مفتیوں نے ہمارا خدا لے لیا۔از۔صدف مرزا

0
97

اپنے ہاتھوں میں دیکھو یہ کیا لے لیا؟

مفتیوں نے ہمارا خدا لے لیا!

ہوش و جذبہ، جنوں، غیر ت وزندگی

اہلِ طاقت نے سب برملالے لیا!

خون سے خون کے چھینٹے دُھلنے لگے

قطرہ قطرہ بنامِ خدا لے لیا

خون ِ باد ِ صبا میں ہے ڈوبا چمن

برگ ، گل سے برنگِ ہوا لے لیا

کس کے در سے ملے گی ہمیں روشنی؟

حرص نے منصفوں سے دِیا لے لیا

بانٹ لی کم دِلوں نے ضیائے حرم

اور فقیہوں نے نورِ حرا لے لیا!

جس طرف دیکھئے آسماں شرمگیں

شام نے کس کا رنگِ حنا لے لیا؟

اتفاقاً تمنا کا حق جب ملا

نام بے ساختہ آ پ کا لے لیا!

SHARE

LEAVE A REPLY