سندھ بھر میں’نو نواز نو‘تحریک 23 اپریل سے شروع ہوگی، نثارکھوڑو

0
50

صوبائی وزیر سندھ نثار کھوڑو نے’نو نواز نو‘تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف اخلاقی طور پر وزیراعظم کے لائق نہیں رہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کے وزیراعظم فوری استعفیٰ دے کر تحقیقات کا سامنا کریں۔

پیپلزپارٹی سندھ کے صدر اور صوبائی وزیر سندھ نثار کھوڑو نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہہ پیپلز پارٹی کیجانب سے 23 اپریل کو سندھ بھر کے تمام ضلعی ھیڈ کوارٹز میں ’نو نواز نو‘ دھرنے دئے جائینگے اور 26 اپریل کو کراچی میں احتجاج کیا جائے گا۔ جب تک نوازشریف استعفی نہیں دیں گے ہم تحصیل اور صوبے کی سطح تک دھرنا دیتے رہیں گے ۔

نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ پانامہ فیصلے کا سال بھر انتظار کیا کے عدالت عوام کو راہ نجات دلائے گا لیگن فیصلے میں کچھ حاصل نہیں ہوا ہے بلکہ عدالت نے فیصلے میں عوام کو مایوس کیا۔ ایک سال میں عدالت نے یہ مناسب نہیں سمجھا کے وہ وزیراعظم کو عدالت میں بلاکر جرح کرتی، وزیراعظم کی ایوان میں تقریر کو سیاسی بیان کہہ کر مذاق کیا گیا۔ دو سینیئر ججز نے وزیراعظم کو امین صادق قرار نہیں دیا جبکہ دیگر 3 ججز نے بھی یہ نہیں کہا کے وزیراعظم امین اور صادق ہیں۔

نثار کھوڑو کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے وزیراعظم پر چارج شیٹ کردی ہے۔ سینیئر ججز کی رائے کی زیادہ اھمیت ہونی چاھئے۔ وزیراعظم کو نااھل نہ کرکے قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا ہے، عدالتیں ن لیگ پر ھمیشہ ھاتھ ہلکا رکھتی ہے۔ بینظیر بھٹو شہید کی حکومت کو تو ڈس مس کیا گیا مگر نوازشریف کو ریلیف دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن منتخب نمائندے کو نااھل کرنے اختیار رکھتی ہے عدالت کو الیکشن کمیشن کو وزیراعظم کی نااہلی کیلئے حکم دینا چاہئے تھا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں تقریر کرنا چاہتے تھے لیکن اُنھیں موقع نہیں دیا گیا۔

’’میں آج یہاں اعلان کر رہا ہوں، اگلے جمعہ کو میں جلسہ کر رہا ہوں اسلام آباد میں۔۔۔۔ میں نواز شریف سے مطالبہ کروں گا میں ساری قوم سے کہتا ہوں کہ نکلو مطالبہ کرو کہ استعفیٰ دو اور یہ (سلسلہ) رکے گا نہیں تحریک چلتی رہے گی۔۔۔ اگر جے آئی ٹی نواز شریف کے نیچے بننی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور وزیراعظم نواز شریف اور اُن بیٹوں حسین اور حسن نواز کو تحقیقاتی عمل میں شامل ہونے کا کہا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY