پاناما کیس کے فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اختلافی نوٹ لکھا کہ وزیر اعظم نواز شریف عوام، قومی اسمبلی میں عوامی نمائندوں اور سپریم کورٹ کے سامنے ایماندار نہیں رہے، آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت وزیر اعظم نااہل ہو گئے ہیں، الیکشن کمیشن وزیر اعظم کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کر دے، پاناما کیس ان حکمرانوں کے لیے وارننگ ہے جو طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں اور احتساب کے اداروں کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس کے فیصلے میں یہ اختلافی نوٹ لکھا ہے کہ وزیر اعظم کے اپنے بچوں کی لندن میں جائیداد کے حوالے سے بیانات تضادات کا شکار ہیں،1993ء اور 1996ء میں وزیر اعظم کے بچے اس قابل نہیں تھے کہ وہ لندن میں مہنگی جائیداد خرید سکتے، وزیر اعظم کے بیانات پر یقین کرنا ممکن نہیں،وزیر اعظم ایماندرا نہیں رہے، نااہل ہو گئے ہیں،الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے بعد وہ وزیر اعظم بھی نہیں رہیں گے،صدر مملکت آئین کے تحت پارلیمانی نظام کے تسلسل کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔

جسٹس کھوسہ لکھتے ہیں کہ قطری خط سے امیدیں لگائی گئیں کہ وہ سارے الزامات دھو ڈالے گا، مگر یہ خط نواز شریف اور ان کے بچوں کے لیے مزید تباہی کا باعث بنا،میری دانست میں طارق شفیع کا بیان حلفی بوگس ہے، چیئرمین نیب قمرالزمان چوہدری کو ریٹائرمنٹ تک وزیر اعظم کی تفتیش سے دور رکھا جائے ،چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ عملدرآمد بنچ تشکیل دیں، نیب وزیر اعظم، ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کے خلاف اسی بنچ کی نگرانی میں تفتیش کرے، سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے پاس موجود ثبوتوں کی روشنی میں بھی نیب تفتیش کر سکتا ہے۔

جسٹس کھوسہ لکھتے ہیں اسے ستم ظریفی سمجھیں یا اتفاق کہ پاناما کیس گاڈ فادر ناول کے اس جملے کے گرد گرد گھومتا ہےکہ ہر بڑی دولت کے پیچھے جرم ہو تا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY