علی کا نور حسین و حسن کی جاں عابد
ہیں آپ صبر و اطاعت کی داستاں عابد

چلا ہے قافلہ اک شام کی طرف جس کی
امیر زینب کبری ہیں سارباں عابد

ہیں آپ چوٹھے علی اور پانچوئے احمد
ہے شان آپ کی دارین پر عیاں عابد

یزید مٹ گیا اس کا نہیں ہے کوئی نشاں
ہیں اب بھی نور محمد سے ضو فشاں عابد

حسن کا حلم حسینی جلال تھا جن میں
وہ ہیں بتولی نجابت کے رازداں عابد

پہن کے بیڑیاں کرب و بلا سے شام تلک
کیے ہیں مقصد شبیر کو بیاں عابد

بغیر تیر چلائے بغیر تیغ لیے
مٹاگئے ہیں یزیدوں کے سب نشاں عابد

مثال زینب و کلثوم شام و کوفہ میں
تھے آپ مقصد شبیر کی زباں عابد

سفینہ اہل ولا کا بلال کیوں ڈوبے
کہ جب ہیں بعد حسین اس کے بادباں عابد

بلال کیوں نہ شفاعت کرینگے وہ تیری
ہیں آپ اہل محبت پہ مہرباں عابد

بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY