وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں ہنگامی آرائی

0
43

مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے پر حکومتی و اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی ہونے پر ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا جبکہ سینیٹ میں بھی ارکان کی جانب سے وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے پر ہونے والی ہنگامی آرائی کے باعث اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی کی زیر صدارت ہوا مشترکہ اپوزیشن کے ارکان خورشید شاہ کے زیر قیادت سیاہ پٹی باندھ کر اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے اس سے قبل عمران خان بھی پارلیمنٹ پہنچے اپوزیشن کی جانب سے شیریں مزاری نے ایوان میں داخل ہوتے ہی گو نواز گو کے نعرے لگائے جس پر حکومتی ارکان نے جوابی نعرے لگائے ۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے پاناما کیس میں بنائے جانے والی جے آئی ٹی کے باعث ویزراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جس پر وفاقی وزیر پیداورا رانا تنویر میں کہا کہ نواز شریف منتخب وزیراعظم ہیں استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس پر ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کئے گئے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔

دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں بھی اپوزیشن ارکان نے وزیراعظم کے استعفی کا مطالبہ کیا تو حکومتی سینیٹرز نے اپوزیشن ارکان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ حکومت کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہوا چیئرمین سینیٹ اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو اپنی نشستوں پر بیٹنھے اور ایوان کا تقدس برقرار رکھنے کی ہدایات کرتے رہے مگر کسی نے ان کی ایک نہ سنی جس پر رضا ربانی نے بھی سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیا

SHARE

LEAVE A REPLY