پاناما کیس فیصلہ،جوائنٹ کمیشن بنانے کا حکم ، دوججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیدیا

0
71

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا، جو رواں برس 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس اعجاز اسلم خان نے تحریر کیا۔

فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم ہے، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا۔

فیصلے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ جے آئی ٹی ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرے۔

جے آئی ٹی میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، ایس ای سی پی اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو شامل کیا جائے، جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔

مزید دیکھیں: پاناما کی کہانی کارٹون کی زبانی

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں ناکام رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمرہ عدالت میں پانچ سو چالیس صفحات کا فیصلہ سنانا شروع ہو چکا ہے۔ ہر جج نے اپنی رائے دی۔ فیصلہ تین دو کے تناسب سے ہے تین کا فیصلہ الگ اور دو کا الگ ہے گویا متفقہ نہیں ہے۔ جسٹس کھوسہ فیصلہ پڑھ رہے ہیں اور سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے اور نواز شریف اور انکے بچے کمیشن کے سامنے پیش ہونگے

عدالت مکمل بھر چکا ہے اور پی ٹی آئی اور ن لیگ کے بڑے رہنما کمرہ عدالت میں موجود ہیں ۔ جج صاحبان کمرہ عدالت میں پہنچ گئے فیصلہ سنایا جانے والا ہے، 35سماعتوں میں 25ہزار دستاویزات پیش کی گئیں۔

شریف خاندان اور درخواست گزاروں کی قانونی جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ فیصلہ کس کے حق میں آئے گا، کس کے خلاف ہوگا، پورے ملک کی نظریں سپریم کورٹ پر لگ گئیں۔

پاناما لیکس میں آف شور کمپنیوں کے انکشاف پرعمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق نے نواز شریف، اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کی نا اہلی کی درخواستیں دائر کررکھی ہیں۔

سپریم کورٹ نے کاز لسٹ جاری کر دی، سیکیورٹی کے سخت انتظامات، عدالت میں داخلے کے لیے خصوصی پاسز جاری کیے جائیں گے۔

فیصلہ 5 رکنی لارجر بنچ کےسربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کورٹ روم نمبر ون میں پڑھ کر سنائیں گے ۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے سراج الحق نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستیں دائر کی تھیں اور استدعا کی کہ وزیر اعظم نواز شریف، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نااہل قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے مجموعی طور پر دو مرحلوں میں 36سماعتیں کیں ، پہلے مرحلے میں جب چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں لارجر بنچ نے 9دسمبر 2016ءکو کمیشن کے قیام کی تجویز دی تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت سے کہا میرے مؤکل عمران خان کا مؤقف ہے کہ اگر کمیشن بنایا گیا تو تحریک انصاف اس کا بائیکاٹ کرے گی،اس کے بعد سپریم کورٹ نے سماعت 4جنوری 2017ءتک ملتوی کر دی ۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ پر بنچ ٹوٹ گیا اور عدالت نے قرار دیا نیا بنچ نئے سرے سے سماعت کرے گا،نئے بنچ نے نئے سال میں نئے سرے سے سماعت کی ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ بنا جس نے 4 جنوری 2017ء سے مسلسل سماعت کی۔

بقول جسٹس آصف سعید کھوسہ 25ہزار دستاویزات داخل کی گئیں، سپریم کورٹ نے 26سماعتوں کے بعد 23فروری2017ء کو فیصلہ محفوظ کیا، تقریباً 55 دن کے طویل انتظار کے بعد آج 20 اپریل کو فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔

فیصلے کے دن سپریم کورٹ میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے، عدالت میں داخلہ خصوصی پاسز کے ذریعے ہو گا، خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY