اورنج ٹرین کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اورنج لائن میٹرو منصوبے کے کیس میں ایسا فیصلہ دیں گے جو صدیوں تک یاد رکھا جائےگا اگرقدیم عمارتوں کو نقصان پہنچا تویہ بوجھ ہم پرآئےگا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے اورنج ٹرین کیس کی سماعت کی۔

مقدمے میں درخواست گزار کے وکیل خواجہ احمد حسین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں کہا تھا کہ ایسا فیصلہ دیں گے جو 20 سال تک یاد رکھا جائیگا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اورنج ٹرین کیس کا فیصلہ بھی تاریخی ہونا چاہئے ۔

اس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وہ ایک شخص کا معاملہ نہیں ہے بلکہ قانون کا معاملہ ہے، ایسا فیصلہ دیں گے جو صدیوں تک یاد رکھا جائیگا۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ نے غلط مثال دی ہے، ہمیں معلوم ہے اگر قدیم عمارات کو نقصان پہنچا تو یہ بوجھ ہم پر آئے گا۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز افضل نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت علی سے کسی نے پوچھا میرے سر کے بال کتنے ہیں جس پر آپ نے جواب دیا اگر بالوں کی تعداد بتا دوں تو آپ تصدیق کیسے کریں گے۔

اسی طرح اورنج ٹرین منصوبے سے متعلق رپورٹس کے غلط ہونے کا تعین کون کریگا؟منصوبے سے متعلق رپورٹس کو ماہر ہی دیکھ سکتا ہے۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا ڈاکٹر اوپل نے منصوبے کو محفوظ بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا کہا تھا، جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا آپ بتا دیں مزید کیا اقدامات ہونے چاہئیں، عدالت میں آدھی بات نہ کریں، آپ وہ والی بات نہ کریں کہ نماز کی طرف نہ جاؤ۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پنجاب حکومت کی اپیل خارج کر کے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جائے جس کے بعدعدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

SHARE

LEAVE A REPLY