے بعد اچانک پچھلے برس امریکا میں ان کی فروخت میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔

عالمی سطح پر اس وقت الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 2014 کے مقابلے میں تقریبا دگنی ہوچکی ہے۔

سال 2015 میں دنیا بھر میں ان کی فروخت میں 72 فیصد، جب کہ 2016 میں 41 فیصد اضافہ ہوا، اور گزشتہ برس 7 لاکھ 77 ہزار 497 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔

یورپی ملک ناروے جس کی آبادی محض 52 لاکھ ہے، وہاں 2007 میں صرف 132 الیکٹرک گاڑیاں رجسٹرڈ تھیں، جب کہ اس وقت ناروے کی سڑکوں پر ایک لاکھ سے زائد الیکٹرک گاڑیاں چل رہی ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس وقت دنیا بھر میں عالمی گاڑیوں کی تعداد بمشکل ایک فیصد ہے، تاہم ان کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گتے سے بننے والی ورکنگ الیکٹرک کار
امریکی محکمہ توانائی کے سابق سیکریٹری اسٹیو کونن نے توانائی سے متعلق ایک کانفرنس میں کہا کہ امکان ہے کہ 2050 تک دنیا کی 50 فیصد گاڑیاں برقی توانائی سے چلیں گی۔

جنرل موٹرز کے سابق عہدیدار لیری برنس کا خیال ہے کہ ایندھن کے بچاؤ کے حوالے سے الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی مانگ کے باعث 2025 تک شمالی امریکی ممالک کو 30 سے 45 فیصد تیل کی کم فروخت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی مانگ اور عالمی سطح پر ان کی فروخت میں اضافے سے ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی مانگ میں کمی ہو رہی ہے، جب کہ اس سے ایندھن اور خام تیل کا مستقبل بھی خطرے میں ہے۔

خیال ظاہر جا رہا ہے کہ 2040 تک ایندھن کی اتنی شدید مانگ نہیں ہوگی، جو اس وقت ہے کیوں کہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے اور امکان ہے کہ 2040 تک دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY