روشنی، تیرے جنم یگ پر ایک نظم۔۔از۔۔نصیر احمد ناصر

0
94

تیری اقلیمِ محبت میں رکا ہے
اک مسافر بے ارادہ، بے مجال…
تجھ کو چھو کر
اصل ہونے کی تمنا میں نڈھال
خواب کے اندر بکھرتے خواب کا زخمی ملال
راکھ پر آنکھیں بناتی
انگلیوں کا بے بصر اندھا کمال
دم بدم رنگت بدلتے موسموں کے درمیاں
پھول کِھلتی، دھول مِلتی خواہشوں کا اندمال
بے عبادت بے دعا ارض و سما کے روبرو
ایک تابیدہ تیقن کو مجسم دیکھنے کی جستجو
لا حاصلی، کارِ زیاں، امرِ محال
رینگتی صدیوں، تھکی عمروں کے بوجھل بوجھ میں
تلملاتے ماہ و سال
گرد آلودہ مسافت ہمسفر مفقود ہے
راستہ بے سمت ہے مسدود ہے
اذنِ سفر کا کیا سوال
اے مِرے عکس جمال
آگہی محدود ہے، تیری ارادت لا زوال
تو ہمیشہ کے لیے ہے، میں ذرا سا لمحہ بھر کا اک خیال
(1994، مطبوعہ اوراق جولائی 1996)

LEAVE A REPLY