مرا حرفِ شکایت؟ شاعرانہ۔۔از۔۔سرورعالم راز

0
53

غزل

زمانہ کی ادا ہے کافرانہ
جدا میری ہے طرز عاشقانہ

ترا ذوق طلب، نامحرمانہ
نہ آہ صبح، نے سوز شبانہ

شباب و شعر و صہباۓ محبت
بہت یاد آۓ ہے گذرا زمانہ

:چہ نسبت خاک را با عالم پاک:
کہاں میں اور کہاں وہ آستانہ

بہت نازک ہے ہر شاخ تمنا
بناییں ہم کہاں پھر آشیانہ

مکاں جو ہے وہ عکس لا مکاں ہے
اگرتیری نظر ہو عارفانہ

مری آہ و فغاں اک نے نوازی
مرا حرف شکایت؟ شاعرانہ

میں نظریں کیا ملاتا زندگی سے
اٹھیں لیکن اٹھیں وہ مجرمانہ

ہماری زندگی کیا زندگی ہے
مگر اک سانس لینے کا بہانہ

مجھے دیکھو مری حالت نہ پوچھو
مجھے آتا نہیں باتیں بنانا

الجھ کر رہ گیا میں روز و شب میں
سمجھ میں کب یہ آیا تانا بانا

نہ دیکھو اس طرح مجھ کو نہ دیکھو
بکھر جاءوں نہ ہو کر دانہ دانہ

مجھے ہے ہر کسو پر خود کا دھوکا
یہ دنیا ہے یا ہے آیینہ خانہ

نکالو راہ اپنی آپ سرور
کبھی دنیا کی باتوں میں نہ آنا

LEAVE A REPLY