ہم چُپ رہے ۔۔۔ از۔۔۔ ارشاد عرشیؔ ملک

0
97

وہ جو قاتل تھے ،جنونی تھے ،بہت بے رحم تھے
جب گلی کوچوں میں اپنے آگھسے
ہم چُپ رہے
ہم پڑھے لکھے تھے ،دانشمند تھے،پُر امن تھے
کس لئے پھر بولتے
ہم چُپ رہے
…………………
ہندوں پر سندھ میں حملے ہوئے
مندروں میں خون کے چھینٹے اُڑے
ہم چُپ رہے
ہم مسلماں لوگ تھے ہندو نہ تھے، بے وجہ کیوں بولتے
ہم چُپ رہے
……………………
پھر عیسائی بستیوں میں قتلِ ناحق بھی ہوئے
گرجا گھر جلتے ہوئے جسموں کی بُو سے بھر گئے
ہم چُپ رہے
کیا عیسائیوں سے ہمیں لینا تھا،جو کچھ بولتے
ہم چُپ رہے
…………………………
پھر شیعوں کا بھی لہو ارزاں ہوا
دس محرم ،یومِ محشرجب بنا
ہم چُپ رہے
ہم شیعہ کب تھے کہ ناحق بولتے
ہم چُپ رہے
………………………
احمدی بوڑھے،جواں،اپنی عبادت گاہ میں
ظلم و سفاکی سے جب بھونے گئے
ہم چُپ رہے
قادیانی ہم نہیں تھے،کس لئے پھر بولتے
ہم چُپ رہے
………………………
پھر مزاروں ،خانقاہوں کی بھی باری آ گئی
جب دھوآں بارود کا،صحنوں کے اندر بھر گیا
ہم چُپ رہے
ہم کسی صوفی کے پیرو کار نہ تھے
بے وجہ کیوں بولتے
ہم چُپ رہے
……………………
اور پھر ایسا ہوا۔۔۔۔۔۔
ہم مدد کے واسطے اک رات چِلّائے بہت
خوں کی جب ہم پر ہوئی برسات ،چِلّائے بہت
چیتھڑے بن کر فضا میں جب اُڑے
بیویوں،بچوں کے پاؤں، ہاتھ ،چِلّائے بہت
…………
گھپ اندھیرے میں تھی ،عرشی ؔہوں نہ ہاں
مستقل چُپ تھی زمیں تا آسماں
کون آتا ۔۔۔۔؟کون باقی تھا وہاں؟؟
 

LEAVE A REPLY