عدالت کے فیصلے نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کلین چٹ نہیں دی

0
52

عدالت کے فیصلے نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کلین چٹ نہیں دی لیکن اس میں ایسی بھی کوئی بات نہیں تھی کہ یہ دعویٰ کیا جاتا کہ فیصلہ عشروں تک یاد رہے گا۔
پاناما کیس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے قانون دان پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما اور پنجاب کے سابق گورنر لطیف کھوسہ اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنما اور پاناما کیس میں مقدمے کی ابتدائی طور پر پیروی کرنے والے حامد خان نے کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کلین چٹ نہیں دی البتہ فیصلے میں ایسی کوئی بات بھی نہیں تھی کہ اسے تقریبا دو ماہ تک محفوظ رکھتے ہوئے دعویٰ کیا جاتا کہ فیصلہ عشروں یاد رہے گا۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنے گی، وہ آسانی سے وزیراعظم کو الزامات سے بری نہیں کر سکتی۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ایسا نظام ایک وزیراعظم کو کیسے قصور وار ٹھہرا سکتا جہاں منی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر ملوث ایک ماڈل کو بھی اس لیے سزا نہیں ملتی کہ اس کا نام ان کی جماعت کی قیادت سے جوڑا جاتا ہے، اس پر مسٹر کھوسہ نے کہا کہ اتفاق سے میں نے اس ماڈل سمیت ان تمام مقدمات میں وکالت کی ہے جس میں پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم کو ضمانتیں ملی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام مقدمات سیاسی وجوہات پر بنائے گئے تھے جبکہ شریف فیملی کے خلاف مقدمہ بین الاقوامی کنسورشیم کی تحقیقات کے بعد اپوزیشن نے دائر کیا تھا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر نوازشریف نے کہا بھی تو وہ ان کے مقدمے کی پیروی نہیں کریں گے۔

تحریک انصاف کے راہنما حامد خان نے کہا کہ عدالت سے جس طرح کے ریمارکس آتے رہے اس کی روشنی میں توقعات کے برعکس فیصلہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی پوچھ گچھ کے دوران وزیراعظم کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے ان کی جماعت اور دیگر سیاسی جماعتوں کو دباؤبڑھانا چاہیے۔

مسلم لیگ نواز کی راہنما اور رکن پارلیمنٹ عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ فیصلے پر نون لیگ کے کارکنوں کی خوشی اس بات پر ہے کہ تحریک انصاف وزیراعظم کو ان کے منصب سے ہٹانے کے مقصد سے دائر کی گئی پیٹشنوں میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا وزیراعظم نواز شریف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو ں گے اور سرخرو ہوں گے۔

تجزیہ کار ہما بقائی نے کہا کہ عدالت کا فیصلے کے بعد یہ تاثر ملتا ہے کہ عدالت نے ایک ایسے وزیراعظم کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کا کہا جس کے بارے میں وہ خود کہہ رہی ہے کہ وہ معصوم نہیں ہیں۔

سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پی ٹی آئی وہ فیصلہ حاصل نہیں کر سکی جس کی اسے توقع تھی۔ ا ن کا کہنا تھا کہ انتخابی سیاست پر ان چیزوں کا کم ہی اثر ہو گا۔

پروفیسر شاہد انور، صحافی زاہد گشگوری، اسلم ڈوگر، عامر فاروق اور ایثار رانا نے بھی اس پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نواز کو فیصلے سے ریلیف محسوس ہوا گا اور وہ آگے چل کر سیاسی طور پر فائدے میں رہ سکتی ہے۔ جبکہ بعض نے کہا کہ مسلم لیگ کا عدالت سے بری نہ ہونا نواز لیگ کے لیے ایک سیاسی بوجھ ہے۔

VOA

SHARE

LEAVE A REPLY