بنی گالا کے اطراف غیر قانونی تجاوزات کے خلاف عمران خان کی درخواست پر از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی جس میں عمران خان خود عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے پاناما کیس کے فیصلے پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے کہا کہ ‘عدالتین قانون کے مطابق کام کرتی ہیں، قوم کے لیڈر ہونے کے ناطے آپ پر بھاری ذمہ داری ہے، آپ سمیت عدالت کا احترام ہم سب نے کرنا ہے’۔

چیف جسٹس نے عمران خان سے کہا کہ ’ہمارا اداراہ قانون کے مطابق کام کرتا ہے، آپ کی ایک آواز خرابی کو بہتری میں بدل سکتی ہے،ہم کوئی قاضی نہیں، قانون کے مطابق فیصلے دیتے ہیں‘۔

چیف جسٹس نے چیئرمین تحریک انصاف سے کہا کہ ’ آپ ایک عام آدمی نہیں، پر لیڈر کو کہتا ہوں کہ قبلہ راست ہو جائیں، لوگ عدالتوں میں اعتماد کی وجہ سے آتے ہیں، بد اعتمادی کی فضا کو ختم کرنا ہوگا‘۔

بنی گالہ کے اطراف غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان کے ساتھ پرانی یادیں بھی شیئر کیں اور کہا کہ ’ہم کیتھڈرل میں اکھٹے تھے، جب آپ ایچی سن میں کرکٹ کھیلتے تھے تو ایک بار گیند کو ایسا ہٹ کیا تھا کہ گیند چرچ کو کراس کر گئی تھی، میں آپ کی کپتانی میں کھیل چکا ہوں۔۔

بعد ازاں کیس کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ ’دیکھنا یہ ہے کہ بنی گالا میں پلازے قانون کے مطابق ہیں یا نہیں، جو درخت کٹ گئے وہ واپس نہیں لائے جا سکتے البتہ نئی شجر کاری ہو سکتی ہے‘۔

اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ ’ناجائز قبضے پر سابق چیف جسٹس کو بھی خط لکھا تھا، انہوں نے کوئی ایکشن نہ لیا تو قبضہ مافیا مضبوط ہو گئی‘۔

انہون نے کہا کہ ’بنی گالا میں تیزی سے تعمیرات ہو رہی ہیں، ان کو روکنا ہوگا‘۔

عمران خان نے پاناما کیس کے حوالے سے کہا کہ ’ہم اداروں کے ساتھ کھڑے ہی، پاناما کیس کے سماعت جس طرح ہوئی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’خان صاحب ! فیصلوں میں اختلافی نوٹ ساری دنیا میں آتے ہیں، جتنا شور اختلافی نوٹ پر یہاں مچا ہے کہیں بھی نہیں مچتا‘۔

چیف جسٹس نے عمران خان سے کہا کہ ’آپ ایک عام آدمی نہیں، آپ کی آواز سے بہتری بھی آسکتی ہے اور خرابی بھی، آپ قوم کو بے اعتمادی کی فضا سے نکالنے میں اپنا کردا ادا کریں‘۔

اس موقع پر عمران خان نے پاناما کیس سماعت پر پانچ رکنی بینچ کی تعریف کی اور ’ہم نے پہلے بھی عدلیہ کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے،اب بھی پاناما بینچ کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ ’ 2013 کے انتخابات سے قبل ناروے میں مجھ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ لوگوں میں آگاہی آرہی ہے‘۔

چیف جسٹس نے عمران خان سے کہا کہ وہ مصروف شخص ہیں لہٰذا انہیں روز عدالت میں آنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک اچھی لیگل ٹیم بھیج دیں جو رہنمائی کرسکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY