حضرت صدیقِ اکبر8۔۔۔شمس جیلانی

0
86

ہم گزشتہ ہفتے یہاں تک پہو نچے تھے کہ حضور (ص) نے حضرت ابو بکر (رض) کا قیدیوں کے با رے میں فیصلہ پسند فر مایا جو کہ حضور (ص) کی سرشت کے عین مطابق ،رحم پرمبنی تھا ۔اب آگے بڑھتے ہیں ۔یہو دیوں میں سے صرف چند ہی نفوس تھے جو پکے مسلمان بنے جیسے حضرت عبد اللہ(رض) بن سلام اور ان کے اہل ِ خانہ ۔باقی جو ان میں سے بہ ظاہر ایمان لا ئے بھی تھے۔ ان کی اکثریت ایسی تھی جو کھلم کھلا ،یا مخفی طر یقہ سے اسلام کی جڑیں کا ٹنے پر کا ر بند تھے۔ ان میں قبیلہ بنو قینقاع بھی تھا جو رئیس منا فقین عبداللہ بن ابی سلول کا حلیف تھاوہ سمجھتا تھا کہ اگر کو ئی برا وقت پڑا تو وہ بچا لے گا ۔لہذا ان میں سے کافی ایسے تھے جو صبح کو مسلمان ہو جاتے اور شام کو پھر جا تے جن کا ذکرقر آن میں بھی کیا گیا ہے۔ ان کامقصد یہ تھا کہ لو گوں پر یہ ثابت کر یں کہ ہم اس لیئے محمد (ص)کے دین سے پھررہے ہیں کہ اس میں ہم نے نقص پایا تاکہ انہیں د یکھ کر انصار پلٹ جا ئیں۔ اور وہ اس کو منظو م کر کے حضور (ص)کی بھی ہجو کرتے جن میں ۔کعب بن اشرف،ابو افک اور اسماءبن مروان پیش پیش تھے ۔ وہ حضور (ص) کی عدم مو جود گی اور مسلمانو ں کی جنگی مصرو فیات کی بنا پرشیر ہو گئے ۔کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کا قصہ ختم ہو جا ئے گا ۔

اسی دوران انہوں نے ایک انتہا ئی گھناؤ نی حرکت کر ڈالی کہ ایک مسلمان بدو خاتون جو کہ ایک یہو دی صراف کے پا س کسی زیور کاآڈر دینے آئی تھی اور اپنے قبیلہ کی رو ایا ت کے مطا بق اپنا پو را جسم ڈھا نپے ہو ئے تھی ( ہم نے روایات کا لفظ اس لیئے استمال کیا کہ اسوقت تک پر دے کی آیات کا نزول نہیں ہوا تھا ) اوروہ اوباش یہو دیو ں کے لیئے ایک تما شہ بن گئی ، اس کو انہو ں نے اتنا تنگ کیا کہ با لآخر بر ہنہ کر دیا۔ اس پر ایک مسلمان نے اس کی اتری ہو ئی چادر اس کے جسم پر واپس ڈالدی اور ان کو منع کیا۔تمام با زار جمع ہو گیا۔ اور انہوں نے اس مسلمان کوقتل کر دیا ۔چو نکہ حضور (ص)کی عدم مو جو د گی میں وہ با ت بڑھا نا نہیں چا ہتے تھے کہ ان کے ساتھ معاہدہ بھی تھا گو کہ وہ مستقل خلاف ورزیاں کر رہے تھے۔ مگر حضور (ص) نے ابھی تک برا ءت کا اظہار نہیں فر مایا تھا۔ اس لیئے خا مو ش رہنا ہی مناسب سمجھا۔ جب حضو ر (ص) واپس تشریف لے آئے تو یہ مقدمہ ان کے سا منے پیش ہو ا۔انہوں (ص) نے جب ان کو طلب کیا تو بجا ئے وہ شر مندہ ہو نے کہ الٹا حضو ر (ص) کی اہا نت پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ آپ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ ہم نے قریش کو شکست دیدی ہے ۔ وہ لو گ تو لڑنا نہیں جانتے تھے ۔جب ہم سے مقابلہ ہو گا تو پتہ چلے گا! اس لیئے کہ ہم تو پیدا ئشی جنگ جو ہیں۔در ایں اثنا اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حضور (ص) کو ان پر حملہ کاحکم دید یا ۔

اب حضور (ص)کے پا س سوائے اس کے کو ئی چا رہ نہ تھا کہ ان سے جنگ کی جا ئے ۔مگر حضور (ص) پر غضب کے بجا ئے رحمت ہمیشہ غالب رہی ۔اس لیئے کہ وہ (ص)رحمت اللعا لمین تھے۔ انہو ں (ص)نے حضرت ابو بکر (رض) کو اس ہدایت کے ساتھ ان کی طرف بھیجا کہ وہ اگر اسلام لے آئیں، تو ابھی، بھی ان کو معا فی مل سکتی ہے ۔ورنہ جنگ لیئے تیا ر ہو جا ئیں ۔ وہ شاید مان بھی جا تے مگر انہیں ابی سلول اور قریش ِ مکہ کی شہ حا صل تھی ۔انہو ں نے جنگ منظو ر کی ۔حضور (ص) نے مجاہدین کو جمع کیا اور ان پر حملہ کے ارادے سے ان کے علاقے کی طرف بڑھے ۔وہ بجا ئے مقا بلہ کر نےکے دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے۔ پندرہ دن تک محا صرہ جا ری رہا ۔در اصل ان کومدد کا انتظار تھا قریش اور ابی سلول کی طرف سے ۔کہ انہوں نے وعدے کیئے ہو ئے تھے ۔لیکن کو ئی نہ آیا۔ لہذا انہو ں نے ہتھیا ر ڈا لنے پر آما د گی ظا ہر کر دی ۔ اب یہا ں دو رائے ہو گئیں اکثریت صحابہ کرام کی اس کے حق میں تھی کہ ان کو قتل کر دیا جا ئے ۔اور کچھ کی رائے یہ ہوئی کہ اس قسم کے حا دثوں سے بچنے کے لیئے انہیں شہر بدر کر دیا جا ئے۔ یہاں انصار میں سے دو گروپ ان کے حلیف تھے ایک وہی رئیس المنا فقین ابی سلول تھا اور دوسرے حضرت عبادہ (رض) بن الصامت جوبنی عوف کے سردار تھے۔ انہوں نے تو آکر اپنی براءت کا معا ہدے سے اظہا ر فر مادیا۔مگر ابی سلول ڈتا رہا کہ میرے حلیفوں کو قتل نہ فر ما ئیں۔جبکہ با قی صحابہ نے اس خدشہ کے تحت کہ یہاں سے نکل کر پھریہ شرارت کرینگے ان کو شہر بدر کر نے حا می نہ تھے۔ اور وہ خدشہ صحیح ثابت ہوا جیسا کہ آپ آگے چل کر پڑھیں گے کہ وہ خیبر کے علا قہ میں جا کر آبا د ہو گئے اور وہا ں سے ریشہ دوانیاں جا ری رکھیں ۔بہر حال ان کو رحمتِ عالم (ص) نے یہاں تک رعا یت دیدی کہ وہ اپنا ملبہ تک گھروں کا لے جا سکتے ہیں ۔سوا ئے ہتھیا روں کے۔ مور خین نے لکھا ہے ۔کہ وہ اس طر ح روانہ ہو ئے کہ ان کے با نس بلی تک بار برداری کے جانوروں پر لد ے ہو ئے تھے۔ اور ان کی لو نڈیاں آگے آگے گیت گا تی ہو ئی جارہی تھیں۔اس کے بعدچھو ٹے چھوٹے سرایہ ہو تے رہے۔

کسی میں حضرت ابو بکر (رض) تشریف لے گئے اور کسی میں نہیں بھی ۔کیو نکہ ان کوحضو ر (ص) خو د نامزد فر ما یا کر تے تھے کہ کو ن کد ھر جا ئے گا اور کون صدر مقام میں رہے گا ۔ادھر کفار مکہ کو وہ شکست خون کے آنسو رلا رہی تھی جو بدر میں کھا ئی تھی۔لہذا وہ بدلا لینے کے لیئے بیچین تھے۔انہوں نے اپنے حلیفو ں وغیرہ کو آواز دی اور تین ہزار کا لشکر ِ جرار تیا ر کر کے حملہ آور ہو نے کے لیئے چل پڑے ۔ جب مدینہ منورہ ان کی پیش قدمی کی اطلا ع پہو نچی تو حضور (ص) نے حسب ِ دستور مجلس مشاورت طلب فر ما ئی ۔جس میں وہ لو گ جو پہلے جہا د کی سعادت سے محروم رہ گئے تھے ۔ اس با ت پر اصرار کر رہے تھے کہ ہم مد ینہ سے باہر جا کر مد مقا بل ہو ں ۔جب کہ ابی سلو ل اور اس کے ساتھی اس تو ہم پر ستی کی بنا پر کہ جب بھی مد ینہ سے با ہر جنگ کی گئی شکست ہو ئی لہذا قلعہ بند ہو کر لڑا جا ئے۔ حضور (ص) جو تمام قسم کے تو ہمات کو مٹا نے کے لیئے تشریف تھے۔ دو نوں فریقوں کے دلا ئل سن کر اپنے حجرے میں تشریف لے گئے۔اور جب بر آمد ہو ئے تو پو ری طر ح مسلح تھے۔ اب کچھ نے رجو ع کر نا چا ہا کہ حضور (ص) شہر ہی میں رہ کرہی لڑا جا ئے۔ مگر حضور (ص) نے فر ما یا کہ جب کو ئی نبی (ع) ہتھیا ر پہن لے تو پھر بغیر لڑے اسے اتار نا زیب نہیں دیتا ۔ اس میں ممکن ہے یہ مصلحت بھی رہی ہو کہ مدینہ ایک سر سبز اور شاداب علاقہ ہے وہ زمینوں کو روندتے ہو ئے بڑھیں گے۔ جیسا کہ انہو ں نے احد کی تلی میں پہو ننے کے لیئے کیا ۔جبکہ حضو ر (ص) زر خیز زمینو ں کو بچا تے ہو ئے ایک طو یل چکر کا ٹ کر احد پر پیچھے کی طر ف سے تشریف لے گئے ۔ فر ما یا کہ میں(ص) قریش طر ح زراعت بر با د کر کے نہیں جا ؤنگا ۔ کل اسلامی لشکر ایک ہزار تھا جب احد پہونچا۔ مگر ابی سلول اس کے تین ہزار کے لشکر کو دیکھ کر، اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ واپس چلا گیا اور بہانہ کیاکہ حضور (ص) نے میری با ت نہیں مانی جبکہ لو گ اسے آواز دیتے رہ گئے۔ لیکن حضو ر (ص) ایک تہا ئی لشکر کے چلے جا نے سے بھی با لکل ہرا ساں نہیں کیو نکہ انہیں (ص) اللہ کے وعدے پر یقین تھا۔ حضور (ص) نے احد کی بلندی پر پہو نچ کر لشکر کو ترتیب دیا۔پشت کی طر ف ایک در ہ تھا جس پر حضرت عبد اللہ (ص) بن جبیر کو پچاس تیر اندا زوں کے ساتھ بٹھا دیا اور یہاں تک تا کید فر ما ئی کہ اگر تم دیکھو کہ چیل ،کو ئے ہما رے اوپر منڈا لا رہے ہیں۔تو بھی اپنی جگہ مت چھو ڑنا۔ جنگ شروع ہو ئی پہلے عرب قائدے کی مطابق مبا زرت طلبی ہو ئی ۔اس میں چیدہ، چیدہ صحابہ کرام نے حصہ لیا جن میں حضرت ابو بکر (رض) بھی پیش پیش تھے اور کئی کا فروں کو قتل فر مایا

۔ ایک مر حلہ حضرت ابو بکر (رض) کے لیئے بہت ہی سخت آیا کہ ان کے صا حبزادے عبد الر حمن نے مبا زرت طلبی کی، اس کے جوا ب میں حضرت ابو بکر (رض) نے بڑھنا چا ہا مگر حضور (ص) نے منع فر ماد یا ۔ مبا زرت طلبی کے بعد عام جنگ شروع ہو گئی اور اللہ نے اس تو ہم پر ستی کو خاک میں ملا دیا کہ مد ینہ کے با ہر فتح نہیں ہو سکتی۔ اس نے اپنے نبی (ص) کو فتح سے ہم کنا ر کیا ۔اور ان کی فو ج میدان چھو ڑ کر بھا گ کھڑی ہو ئی نیز بھا گتے ہو ئے اپنی خوا تین کا بھی خیال نہیں رہا۔جو انہیں جو ش دلا نے کے لیئے سا تھ آئیں تھیں۔ اور اب بھا گنے میں پیچھے رہ گئیں تھیں۔ جب تیر اندازوں نے انہیں بھا گتے دیکھا تو مو ر چہ چھو ڑ کر ان کے پیچھے بھا گنے لگے ۔تا کہ ما ل ِ غنیمت بٹو ر سکیں ۔حضرت عبد اللہ (رض) بن جبیر منع فر ما تے رہے مگر وہ نہیں ما نے اور یہا ں صرف دس تیر انداز با قی رہ گئے۔ ادھر خالد بن ولید جو کہ ابھی مسلما ن نہیں ہو ئے تھے ۔ اور کفار کے رسا لے کے سر دار تھے ،جھکا ئی دیکر پیچھے سے حملہ آور ہو گئے۔ دوسری طرف اپنی عورتوں کو بچا نے کے لیئے بھا گتے ہو ئے قریش پلٹ پڑے اور اسلامی لشکر بیچ میں پھنس گیا۔ دسوں تیر انداز ایک ایک کرکے مع حضرت عبد اللہ (رض) بن جبیر شہید ہو گئے۔ پھر کسی نے یہ اعلان کردیا کہ حضور (ص) شہید کر دیئے گئے یہ سن کر لوگ بد دل ہو گئے۔اس طر ح جیتی ہو ئی با زی مسلمان وقتی طور پر ہا ر گئے ۔ یہا ں اللہ تعا لیٰ کو تین سبق سکھا نے مقصود تھے ایک تو یہ کہ جب بھی قوم نبی (ع) کی نا فر مانی کر ے گی مشکل میں پھنسے گی، دو سرے سردار کا اتبا ع اور تیسرے لا لچ سے دو ری اورپرہیز! (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY