پاناما لیکس ، دنیا کی تاریخ کے چند بڑے انکشافات میں سے ایک

0
57

پاناما دستاویزات دراصل ایک کروڑ پندرہ لاکھ خفیہ کاغذات ہیں جسے قانونی مشاورتی کمپنی موزیک فونسکا نے بنایا تھا۔

پاناما میں قائم ہونے والی اس کمپنی کے دنیا بھر میں چالیس کے قریب دفاتر ہیں جس کی وجہ شہرت بڑی شخصیات کے اثاثے چھپانا اور ٹیکس چوری میں مدد دینا ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ 2015ء میں ایک جرمن اخبار سے ایک نامعلوم شخص نے رابطہ کیا اور اسے “موزیک فونیسکا”کے انتہائی کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس دینے کی پیشکش کی۔

جرمن اخبار نے یہ تمام ڈاکومنٹس”انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس، آئی سی آئی جے کے حوالے کر دیے جو اس سے قبل اسی اخبار کے ساتھ آف شور لیکس پر کام کر چکا تھا۔

ان پیپرز کے لیے کی گئی تحقیقات میں 100 صحافتی تنظیموں،اور80 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 400 کے قریب صحافیوں نے حصہ لیا۔

جرمن اخبار نے اس پورے ڈیٹا کا خلاصہ رپورٹ کی شکل میں اپریل 2016ء کو جاری کردیا اور اسے “پانامہ پیپرز لیک” کا نام دیا۔جس میں دو لاکھ 14 ہزارافراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔

فائلز میں روسی صدر پوتن کے قریبی رفقا، چینی صدر کے بہنوئی، یوکرین کے صدر، ارجنٹینا کے صدر، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے آنجہانی والد، اور وزیراعظم پاکستان کے تین بچوں کا ذکر ہے۔

نو مئی 2016ء کو آئی سی آئ جے نے پاناما پیپرز کی دوسری قسط جاری کی گئی جس میں مزید دو لاکھ آف شور کمپنیوں میں امراء کی دولت کی تفصیلات موجود تھیں۔

ان دستاویزات میں تقریباً دو سو پاکستانی سیاستدانوں، تاجروں اور دیگر افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر شائع کیے جانے والے ڈیٹا میں تین پاکستانی آف شور کمپنیاں اور 150 سے زائد پاکستانیوں کے پتے شامل تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY