جمعرات (20 اپریل) کے روز سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے عدالت عظمیٰ کی تاریخ کے اہم ترین فیصلے سے متعلق اختلافی فیصلہ جاری کیا۔

5 رکنی لارجر بینچ کے حتمی فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم رہی، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا۔

اس اہم ترین کیس کی سماعت کرنے والے اور فیصلہ سنانے والے معزز جج صاحبان سے متعلق جانیے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ

2010 میں سپریم کورٹ تک ترقی پانے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما لیکس کے بعد وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کی سربراہی کی۔

ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے جسٹس کھوسہ 18 سال سے زائد عرصے میں 50 ہزار کے قریب کیسوں کے فیصلے سنا چکے ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فیصلہ سنانے والے دو ججز میں سے ایک جسٹس آصف سعید کھوسہ تھے۔

جسٹس گلزار احمد

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری منتخب ہونے سے قبل جسٹس گلزار نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔

2002 میں جسٹس گلزار احمد سندھ ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز ہوئے اور فروری 2011 میں وہ سندھ ہائی کورٹ کے سینئر پیوسنے جج مقرر ہوئے۔

نومبر 2011 میں وہ سپریم کورٹ کے جج بنے۔

جسٹس گلزار احمد اختلافی نوٹ لکھنے والے دوسرے جج تھے۔

جسٹس اعجاز افضل خان

1977 میں خیبر لاء کالج سے گریجویٹ کرنے والے جسٹس اعجاز افضل خان 1991 میں سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ کی حیثیت سے انرول ہوئے۔

پشاور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے 9 سال ذمہ داریاں نبھانے والے جسٹس اعجاز 2009 میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے جس کے بعد 2011 میں وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے پر ترقی پاگئے۔

جسٹس اعجاز الحسن

پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے ایل ایل بی کرنے والے جسٹس اعجاز نے اپنی پوسٹ گریجویٹ تعلیم نیویارک کی کورنیل یونیورسٹی سے حاصل کی، انہیں 2009 میں بینچ تک ترقی دی گئی 2011 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز ہوئے۔

انہوں نے قصور، گجرانوالہ، اور لاہور ڈسٹرکٹس میں انسپیکشن جج کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

2015 میں جسٹس اعجاز الحسن لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے اور جون 2016 میں سپریم کورٹ تک ترقی پائی۔

جسٹس شیخ عظمت سعید

جسٹس شیخ عظمت سعید 1980 میں لاہور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ کی حیثیت سے انرول ہوئے اور اس کے اگلے ہی سال سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایڈووکیٹ کے عہدے پر ترقی حاصل کی۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے 1997 میں احتساب بیورو میں خصوصی پراسیکیوٹر کی ذمہ داریاں بھی سرانجام دیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں متعدد ہائی پروفائل کیسز کی پیروری کرنے والی قانونی ٹیم کے رکن رہے۔

وہ 2001 میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے خصوصی پراسیکیوٹر کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے چکے ہیں، انہیں 2004 میں لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا۔

 سن  2012جسٹس شیخ عظمت سعید نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جج کے عہدے پر ترقی پائی۔

SHARE

LEAVE A REPLY