کلبھوشن یادو کی سزائے موت پہ بھارت سیخ پاء کیوں؟؟ محمد رفیق مغل

0
63

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے مارچ دوہزار سولہ کو پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس اور انڈین نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادو کو پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے پہ ہندوستان اور پاکستان میں پھونچال کی سی کیفیت ہے اور اس فیصلے کو پاک انڈیا تعلقات کے تناظر میں خرابی کا سبب بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو پورے ہندوستان کا بیٹا قرار دیکر کہا ہے کہ کلبوشن کی سزائے موت پہ عمل درآمد ہوا تو یہ عمل دوطرفہ تعلقات کیلئے سنگین اثرات حامل ہوگا۔ کلبوشن کو سزائے موت سنائے جانے کے روز بھارت نے فوجی عدالت کے اس فیصلے کو “سوچا سمجھا قتل” قرار دیا ہے۔ اگر بھارتی سرکار کا خافظہ کمزور نہ ہو تو اسے یاد ہوگا کہ حسین مبارک کے نام سے پاکستان میں “را” کیلئے کام کرنے والا کلبوشن جسے آج پورے شد و مد کے ساتھ ہندوستان کا بیٹا قرار دیا جا رہا ہے یہ وہی جاسوس ہے جس کی گرفتاری پہ بھارت نے اس لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنا شہری تک تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

پھر جب ٹھوس ثبوتوں کا انبار لگا، کلبھوشن کا ویڈو پیغام آیا کہ وہ بھارتی نیوی کا افسر ہے اور را کے خفیہ مشن پر پاکستان کا امن و امان تہہ و بالا کرنے کیلئے خفیہ طور پر جعلی نام سے پاکستان میں سرگرم ہے تو بھارت کو کوئیلوں کی دلالی میں اپنا منہ کالا ہوتا نظر آیا اور تسلیم کیا کہ “کلبوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا سابق کارندہ ہے”۔ بھارت کی مکاری کی ویسے تو تاریخ کے صفحات پہ بےمثال مثالیں درج ہیں مگر یہ تازہ مثال خاصی دلچسپ ہے۔ ایسے ہی مکرو فریب سے بھارت جہاں دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے وہیں اپنے عوام کو بھی الو بنا کے پاکستان سے ڈرا دھمکا کے “ڈنک ٹپاو” پالیسی سے کام چلا رہا ہے۔ بھارت کی کلبھوشن کے معاملہ پر دنیا کے سامنے رسوائی نے اسکی کی دھول جھونکنے والی روش کو دھول چاٹنے پہ مجبور کردیا ہے۔ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کاروائیوں پہ مزید پردے ڈالنے کیلئے تسلسل کے ساتھ جھوٹ پر مبنی بیانات دے رہا ہے۔

کلبھوشن کے بارے بھارت کا یہ کہنا کہ اسے ایران سے پاکستانی فورسسز نے گرفتار کیا۔ یہ اتنا ہی “سچ “ہے جتنا کلبھوشن کو بھارتی شہری تسلیم نہ کر کے بھارت نے “سچ” بولا تھا۔ بھارتی سرکار کی حالتِ زار ناگفتہ بہ ہے کلبھوشن “مہابھارت” کے گلے کی ایسی ہڈی بن گیا ہے جسے اگلنا مشکل اور نگلنا مشکل تر ہے۔

کلبھوشن یادو ایک ثابت شدہ مجرم ہے، بھارت کو شرم آنی چائیے کہ اپنی جیلوں میں بھارت میں حقوق مانگنے والوں کو، سچ بولنے والوں کو، جھوٹے الزامات عائد کر کے بھارتی مسلمانوں کو، را، راشٹریہ سویک سنگھ(آر ایس ایس) اور دیگر بھارتی دہشت گرد خفیہ ایجنسیوں کی کاروائیوں کے الزامات بے گنہاہوں پہ دھر کے بے گناہوں کو اور کشمیری حریت پسندوں کو بھارت نے اپنی عدالتوں کے زریعہ قتل کروا کے انھیں جیلوں میں ہی دفن کر رکھا ہے اور اب پاکستان میں ایک مجرم کیلئے آسمان سر پہ اٹھائے شور ڈالا جا رہا ہے۔ یہ مکروہ کردار اور مکرو فریب کا بھارتی چال چلن کب تک چلے گا۔

بھارت نے مقبول بٹ شہید اور افضل گرو شہید سمیت نہ جانے کتنے بے گناہ کشمیریوں پر در اصل آزادی مانگنے کے جرم میں جھوٹے بے بنیاد مقدمات چلائے اور انھیں انصاف اور انسانیت کے تقاضوں کو پاوں تلے روندھتے ہوئے شدت پسند بھارتیوں بلوائیوں کی تسکین اور خواہشات کی تکمیل کیلئے موت کی نید سُلادیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آئے روز بے گنہاہوں کے خون سے ہولی کھیل کر جبر کی گنگا بہانے والا بھارت منصف مزاج دنیائے انسانیت کے سامنے معصومیت کے اشنان سے پوتر نہیں ہوسکتا۔

بھارت کے موجود شدت پسند وزیرِ اعظم نریندرا مودی اپنے پیش رو حکمرانوں سے چار ہاتھ آگے ہیں۔ بھارت کے سابقہ حکمرانوں نے کشمیر میں جاری ظلم روا رکھنے اور جبری طور پر آزادی اور انسانی حقوق کی آواز دبانے کے تجربے بھارت کی دیگر شورش زدہ ریاستوں میں کر کے عوام کو دبائے رکھا مگر ان صاحب نے اپنے اڑوس پڑوس میں میں تخریب کاری کی وارداتیں شروع کر رکھی ہیں۔ برطانیہ سمیت یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھارت کے خلاف مظاہروں میں کشمیریوں کے علاوہ دلت، سکھ اور نیپالی بھی اب بھارتی جارحیت کے خلاف نعرے بازی کرتے نظر آتے ہیں۔ بھارت کیلئے اس سے بڑی رسوائی اور کیا ہوگی کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی برطانیہ آمد پہ ان کے خلاف انگریزوں، مسلمانوں، ہندووں اور سکھوں نے اتنا شدید احتجاج کیا کہ بھارتی وزیراعظم کو ڈاوننگ سٹریٹ کے عقبی دروازے سے داخل ہوکے برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کرنا پڑی۔ بھارت سے کشمیری آزادی مانگ رہے ہیں بھارت کلبھوشن کی فکر چھوڑ کر کشمیریوں کو آزادی دے۔ ایک مجرم اور جاسوس پہلے نامعلوم اور پھر معلوم بھارت کا بیٹا ہوگا لیکن کشمیر کی آزادی پہ قربان ہوتے کشمیر کے بیٹے ریاست جموں کشمیر کی آزادی کے طلبگار ہیں۔ کشمیر میں ظلم کر کے، کشمیریوں کو ناحق قتل کر کے، پاکستان میں ایران اور افغانستان کے رستے داخل ہوکر، فساد بپا کر کے، پاکستان میں کلبھوشن جیسے جاسوسوں کو داخل کر کے، خالصتان والوں کو کچل کر، گوردواروں کو جلاکر، گائے کی زبح پہ جبری پابندی لگا کر، مسلم نوجوانوں کو اجتماعی قتل کر کے، دلتوں کو کتے سے کمتر جان کر انھیں نیست و نابود کر کے بھارت سرکار کس منہ سے انسانیت کی بات کر رہی ہے اور کس منہ سے وہ کلبھوشن دیو یادو کی سزائے موت پہ سیخ پاء ہے؟

بھارت کو خطے میں اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے اپنا منفی طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا وگرنہ کشمیر میں سلگتی چنگاریاں اسے اس کے کلبھوشنوں سمیت ملیامیٹ کر کے رکھ دیں گی۔

محمد رفیق مغل/ لندن

SHARE

LEAVE A REPLY