اسلام آباد ایرپورٹ پر ناروے کی خواتین پر تشدد،صرف لیڈی کانسٹیبل برطرف

0
79

اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام کی جانب سے بدسلوکی کا نشانہ بنائے جانے والے نارویجین خاندان کو واپس اوسلو جانے کی اجازت مل گئی جبکہ واقعے میں ملوث ایک خاتون افسر کو نوکری سے برطرف کردیا گیا۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستانی نژاد نارویجین خاندان اور امیگریشن عملے کے درمیان ابتدائی طور پر ٹشو پیپر کے معاملے پر تنازع شروع ہوا تھا جو مبینہ طور پر ہاتھا پائی تک جاپہنچا تھا۔

اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

جمعے کے روز مذکورہ خاندان کے افراد خالد عمر، ان کی اہلیہ حسینہ اور بیٹیاں فوزیہ اور فاطمہ پشاور ایئرپورٹ سے دوحا روانگی کے لیے طیارے میں سوار ہوئے تھے تاہم انہیں روانہ ہونے سے روک دیا گیا تھا تاکہ تحقیقات میں ان کی معاونت حاصل کی جاسکے۔

ایف آئی اے اسلام آباد کے ڈائریکٹر مظہر الحق نے ڈان کو بتایا کہ تحقیقات میں محکمہ امیگریشن کی لیڈی کانسٹیبل غزالہ شاہین کو قصور وار ٹھہرایا گیا جس کے بعد انہیں نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے وقت ایئرپورٹ پر شفٹ انچارج انسپکٹر ندیم اختر کو غفلت اور تحققیاتی ٹیم کو غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا اور ان کا معاملہ مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز بھیج دیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک اور لیڈی کانسٹیبل جو واقعے کے روز کاؤنٹر پر تعینات تھیں انہیں بھی قصور وار قرار دیا گیا ہے تاہم ان کے خلاف فی الحال کسی قسم کی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’مسافروں اور امیگریشن کے عملے کے درمیان جھگڑا ابتدائی طور پر ٹشو پیپر کے معاملے پر شروع ہوا تھا‘۔

مظہر الحق نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ خاندان منگل 25 اپریل کو پشاور ایئرپورٹ سے اوسلو روانہ ہوگیا۔

خیال رہے کہ متاثرہ خاندان پی آئی اے کی پرواز پی کے 771 سے ناروے کے شہر کوپن ہیگن جارہا تھا اور واقعہ رونما ہونے سے قبل امیگریشن کاؤنٹر سے اپنے بورڈنگ پاس بھی حاصل کرچکا تھا۔

تاہم جھگڑے کے بعد انہیں روانہ ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سہیل احمد خان اور ڈائریکٹر جنرل ایوی ایشن نے بھی علیحدہ تحقیقات کا حکم دیا تھا جو ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY