ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی۔زرقامفتی

0
76

ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی

سکوت میں بھی ترے ہم نے نغمگی پائی

کلام ہم سے بھی کرتے گلاب لہجے میں

سماعتوں میں نہاں آرزو یہی پائی

ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل

تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

 نظر زمانے کی اک پل میں کھا گئی اس کو

کبھی کبھار ذرا سی بھی گر خوشی پائی

بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم

جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی

 خراج لے رہی ہے زندگی بھی سانسوں سے

حریمِ ذات میں یہ کیسی بے بسی پائی

حریف جذبے ہویدا ہیں اپنے چہرے پر

ہنسی لبوں پہ سجی، آنکھ نے نمی پائی

 نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم

اماں ملی کہیں ہم کو، نہ آشتی پائی

 چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے

بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی

SHARE

LEAVE A REPLY