ناموں کی سائینس لسانی سائینس کا ایسا اچھوتا اور منفرد باب ہے کہ اس کے سارے دریچے شاید ہی کسی پر وا ہوئے ہوں ۔ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں صرف فزکس اور کیمسٹری ہی کوسائینس سمجھا جاتا ہے ،جبکہ لسانیات کوجو کہ جو ام السائینس ہے فنون لطیفہ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک طویل اور الگ بحث ہے لیکن اس وقت آغاز کلام اس موضوع پر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ادبی تخلیقات جو از سر تا پا سوچ سے قرطاس تک کا سفر لسان کے سہارے مکمل کرتا ہے اسے ہم عام زندگی میں تو نہ سہی ادبی زندگی میں بھی خاطر میں نہیں لاتے ۔

fakhar abbas 1

یہ نہایت مختصر سی تمہید اپنی فکر کے ایک دریچے کی تازہ ہوا آپ کے اذہان کو سوچ کی خوشبو سے معطر کرنے کے لئے اشارے کے طور پر اس لئے پیش کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ننانوے اعشاریہ نو فیصد درست ناموں کو اس حد غلط لکھنے اور پڑھنے کارواج ہے کہ اکثر اوقات ان کے معنی تضحیک کے دائرے میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ عمومی معاشرے میں یہ رویہ کسی حد تک برداشت ہو سکتاہے لیکن ادبی دنیا میں مجھ طالب علم کے نزدیک یہ ناقابل معافی و تلافی جرم ہے

یہ کیسا خوبصورت نام ہے “ محبوبِ الہی “ لگ بھگ ہم سب اسے زیر کےبغیر محبوب الہی لکھتے پڑھتے اور بولتے ہیں ۔ اسی طرح ہم سب لاشعوری طور بے دھڑک خادم حسین لکھتے بولتے ہیں جس کے معنی پر آپ خؤد غور کر لیجئے کہ یہ درست نام زیر کے ساتھ “ خادم ِ حسین “ ہے ۔ لسانی گفتگو کے اس رخ کا خیال بھی مجھے اس لیئے آیا میں نے جب فکر کی آنکھ سے زیر کے ساتھ فخر ِ عباس پڑھا تو ڈاکٹر فخرِ عباس کا قد مجھے ان کے اپنے قد سے بھی چار بالشت بلند نظر آیا ۔ میں اس نام کی توجیح اور تو ضیح میں نہیں جاناچاہتی لیکن کم از کم قلم قبیلے کے لوگوں سے یہ تو درخواست کر سکتی ہوں اگر وہ اپنے نام کو خود درست بولیں گے توبہت حد تک ممکن ہے کہ ان کے حلقہ احباب کے لوگ بھی ان کے نام کودرست ادا کریں گے ۔

fakhar abbas 2

ڈاکٹر فخرِ عباس ہمارے مسیحا قبیلے کے فرد ہیں ۔ یوں تو ڈاکٹر ہونا ہی بذات خود خالق اکبر کی بڑی عنایات میں سے ایک عنایت ہے لیکن حساس اور تخلیقکار ڈاکٹر ہونا اس کی اضافی کرم نوازی ہے ۔ میرے لیئے شاید بہت آسان ہوتا کہ میں ڈاکٹر فخرِ عباس کی زیر نظر کتاب “ یہ جو لاہور سے محبت ہے “ پر آغاز ان کے شعری سفر کے آغاز کی داستان سے کرتی ۔ اس طرح ایک فائدہ تو یہ ہوتا پانچ چھ صفحات آسانی سے اس موضوع کی نظر ہو جاتے ۔ پھر پانچ چھ صفحات ان کے منتخب اشعار سے پر کر لیئے جاتے اور آخر میں روایتی تعریف کے نصف صفحے کے ساتھ نیکی اور خوشی بیک وقت کما لی جاتی ۔ کیا اچھامصرعہ ذہن میں ہے کہ “ باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی “ ۔ ہمارے ہاں ادبی تخلیقات خاص طور پر شعری مجموعوں پہ تبصرہ نگاری ایسا فارمولا بزنس بن چکا ہے جسے نام نہاد بڑے ناموں والوں فلیپ نگاروں نے ایسا عمل بنا دیا ہے کہ زید کانام نکال کر بکر کانام لکھ دیجئے گویا زید کے اوصاف مفت میں بکر کے نام لگا دیجئے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں باغبان اور صیاد دونوں راضی بھی ہیں اور خوش بھی ۔ اور آپ نے ایسا روایتی تبصرہ لکھ کر اللہ کوبھی راضی کیا ، اللہ کے بندے کوبھی ، قارئین کوبھی ناقدین کوبھی اور مبصرین کو بھی ۔

خدا جانے مجھ جیسے لوگوں کو اس عینک سے دیکھنے کی عادت کیوں نہیں ہے جو ہر آنکھ پر فٹ آ جاتی ہے ۔ میں نے خود بھی اپنے کتابوں پر تبصرے کے لئے مارکیٹ می موجود شیلف پر بکنے والے بڑے ناموں سے لکھوانے سے اس لیئے گریز کیا ہے کہ ان بڑے ناموں میں وہ بات کرنے کا حوصلہ اکثر نہیں ہوتا جس کی روشنی میں آپ اپنا تخلیقی سفر کسی رکاوٹ کے بغیر بہتر طور پر طے کر سکیں ۔ وہی روایتی فقرے وہی گنے چنے الفاظ ، وہ ہر نئے لکھنے والے کو غالب و میر سے قریب تر شاعر قرار دینا ، افسانہ ہو تو پہلے افسانے کے مجموعے کو بہت بچ بچا کر قرت العین کا عکس قرار دینا ، نعتیہ کلام ہو تو حفیظ طائب اور پروفیسر اقبال عظیم کا رنگ ، بے رنگے کلام سے بھی نکال لینا۔ بس یہ ہے ادبی مارکیٹ کامروجہ فارمولا ۔

اپنے ہی مقرر کردہ معیار کی روشن میں آیئے اس محبت کی بات کر لیں جو ہے توکسی اور سے لیکن بتائی گئی ہے لاہور سے ۔ یہاں یہ بھی عرض کرتی چلوں کہ فخرِ عباس سے میری ملاقات سترہ مارچ بیس سو سترہ میں ایک ایسی محفل میں ہوئی جو ہوئی تو میرے اعزاز میں تھی پر لوٹ فخرِ عباس نے لی ۔ یہ محفل ایف ایم ای سی ( فیملی میڈیکیشن ایجوکیشن سینٹر ) کے تحت پنجاب میڈیکل ایسو سیشن ہاؤس ( پی ایم اے ہاؤس ) میں ہوئی تھی جسے پنجاب میڈیکل کالج میں میری ہم جماعت ڈاکٹر سہیلہ طارق ( چیئر پرسن انفارمیشن ٹیکنولوجی ، ایف ایم ای سی ) اور صدر ایف ایم ای سی ڈاکٹر شاہد شہاب نے سجائی تھی ۔ اور اسی محفل میں جہاں شارجہ سے آئے ہوئے ڈاکٹر انوار الحق نے اپنے خوبصورت کلام سے مستفید کیا وہاں پر ڈاکٹر اعظم محی الدین نے کشور کمار کے گائے ہوئے نغمے سنا کر اسی کی دہائی میں لا کھڑا کیا ۔ اسی پر بہار محفل میں فخِر عباس نے نے اپنی یہ کتاب مجھے عطا کی تھی۔ fakhar abbas 3

میں چونکہ خود ڈاکٹر ہوں اور تجارت پیشہ ڈاکٹر نہیں ۔۔ مسیحائی روح کے ساتھ ڈاکٹر ہوں تو اس زہنی دباؤ کوبخوبی جانتی ہوں جس سے ایک طبیب گزرتا ہے۔ میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں طب کی دنیا سے منسلک لوگ غالب اکثریت میں اپنے پیشہ ورانہ زہنی دباؤ سے نجات کے لئے دو شعبوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں کہ جس سے ذہن وجسم کے کھچاؤ میں واقعی کمی محسوس ہوتی ہے ۔ ان میں سے ایک شعبہ مصوری کا ہے جس میں مصور برش ، رنگوں اور خوشبو ؤں سے باتیں کرتا ہے اور اپنی سوچ کو تصویر کی شکل میں کینوس پر منتقل کرتا ہے ۔ دوسر اشعبہ تخلیق کاہے اور تخلیق میں خاص طور پر سخن گوئی کا شعبہ کہ جہاں آلات جراحی قافیے کی شکل دھار لیتے ہیں اور مریض کی تکلیف ردیف کی صورت میں بیان ہو جاتی ہے۔ خود ڈاکٹر فخرِ عباس نے اپنے اس سارے طویل تخلیقی سفر کو اپنے اس شعر میں بیان کر دیا ہے ۔

وہ اگر آج بھی کہہ دے مجھے دل سے اپنا
پھول ہر شاخ سے کھل جائیں خزاں ہوتے ہوئے

میں قطعی اس مقام پر نہیں کہ ڈاکٹر فخِر عباس کے اشعار کا بائی پاس کروں لیکن حساسیت کے تھرما میٹر میں نظر آتا ہوا درجہ حرارت ڈاکٹر فخرِ عباس کی قوت تخلیق اور سخن دوستی کا واضح ثبوت دکھائی دیتا ہے ۔ ڈاکٹر فخر،عباس میں موجود تنوع ان کی زہنی وسعت کی بڑی نشانی ہے ۔ وہ جہاں اپنی زندگی کے واقعات سے لے کر ملکی اور آفاقی واقعات کو شعر کے کوزے میں بند کرتے ہیں وہاں ہیت کے ساتھ ساتھ اصناف سخن کے دائرے میں بھی ہر جانب خاصی کامیابی سے شناوری کرتے نظر آتے ہیں ۔

انہوں نے اپنے اس مجموعہ کلام کا جو عنوان رکھا ہے وہ اپنی جگہ پر ایک مکمل غزل ہے ۔ میں سوچتی ہوں کہ ان کایہ شعر دراصل اردو ادب کی واحد “ یک شعری غزل “ ہے ۔
یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے

fakhar abbas4

میری اپنی سوچ کے مطابق اس شعر سے پہلے کے کتنے ہی شعر ہوں اور شعر کے بعد کے چاہے درجنوں شعر ہوں وہ اسی شعر کے حصارمیں رہیں گے۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ ہم اسی ایک شعر کو اردو شاعری میں ایک اور نئی ہیت کی غزل کی بنیاد بنائیں اور “ یک شعری غزل “ لکھنے کاتجربہ شروع کیا جائے اور اس ہیت کے موجد فخر دنیائے مسیحان ڈاکٹر فخرِ عباس کو قرار دیں کہ میں نے اپنے اسی تحریری نظریئے کے باعث ان کے اس مجموعے پر لکھی ہوئی رائے کاموضوع بھی یہی رکھا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فخرِ عباس پر ہے فخر ہمیں

آپ کے بلندی فکر کے لئے دعاگو
ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی ، آسٹریلیا
چوبیس اپریل دوہزار سترہ

SHARE

LEAVE A REPLY