حضر ت صدیق اکبر (6) از۔۔۔شمس جیلانی

0
114

ہم گزشتہ ہفتہ یہاں تک پہو نچے تھے ۔ کہ حضور (ص) اور حضرت ابو بکر (رض) جب مدینہ منورہ تشریف لے جا رہے تھے ۔تو راستہ میں سراقہ نے تعاقب کر کے گر فتار کر نا چا ہا مگر نہ کر سکا۔ اس کے بعد یہ قافلہ ام ِ معابد کی رہا ئش گاہ پر ٹھہرا گو کہ ام ِ معبد بہت ہی رحم دل خا تون تھیں ۔ اور انہوں نے مہمانوں کو ہا تھوں ہا تھ لیا ۔ مگر ان کے پا س اتفاق سے اس قت مہما نوں کی خا طر مدارات کے لیئے کچھ بھی نہ تھا ۔ سوائے ایک بکری کے جو کہ دودھ دینے سے ہٹ چکی تھی ۔ حضو ر (ص) نے بسم اللہ پڑھ کر اس کے تھنوں کو ہا تھ لگا یا اور دوہنا شروع فرما یا تو اس کے تھنوں میں اتنا دودھ اتر آیا کہ اس قافلہ کے پینے کے بعد میز با نوں کے لیئے بھی وافر مقدار میں بچ گیا۔ یہ معجزہ دیکھنے کے بعد وہ اسقدر گر ویدہ ہو گئیں کہ حضور (ص) کو روکنے لگیں کہ آپ ابھی میرے پا س اور ٹھہریں۔ حضور (ص) نے فر ما یا کہ ہمیں مدینہ جلدپہو نچنا ہے لہذا ہم مزید قیام نہیں کر سکتے اور وہا ں سے روانہ ہو گئے ۔ اب مدینہ دو تین منزل رہ گیا تھااور خطرہ ٹل چکا تھا ، تعا قب کا خو ف نہ تھا کہ اب دشمن کے علاقے سے نکل آئے تھے ۔ لہذا اس قافلہ نے مدینہ جانے کے لیئے عام را ستہ اختیا ر کیا ،جس پر قافلوں کی آمد و رفت رہتی تھی ۔ سب سے پہلے ان کو جو قافلہ مد ینہ کی طر ف سے آتا ہوا ملا وہ حضرت زبیر (رض) کا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ مد ینہ والے بیچینی سے آپ کاانتظا ر کر رہے ہیں۔ پھرانہوں نے کچھ سا مان اور کپڑے جو وہ شام سے لا ئے تھے حضور (ص) کو پیش کیئے۔ اس کے بعد یہ قافلہ بہ عا فیت مدینہ کی نو احی بستی قبہ تک پہو نچ گیا اور وہا ں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے لو گ پہلے سے ہی منتظر تھے۔ لہذا وہ استقبال کے لیئے جمع ہو گئے ۔ چونکہ ان میں سے بہت سوں نے پہلے حضور (ص) کونہیں دیکھا تھا لہذا پہچا ن میں ان کو دقت ہو رہی تھی۔ اس مسئلہ کا حضرت ابو بکر (رض) نے حل یہ نکا لا کہ آپ اپنی چا در تان کر حضو ر (ص) کی پشت کی طر ف سا یہ کر کے کھڑے ہو گئے اور اس طر ح آقا (ص)اور غلام کی پہچا ن قائم ہوگئی ۔اس کے بعد جلو س کی شکل میں بستی ِ قبا میں بنی عمرو بن عوف سب کو اپنے ہمرا ہ لے گئے اور یہاں حضور (ص)کے پہونچنے کے بعد سب نے مل کر ایک مسجد تعمیر کی جس کی تعریف قرآن میں مو جود ہے۔ جہا ں آجکل تمام زائرین اور حا جی صا حبان دو نفل ادا کر تے ہیں۔ چند یو م قیام کے بعد حضور (ص) اور حضرت ابو بکر (رض) مد ینہ شریف روانہ ہوگئے۔ جب قا فلہِ رسالت مآب (ص) مدینہ میں پہونچا تو وہاں سارا مد ینہ نکل آیا ،خواتین اور بچے اپنی اپنی چھتوں پر چڑھ گئے۔ اور بچیا ں دف پر وہ مشہور نعت پڑھ رہی تھیں۔کہ “ شمالی پہاڑ کی چو ٹی سے (جو)پورا چاند طلو ع ہوا ہے،ان کا پیغام کتنا پیارا ہے کہ وہ خدا کی طرف بلا تے ہیں “ یہاں مدینہ میں ہر ایک کی خواہش تھی کہ حضور (ص) اس کے گھر ٹھہریں مگر اس موقعہ پر حضور (ص) نے حضرت ابو بکر (رض) سے بھی اس سلسلہ میں کو ئی مشاورت نہیں فر ما ئی جبکہ وہ ہمیشہ فر ما تے تھے اور ان کا اس سلسلہ میں ار شاد گرامی بھی ہے کہ “ میں نے ہمیشہ ابو بکر (رض)کی را ئے صا ئب پا ئی ۔لیکن اس سے ایک با ت اور معلوم ہو تی ہے کہ جہا ں ان کے پاس اللہ سبحانہ تعا لیٰ کے واضح احکامات ہو تے تھے ان کو وہ نہ کسی کو بتا تے تھے نہ مشورہ طلب فر ما تے تھے
۔لہذا یہاں انہوں نے ہر ایک کی دعوت کے جواب میں فر ما یا کہ میری (ص) اونٹنی “معمور من اللہ “ ہے اور یہ جہا ں بیٹھے گی وہاں قیام کر ونگا۔ اس سے ایک خوشگوار تجسس پیدا ہو گیا اور ہر ایک اس امید میں ساتھ چل رہا تھا کہ دیکھیں کس کا مقدر جا گتا ہے؟ یہاں ہمیں سب سے اہم سبق یہ ہے کہ حضو ر (ص) نے کسی کی دل شکنی کامرتکب ہو نا پسند نہیں فر مایا ۔ان (ص) کے نانیھیال والے بھی راستے میں ملے اور انہوں نے بھی قرابت داری کی وجہ سے دعوت دی اور حق جتایا۔مگر ان کو بھی عام لو گوں کی طر ح وہی جواب ملا۔ آخر اونٹنی ایک میدان میں جا کر بیٹھ گئی جو کہ کھجو ریں سکھا نے کے لیئے ایک کھلیان تھا ۔ اور حضرت ابو ایوب انصا ری (رض) کے دروازے کے بالمقابل ۔ حضور (ص) وہیں قیام فر ما ہو ئے۔ پھر اس مقام پر بھی ایک مسجد تعمیر فر ما نے کا قصد فر ما یا ۔یہ زمین دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی۔ گوکہ ان لو گوں نے حضور (ص) کو بطورتحفہ پیش کر نا چا ہا مگر حضور (ص) نے پسند نہیں فر ما یا کہ اس سے حضور (ص) امت کو کئی سبق سکھا نا چا ہتے تھے ۔حا لانکہ کہ وہ آیا ت ابھی نا زل نہیں ہو ئی تھیں جوبعد میں ہو ئیں۔ پہلا تو یہ تھا کہ “ ما ل ِ یتیم کے قریب بھی مت جا ؤ “ دوسرا سبق مسجد بنا نے کے لیئے یہ ادب سکھا نا تھا کہ وہ زمین ہر شبہ سے پا ک ہو “ مگر ہم نے اور با توں کی طرح اس سے بھی سبق نہیں لیا اور مسجد بنا تے ہو ئے قبضہ گروپ آجکل یہ سو چتا تک نہیں ہے کہ یہ زمین کس کی ہے ؟ بہر حا ل اس کی جو بازار میں قیمت تھی اس پر سودا ہوا اور وہ رقم حضرت ابو بکر (رض) نے اپنی اس پونجی میں سے سے ادا فر ما دی جو وہ اپنے ہمرا ہ پا نچ یا چھ ہزار درہم لے کر مکہ سے چلے تھے۔مدینہ کی سر زمین پر اس وقت یہ غا لبا “ پہلی رقم تھی جو کارِ خیر میں خرچ ہو ئی اور مسجد کے سلسلہ میں اسلامی تا ریخ کا پہلا عطیہ بھی۔ یہ مسجد بہ یک حضور (ص)کی تمام ضروریا ت پو ری کر نے کا ذریعہ بنی ۔ یہ عبادت گا ہ بھی تھی ،اور اسی میں حضور (ص) کی اقامت بھی ، اسی میں پہلی اسلامی یو نیورسٹی بھی سفہ (چبوتر ہ اصحاب ِ سفہ) کی شکل میں اور یہ ہی کمیو نٹی ہا ل بھی تھا ۔اور سفرا ءکے پیش ہو نے کے لئے در بار بھی ۔ اس کے ستونوں نے جیل کا کام بھی دیا اور یہ ہی کچہری بھی تھی۔حضور (ص) نے آئندہ کے لیئے ایک نمو نہ پیش کر دیا تھا کہ مسلما نوں کے لیئے مسجد کی اہمیت کیا ہے اور وہ اسے کیسے استمال کر یں؟ اس کی تعمیر حضور (ص) اور تمام صحا بہ کرام کی محنت ِ شاقہ کا نتیجہ تھا۔جس کے لیئے رحمت اللعالمین (ص) خو د اینٹیں اور گارا ڈھو رہے تھے۔ جو کہ کچی مٹی کی اینٹوں اور کھجو ر کے شہتیروں، ستونوں اور کھجور کے ہی پتوں کے چھپر سے ڈھکی ہو ئی تھی۔ جس میں اگر با ر ش ہو تی تھی تو پا نی اندر اور باہر تقریبا ً ایک سا گر تا تھا ۔

یہ اس شہنشا ہوں کے شہنشاہ کا (ص) در با ر تھا، جہا ں آج بھی بڑے بڑے با د شاہ متھا رگڑ نا اور سجدہ کر نا عاقبت کمانے کا ایک ذریعہ مانتے ہیں ۔یہ حضو ر (ص) کی حیا تِ طیبہ میں تو ایسی ہی رہی اور پھر خلفا ئے را شدین کے دور میں بھی۔کیو نکہ ان کے سامنے حضور (ص) کی وہ حدیث تھی کہ “ بدتریں سر ما یہ کا ری اینٹوں اور پتھروں میں ہے “ یہ حضرت ابو بکر (رض) کاایسا صدقہ جا ریہ ہے جو قیامت تک ان کے کھا تے میں لکھاجا تا رہے گا۔انہیں شاید خریدتے وقت یہ خو د بھی پتہ نہ تھا کہ وہ جنت کا ایک تکڑا خریدنے جا رہے ہیں۔ جس کے لیئے حضو ر (ص) کا یہ ارشاد گرامی ہو گا کہ “ میرے منبر اور آرام گاہ کے درمیان میں جو قطعہ زمین ہے وہ جنت کا تکڑا ہے “ مسجد کی تعمیر کے بعد مسئلہ تھا مہاجرین کی آبا د کا ری کا اور اس کا حل حضور (ص)نے یہ نکا لا۔ جو کہ دنیا کی تا ریخ میں پہلے نہیں ملتا کہ ہےانصا ر وں سے مہا جرین کا رشتہ اخوت قائم کر دیا اور اس مو قعہ پر ہر انصار نے اپنے مال سے نصف مال اپنے مہاجر بھا ئی کو دینے کی پیشکش کی۔ مگر مہا جرین کی غیرت دیکھئے کہ ان میں سے اکثر نے صرف ضرورت کے مطابق مدد قبول کی اور کچھ نے با لکل ہی نہیں کی ۔ا ن میں حضرت ابو بکر (رض) بھی شامل تھے۔ ان کی مواخت حضرت خا ریجہ سے ہو ئی ۔وہ ان کے گھر تو منتقل ہو گئے کہ انہوں نے ان کی بیٹی سے شادی کر لی تھی اور وہ مقام مدینہ کے مضا فات میں سخ کے نام سے موسوم تھا۔ مگر انہوں نے اپنا پہلا پیشہ ہی یہاں بھی اختیار فر ما یا جو کپڑے کی تجا رت تھا۔اور اللہ نے اسی میں بر کت دی۔اور انکا وہ سر مایہ حسب سابق اسلام کے کام آیا۔ لیکن انہیں مضافات میں رہائش کی بنا پر حضور (ص) سے دوری شاق گزرتی تھی لہذا مسجد کے قریب ہی ایک اور پلاٹ لیکر وہاں بھی گھر بنا لیا۔ یوں توحضرت ابو بکر (رض) بہت متحمل مزاج تھے۔ مگر دین کے معا ملہ میں بہت ہی سخت ۔اوراس سلسلہ میں قدم قدم پر آپ آگے چل کر اس کے مظا ہرے دیکھیں گے۔ پہلا مظا ہرہ ان سے مدینہ آنے کے بعد یہ ہوا کہ فنحاس نامی یہو دی کے منھ پر انہوں نے ایک تھپڑ یہ فر ماتے ہو ئے ما ردیا کہ اگر ہما رے تمہارے در میان معاہدہ نہ ہو تا تو میں تیرا سر اڑادیتا ۔ وہ مقدمہ حضور (ص) کے در با ر میں پیش ہوا ۔حضور (ص) نے اس یہودی کا دعویٰ سن کر کہ “حضرت ابو بکر (رض) نے نا حق اسے تھپڑ ما را ہے “ انہیں صفا ئی کا موقعہ فراہم فر مایا ۔انہوں نے اصل واقعہ بیان کیا کہ یہ مردود اس آیت کا مذاق اڑا رہا تھا کہ “ اللہ کو قر ضہ دو “ اس نے اس پر تبصرہ کر تے ہو ئے کہا کہ پھر تو اللہ (نعوذبا اللہ) بے نیا ز نہیں ہو سکتا جو کہ بندوں سے قرضہ ما نگتا ہے ۔ غنی ہم ہیں جو لو گوں کو سود پر قر ضہ دیتے ہیں “اور محتا ج وہ کہلاتے ہیں جو قرضہ لیتے ہیں “ ۔اس نے اس بات کی تردید کی کہ میں نے ایسا نہیں کہا ۔ اللہ سبحا نہ تعالیٰ بھلا اپنے صدیق کے بھرے مجمع جھٹلا ئے جا نے کو کب پسند فر ما تا ۔ لہذا فورا ً یہ آیت نا زل ہو ئی جس کا با محاورہ اردو ترجمہ یہ ہے کہ “ تم یقینی طور پر اہل ِ کتاب سے سنو گے(اس قسم کی باتیں) بلکہ ان گمراہوں سے (کچھ ) اس سے بھی زیادہ غلط ، مگرتم اللہ سے ڈرتے رہو اور صبر کرواور راہ ِ راست پر ثابت قدمی سے جمے رہو ً ( باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY