سپریم کورٹ: مشال قتل کیس کی سماعت آج سے کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ

0
46

عدالت عظمیٰ نے مشال خان قتل کیس کی سماعت آج سے کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل، آئی جی خیبر پختونخوا اور یونیورسٹی کے رجسٹرار کو نوٹسز جاری کر دیئے۔

اس حوالے سے انکوائری رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دی گئی ہے۔ سینیٹ کمیٹی میں ڈی آئی جی مردان نے انکشاف کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو مشال سے پرانی پرخاش تھی۔ دوسری جانب آئی جی خیبر پختونخوا نے انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ رپورٹ کے مطابق مشال خان کیخلاف توہین مذہب کے شواہد نہیں ملے جبکہ مرکزی ملزم وجاہت نے اعترافی بیان میں یونیوسٹی انتظامیہ کو بھی ملوث قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشال کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تصدیق کیلئے ایف آئی اے سے مدد مانگ لی گئی ہے۔ سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ میں عالم شنواری نے بتایا کہ انتظامیہ نے نومبر 2016ء میں مشال کیخلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی، قتل میں یونیورسٹی انتظامیہ اور باہر کے لوگ بھی ملوث ہیں۔

کمیٹی نے اندوہناک واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا سے ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے۔ قومی اسمبلی نے واقعہ کیخلاف متفقہ مذمتی قراردار منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں قتل کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کیخلاف سخت ایکشن لیں۔ –

SHARE

LEAVE A REPLY