سر درد دنیا کی وہ عام بیماری ہے، جس سے تقریبا دنیا کا ہر شخص کسی نہ کسی طرح متاثر ہوتا ہے، مگر یہ خطرناک بیماریوں میں شمار نہیں ہوتی۔

کئی افراد ایسے بھی ہیں، جنہیں بہت ہی خطرناک سر کا درد ہوتا ہے، جو کبھی کبھار ایک سے زائد دن بھی چلتا ہے، اور اس سے متاثرہ شخص کی معمولات زندگی سخت متاثر ہوتے ہیں، مگر سوال یہ کہ سر میں درد ہوتا کیوں ہے؟

ماہرین صحت کے مطابق سر میں درد ہونے کے 100 سے زائد اسباب ہیں، اور جہاں ہر کسی کے درد کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، وہیں ان کے درد کا سبب بھی مختلف ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا میں زیادہ تر افراد کو سر کا درد ایک ہی سبب کے باعث ہوتا ہے، اور وہ ہے پریشانی، مگر اس پریشانی کے بھی مختلف اسباب ہوتے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے چند ایسے اسباب بھی بتائے گئے ہیں جو دنیا بھر کے لوگوں میں سر درد کے لیے عام سبب ہیں۔

پریشانی
پریشانی کے باعث سر کا درد ہونا ایک عام بات ہے، اور تقریبا دنیا کے 30 فیصد افراد کو مختلف پریشانیوں کے باعث ہی سر کا درد ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پریشانیاں کئی طرح کی ہوتی ہیں، مگر تقریبا تمام پریشانیاں آہستہ آہستہ سر کے درد کی شکل اختیار کرلیتی ہیں، اور مکمل سر میں درد ہونے لگتا ہے۔

نیند کی کمی
زیادہ تر لوگ مصروفیات یا کسی اہم کام میں کھوجانے کے باعث دیر سے سوتے ہیں، اور جلدی اٹھ جاتے ہیں، نیند کی کمی جہاں تھکاوٹ پیدا کرتی ہے، وہیں یہ سر کے درد کا سبب بھی بنتی ہے۔

دباؤ
پریشانی اور دباؤ کا آپس میں گہرا تعلق ہے، مگر یہ دو مختلف صورتیں ہیں، جو انسان کو کئی اور بیماریوں سمیت سر کے درد میں بھی متلا کر دیتی ہیں۔

نمکیات کی کمی(ڈی ہائڈریشن)
نمکیات کی کمی انسان کو نہ صرف کمزور اور دوسروں کے رحم و کرم پر چلنے والا بنادیتی ہے، بلکہ سر درد کا سبب بھی بنتی ہے۔

غیر صحت مند طرز عمل
غیر صحت مند طرز عمل سے مراد معمولات زندگی میں اپنی صحت سے متعلق چیزوں کو اہمیت نہ دینا ہے، لاپرواہی کے باعث جہاں کئی اور بیماریاں یا مسائل پیدا ہوتے ہیں، وہیں سر کا درد بھی ہوتا ہے۔

دیگر اسباب
اس کے علاوہ تھکاوٹ، کم روشنی میں کوئی کام سر انجام دینا، بہت ہی تیز روشنی میں مصروف رہنا، دباؤ میں کام کرتے رہنے سمیت دیگر کئی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

کچھ لوگوں کا سر درد دائمی بھی ہوتا ہے، جو انہیں اپنے جینیاتی ورثے میں ملا ہوا ہوتا ہے، ایسا درد کسی کو یومیہ بنیادوں پر جب کہ کسی کو ہفتے ہا مہینے میں ایک سے 2 بار ہوتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY