افسانہ ؛ کنگ کوپر اور بیلا ۔۔۔۔از ۔۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

16
701
جب سے بیلا گھر آئی تھی کنگ کوپر کا تو مزاج ہی خراب ہو گیا تھا ۔۔ پہلے تو گارڈینا کی باڑ  کے اندر چھپا رہا ۔۔ وہاں سے جب مونا بھابھی نے اسے باہر لانے کی کوشش کی تو کنگ کوپر نے پنجے اتنی مظبوطی سے زمین کے اندر گاڑ دیئے جیسے زمین  میں میخیں ٹھوک دی ہوں ۔ یہ اس کا پہلا احتجاج تھا جو اس نے بیلا کے آنے پر کیا تھا ۔ حالانکہ کنگ کوپر کے لیئے پرشین سفید  لمبے بالوں والی بلی لے کر آئے تھے جس کی آنکھیں سمندر جیسی نیلی اور کبھی سبزی مائل ہوجاتی تھیں ۔
پرکنگ کوپر کو ایک آنکھ نا بھایا کہ اس کی راج دھانی میں اس سے پوچھے بغیر کسی کو رہنے دیا جا رہا تھا۔
کنگ کوپر خود بھی اعلی نسل کا  چیتے جیسی کالی دھاریوں والا سفید بلا تھا لیکن اس کی آنکھیں سبز روشنیوں جیسی تھیں ۔۔ اس کی خوبصورتی میں بدمزاجی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی  ۔ اس کی جو مرضی آتا وہ کرتا ۔۔ گھر میں جس سے چاہے پیار کرتا، جس کو چاہے نظر انداز کر دیتا  ۔۔ جب جی چاہتا اپنے سر کو مس کرتا اور محبت کی انتہا کرتا تو پیشانی پر بوسہ بھی  دے کر چلا جاتا تھا ۔ اس کے سونے کے بھی رنگ ڈھنگ بلکل نئے تھے ۔۔ زیادہ تر  وہ ڈرائینگ روم میں  بائیں طرف رکھے نرم ملائم   کالے  چمڑے کے صوفے  پر  سوتا تھا  اور مجال ہے کہ جو کسی کو اپنے قریب بھی آنے دیتا ۔۔ کبھی موج میں ہوتا تو اسد بھائی کے کمرے میں  مونا بھابھی کے  بستر پر سو جاتا ۔۔ اس دن  وہ  کنگ کوپر کو بے آرامی  سے بچانے کے لئے اس کے صوفے پر سو جاتیں ۔
گھر بھر میں بحث رہتی کہ کنگ کوپر کی بدمزاجی کی وجہ اس کی تنہائی ہے ۔ سو اس کی تنہائی ختم کرنے کے لئے  اسد بھائی  رشین  بیلا کو  اس کی ساتھی بنا کر گھر لائے تھے ۔۔ گھر میں اتنی خوشیاں منائی گئیں کہ یوں لگ رہا تھا جیسے اسد بھائی مونا بھابھی کو گھر لے آئے ہوں ۔۔ ان کی شادی کی ایک ایک تقریب یاد آرہی تھی ۔۔ ڈھولک پر گیت اور اس پر سب کا باری باری خوشی سے ناچنا ۔۔جانے کیسے مجھے کنگ کوپر اور اسد بھائی میں کئی مماثلتیں مل  گئیں ۔۔ جیسے وقت پر کھانا ، وقت پر سونا ،  لوگوں سے کم کم ملنا ، بے نیاز  رہنا ۔۔ خاموشی کی زبان ان کی پسندیدہ تھی ۔۔۔اف دونوں ہی بدمزاج تھے ۔۔ میں نے کن آنکھیوں سے اپنے بھائی بھابھی پھر کنگ کوپر اور بیلا کو دیکھا ۔۔۔۔۔ اور خود ہی  ہنس پڑی ۔۔ مونا بھابھی پوچھتی ہی رہ گئی کہ میں ہنسی کیوں تھی ۔۔ پر بیلا کی خوش مزاج طبعیت نے ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی ۔۔
بیلا ،  مونا بھابھی کی طرح  بے حد پھرتیلی  ، شغل میلہ  کرنے والی بلی تھی ۔۔ ہر ممکن جتن کرتی کسی طرح کنگ کوپر کا دل جیت لے پر کنگ کوپر اسے  پہلے تو غصے سے گھورتا جس سے وہ سہم کر رہ جاتی پھر وہ اس پر ایسے غراتا کہ بیلا دوڑ کر مونا بھابھی کی گود میں چھپ جاتی ۔۔ اور کنگ کوپر سرہلاتا اور کبھی دم کو غصے میں ہلاتا وہاں سے چلاجاتا ۔۔  مونا بھابھی کو بیلا کی زبان سمجھ آتی تھی اسی لیئے اس کی دلجوئی میں کوئی کثر نا اٹھا رکھتی ۔۔ اب گھر بھر تو کیا ہر ملنے والا ، محلے  دار سب جانتے تھے کہ کنگ کوپر اسد بھائی کا لاڈلا ہے اور بیلا کی ہمدرد ہم سخن مونا بھابھی ہیں ۔ ۔۔ مجھے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیئے  لاہور میں  اسد بھائی کے گھر رہتے ہوئے تیسرا سال تھا اور اتنے ہی برس اور چند ماہ ان کی شادی کو ہوئے تھے پرمجھے کوئی پل ایسا یاد نا تھا جب اسد بھائی نے کبھی مونا بھابھی کی تعریف کی ہو یا انہیں خاص طور پر کہیں لے کر گئے ہوں ۔۔ حتی کہ جب میں چھٹیوں میں گاؤں چلی جاتی تو مونا بھابھی ہر ایک کے ہاتھ یہی کہلواتیں کہ ستارہ سے  کہیئے گا  “ جلدی  آجائے ، میں اسے یاد کر رہی ہوں ۔۔“ مجھے لگتا جیسے اسد بھائی کنگ کوپر ہیں جو اپنی اتنی حسین سی بیلا سے صرف اس لیئے دور رہتے ہیں کہ کہیں انہیں اپنی محبت کا اقرار ناکرنا پڑ جائے  ۔۔ پر اسد بھائی آپ انسان ہیں اور
کنگ کوپر حیوان ۔۔۔۔۔۔محبت کا اقرار جیت جانے کا اعلان ہوتا ہے  کوئی  ہارنے کا بگل نہیں ۔۔۔
کئی دنوں بعد  کنگ کوپر مونا بھابھی  کے بستر پر بے خبر سو رہاتھا ۔۔ وہ سونے کے لیئے اپنے بیڈ روم میں  جیسے  ہی گئیں الٹے پیر باہر نکل آئیں ۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ آج بھی  اسد بھائی نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انہیں اشارے سے  باہر  سونے  کا کہہ کر خود کروٹ بدل کر آنکھیں بند کر لیں ہونگی  اور مونا بھابھی  نائٹ بلب جلا کر دبے پاؤں کمرے سے نکل آئی ہونگی کیونکہ  کچھ دیر پہلے  ہی وہ  بیلا کے برابر والے  صوفے پر آ کر بیٹھی تھیں ۔ پہلے تو  بلامقصد چینل بدل بدل کر ٹی وی دیکھتی رہی ۔۔ جانے کب ریموٹ ان کے ہاتھ سے گرا اور وہ  وہیں نیم دراز سی  بے خبر سو چکی تھیں ۔۔
جس سرعت سے دن ہفتوں میں اور ہفتے ماہ میں بدل رہے تھے اس جلدی سے گھر کے مکینوں میں تبدیلی نہیں آ رہی تھی ۔۔
ابھی تک بس اتنا ہی ہو پایا تھا کہ کنگ کوپر نے بیلا پر غرانا چھوڑ دیا تھا ۔۔ کبھی کبھار چپکے چپکے  اسے دیکھ بھی لیا کرتا تھا ۔۔ اور جس وقت وہ بیلا کو دیکھتا تھا ،  اس وقت بیلا اپنی دم اور  بالوں کو لہراتی تو   بل کھاتی ہوئی آنکھیں مستی سے موندھ لیتی ۔۔کنگ کوپر کے سامنے  وہ مجسم محبت ہو جاتی ۔ پروہ  کبھی اس کے ساتھ نہ بیٹھا تھا سونا تو بہت دور کی بات تھی ۔ شاید بیلا کو کنگ کوپر کا اپنے ساتھ ایک  کمرے میں ہونا ہی کافی تھا۔  خود کو اپنے آپ میں سمیٹ کر  سکون سے سو جایا کرتی ۔ وہ دوبرس سے ساتھ ساتھ تھے پر آج بھی الگ الگ  تھے ۔۔ دونوں الگ الگ پلیٹوں میں کھانا کھاتے تھے پر ۔۔ ہاں ۔۔ کھاتے ایک ہی وقت تھے اور ایک دوسرے کے بغیر بھی نہیں کھاتے تھے ۔
ہم سب کے لیئے ان کا ایک دوسرے کو اتنے باوقار اور تحمل سے برداشت کرنا ہی کافی تھا۔ اور ایسا ہی کچھ میں اسد بھائی اور مونا بھابھی کے لیئے سوچا کرتی تھی ۔  جہاں اسد بھائی میں کئی عادتیں  کنگ کوپر جیسی تھیں ۔۔ وہاں مونا بھابھی اور بیلا کو مزاج اور تقدیر کی ہم آہنگی ایک دوسرے کے بہت قریب لے آئی تھی ۔
یوں دن بھر گھر کے مکین مختلف رستوں پر چلتے چلتے  شام ڈھلے واپس اپنے آشیانے میں لوٹ آتے ۔۔۔ ایک دن یوں ہوا کہ سورج کے غروب ہوتے ہی  سب لوٹ‌آئے تھے پر بیلا اور کنگ کوپر نہیں پہنچے   ۔  ہم  تینوں باہر لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے اور یہی باتیں کر رہے تھے کہ اب رات ہونے والی  ہے دونوں ابھی تک گھر کیوں  نہیں آئے کہ جانے کس طرف سے  چیختا شور مچاتا کنگ کوپر ہم سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہاتھا ۔۔ اس کی آواز معمول کی نہیں تھی ۔۔ دہشت ، وحشت ، لاچاری ،  بےبسی ۔۔ جانے اس کی آواز میں  کیا تھا کہ  مونا بھابھی دوڑ‌ کر سب سے پہلے  اس تک پہنچ گئیں اور وہ  ان کی  ٹانگوں سے لپٹا‌، میاؤں میاؤں کرتا انہیں باہر کی طرف کھینچنے لگا۔۔  اسد بھائی  اور میں  مونا بھابھی  کے پیچھے  پیچھے باہر کی طرف دوڑے  ۔۔ ہمارے گھر کے داخلی دروازے کے سامنے جو زیلی سڑک گزرتی تھی وہاں‌ بیلا کا سفید روئی کے گالوں جیسا نرم وجود میلا کچیلا کچلا پڑا تھا ۔۔
 شام میں اندھیرا رچ بس گیا۔۔ بیلا اپنی ابلی  نیلی آنکھوں سے کنگ کوپر کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔ اور وہ دو زانوں بیٹھا پاؤں سے اس کا بکھرا وجود سمیٹ‌ رہا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی کے بعد  شدید اداسی اتر آئی تھی ۔۔۔ اس رات ہم سب نے مل کر بیلا کو جنگلے کے ساتھ والی گارڈینا کی باڑ تلے دفنا دیا ۔۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں کنگ کوپر نے بیلا کے آنے پر پہلا احتجاج کیا تھا ۔۔ سر جھکائے وہ بیلا کی قبر پر مٹی پھینک رہا تھا ۔ اور صبح تک بے اعتباری کے عالم میں وہیں بیٹھا رہا ۔۔ وہ رات کنگ کوپر کے ساتھ  مونا بھابھی نے جاگ کر کاٹی تھی ۔۔ کتنی ہی بار اس کے درد میں روئیں تھیں ۔ صبح ہوتے ہی کنگ کوپر نڈھال اسی صوفے پر گر کر سو گیا جہاں بیلا سویا کرتی تھی اور اس کے ساتھ ہی رات بھر کی جاگی  مونا بھابھی بھی بے خبر سو گئیں ۔۔ وہ صبح شاید پہلی صبح تھی جو اسد بھائی بغیر ناشتے کے ہی آفس چلے گئے تھے جس کا ملال مونا بھابھی کو دن بھر رہا۔
بیلا کے جانے کے بعد کنگ کوپر کبھی مونا بھابھی کے بستر پر نا سویا تھا ۔۔ وہ شام ڈھلتے ہی بیلا کی جگہ پر آ کر بیٹھ جاتا ۔۔ خالی خالی نظروں چاروں طرف دیکھتا اور خاموشی سے اپنی گردن اندر کی طرف کر کے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر سو جاتا ۔۔ اور صبح ہوتے ہی بیلا کی قبر کے ساتھ جڑے جنگلے اور گارڈینا کی باڑ‌ھ پر بیٹھا رہتا ۔۔ یوں لگتا جیسے وہ بیلا کا  پہرہ دے رہا ہو ۔۔ یا پھر اپنے اس ملال کو مٹا رہا ہو جب وہ بیلا  سے بے نیاز رہا کرتا تھا اور اکثر اسے  تنہا چھوڑ‌کر باہر چل دیتا تھا ۔۔ کنگ کوپر دن بدن گھراور اس کے کمینوں سے  لاتعلق ہو رہا تھا ۔۔ اسی دوران مونا بھابھی امید سے ہو گئیں ۔ پورے پانچ برسوں کے بعد یہ خوشخبری امی ابا جی کو بھی گاؤں سے گھر لے آئی تھی ۔۔ کسی کو کہاں یاد رہتا کہ کنگ کوپر کی اداسی کا کیا مداوہ ہو ۔۔
 بے خبر سے دن رات گزرتے جا رہے تھے ۔ مونا بھابھی کو دوسرا مہینہ شروع ہو چکا تھا ۔ وہ قے کر کر کے اتنی نڈھال سی رہنے لگی تھی کہ گھر سنبھالنا میری زمیداری بن گیا ۔۔ امی ابا جی واپس گاؤں جا چکے تھے ۔ کنگ کوپر اپنا وقت  زیادہ مونا بھابھی کے سرہانے گزارنے لگا تھا ۔۔ وہ بھی اس پر صدقے واری جاتیں ۔۔ جیسے ہی ان کی آنکھ لگتی وہ بیلا کی قبر پر جا بیٹھتا ۔۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کنگ کوپر کو کسی پر اعتبار نا رہا تھا ۔۔ ہر بات پر نظر رکھتا تھا ۔۔ اس دن بھی وہ مونا بھابھی کے سرہانے ہی بیٹھا ہوا تھا جب انہیں پیٹ کے  دائیں طرف انتہائی نچلے حصے میں  اس شدت کا درد اٹھا کہ ان کی چیخ نکل گئی ۔۔ اسد بھائی آفس سے گھر میں ابھی داخل ہی ہو رہے تھے ۔۔ ہم دونوں مونا بھابھی کے  کمرے کی طرف لپکے ۔۔ کنگ کوپر مونا بھابھی کو شدید تکلیف میں دیکھ کر کبھی ان کے ماتھے پر اپنے ہاتھ رکھ دیتا تو کبھی  تسلی دینے کے لئے ان ماتھا چوم لیتا ۔۔ پر تسلی کسی  کے بس میں کہاں تھی بھلا ۔۔ مونا بھابھی ایمرجنسی میں  ہسپتال میں داخل ہو چکی تھیں ۔۔ وہ زرد  ہورہیں تھیں ، نیم بے ہوشی کی حالت میں  سفید بستر پر ہلکی ہلکی  سانسیں  لے رہیں  تھیں ۔ انہیں ابتدائی طبی امداد مل چکی تھی  ۔۔ خون ٹیسٹ‌اور الٹرا ساؤنڈ‌ ہو چکا تھا ۔۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ مونا بھابھی کی دائیں ٹیوب کے اندر حمل ٹھہر گیا تھا اور ٹیوب اتنا بوجھ نہیں سہار سکتی  اسی لئے  پیٹ‌میں ہی پھٹ چکی ہے اور ان کا خون مسلسل پیٹ میں جمع ہو رہا ہے  جس کے لئے وہ انہیں فوری طور پر تھیٹر لے جا رہے ہیں  اور ڈاکٹر نیلم آپریشن کے لیئے بس پہنچنے ہی والی ہیں ۔۔ اسد بھائی خاموش تھے ۔۔ وہ اپنی دفتری مصروفیات کی وجہ سے ابھی تک مونا بھابھی کو ابتدائی معائنے کے لئے کسی ڈاکٹر کو نا دکھا پائے تھے جوانہیں اتنی نازک صورت حال کا علم ہو پاتا۔ ۔
 مونا بھابھی کی سب سے بڑی آرزو ان کے پیٹ‌ میں ہی رہ گئی تھی اور احتجاجا ان کا خون اچھل اچھل کر پورے بدن میں شور مچا رہا تھا ۔۔ پھر شور مچاتے مچاتے مدھم پڑ گیا ۔۔۔ نبضیں جو آگے پیچھے دوڑ‌رہی تھیں وہ بھی تھک کر بیٹھ گئیں ۔۔ مونا بھابھی کی آنکھیں بیلا کی طرح کھلی اسد بھائی کو دیکھ رہی تھیں ۔۔۔ پتہ ہی نا چلا کب وہ اپنی جنت سے اپنی آرزو سمیت اتنی دور چلی گئیں کہ ہم سب انہیں پکارتے ہی رہ گئے ۔۔ وہ جو ایک آہٹ‌پر اٹھ جایا کرتی تھیں آج آواز دینے پر دیکھ بھی نہیں رہیں تھیں ۔۔۔ وقت بھلا کس کے لئے آج تک ٹھہرا تھا جو آج ہمارے لئے رک جاتا ۔۔
گھر میں ایک کہرام سا مچا ہوا تھا ۔۔ کنگ کوپر مونا بھابھی کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا ۔۔ کبھی ان کے ماتھے کو اپنے ہاتھوں سے ہلاتا ۔۔ تو کبھی اس پر اپنی پیشانی ٹکائے آنکھیں موندھ لیتا  ۔۔وہ  تھوڑی دیر تک تو انتظار کرتا رہا پر کوئی جواب نا پا کر  بیقراری سے ان کے بازوں‌ سے لپٹ کر انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے لگا ۔۔ ۔۔ جتنا سب اسے مونا بھابھی کے پاس سے  ہٹاتے وہ اتنی ہی  شدت سے ان کی طرف لپکتا ۔۔ پھر  تھک کر وہ ان کی چارپائی کے نیچے ہی بیٹھ گیا ۔۔ قبرستان سے واپسی  پر اسد بھائی نے بتایا کہ کنگ کوپر بھی میت کے ساتھ ہی گیا تھا اور سب سے آخر میں وہی ، وہاں سے نکلا تھا ۔۔ آہستہ آہستہ تھکے تھکے قدموں سے چلتا ہوا وہ  گھر میں داخل ہو رہا تھا ۔ اداس کنگ کوپر اور بھی اداس لگ رہا تھا ۔۔ وہ کچھ کھائے بغیر ہی  بیلا کی جگہ پر  آنکھوں پر ہاتھ رکھے خود میں سمٹ گیا ۔۔ شاید تھک کر سو چکا تھا ۔۔ اندر اپنے کمرے میں اسد بھائی اپنے خالی بستر سے لپٹ‌کر سو چکے تھے ۔
 ایسا بھی بھلا کب تک ہوتا ۔۔ مونا بھابھی کے چہلم کے بعد ہی سے اسد بھائی کے خالی بستر کی پورے خاندان کو فکر پڑ گئی ۔۔۔۔ اور پانچ سالہ رفاقت کو بچھڑے ابھی  پانچ ماہ بھی نا ہوئے تھے کہ اسد بھائی نے دوسری شادی کر لی ۔ جس رات کرن بھابھی نے مونا بھابھی کی مسند سنبھالی،  اسی رات  کنگ کوپر گھر سے جو گیا تو پھر  لوٹ کر کبھی نہیں آیا ۔۔ بیلا کی قبر سے لپٹ‌کر ایسا سویا کہ پھر اٹھا ہی نہیں ۔۔۔ میں ان بےزبان محبتوں کے بیچ بیٹھی سوچ رہی ہوں  ۔۔ میں کس قدر غلط تھی ۔۔ اسد بھائی اور کنگ کوپر میں کوئی  قدر  بھی تو مشترک نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔

16 COMMENTS

  1. OMG so toucy…. kanhi hairat maae dal dia tu kanhi is tahrir nay sharminda kar dala …. haan humari kisi ada mae ab wafa nahi… Ahhh

    • عزیزی شفق تبصرے کے لئے شکر گزار ہوں ۔۔ افسانے کی پسندیدگی کے لئے بہت بہت شکریہ

    • عزیزم ارشد سکھ سلامتی کی بے شمار دعائیں ۔۔ افسانے کی پسندیدگی کے لئے بہت بہت شکریہ

  2. ھمیشہ کی طرح ایک بہت منفرد تحریر
    کبھی لگتا ھے کہ گھر میں
    رھے والے بے زبان پالتو کتے بلی
    محبت و وفاداری میں انسان سے بازی جیت لیتے ھیں
    بہت سبق آموز کہانی
    بہت مبارک باد ڈاکٹر نگہت نسیم

    • پیاری دوست شاہین سلامت رہو ۔۔ تمہارا تبصرہ بے حد منفرد ہوتا ہے ۔بہت بہت شکریہ ۔ اللہ پاک ہمیشہ عزتوں میں رکھے ۔۔ الہی آمین

    • قابل صدا احترام اطہر جعفری بھائی
      سلامت رہیئے
      افسانے کی پسندیدگی کے لئے دل سے شکرگزار ہوں

  3. بہت ہی منفرد اور زبردست افسانہ .بے زبانوں کی زبان کی ترجمانی کرتا ہوا ان کے احساسات کو محسوس کرواتا ہوا افسانہ .دل کو چھونے والی اس تحریر پہ ڈاکٹر نگہت جی کو بہت مبارکباد اور دعائیں. سلامت رہیئے

  4. واہ. تمثیل انتہائ مشکل صنف مانی جاتی ہے کہ سچویشن پر اسکا انطباق کمال مہارت کا متقاضی ہوتا ہے. آپ نے اتنا آسانی اور ادبی رچاو سے برت لیا کہ دوسری بھابی کی آمد پر احساس ہوا کہ جو بھائ نے کیا معصوم کنگ بھی نہ کر سکا. انسان محبت کو الفاظ میں برتتا ہے. نطق سے محروم روحیں محبت کو دھڑکنوں کی زبان دیتی ہیں. دھڑکنیں جو خود کو سنائ دیتی ہیں یا انکو جو اس خاموش سراب سے گزر چکے ہوں. جو انہیں آواز و الفاظ دے کر قاری تک پہنچا سکیں. محبت صرف انسان نہیں کرتا محبت تو خدا کے قلم سے لکھا جذبوں کے تاروں پر گایا گیت ہے جو بیلا اور کنگ کی دھڑکنوں میں بھی سنا جا سکتا ہے. بہت سی داد. سلامت رہیں.

    یہ تبصرہ منظور قریشی بھائی نے پاکستان سے بھیجا ہے ۔۔۔ جس کے لیےمیں بہت بہت شکرگزار ہوں ۔

LEAVE A REPLY