اسلام آباد میں قومی کتاب میلے کے دوران اسٹیج سے گر کرانتقال کرنے والی مصنفہ فرزانہ ناز کے پہلے شعری مجموعے ۔۔۔ ہجرت مجھ سے لپٹ گئی۔۔۔ کی تقریب رونمائی تین مئی بروز بدھ راولپنڈی آرٹس کونسل میں ہوئی جہاں اس تقریب سے ہٹ کر ایک اور واقعہ رونما ہوا کہ پاکستان بُک فارنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹرانعام الحق جاوید کو آرٹس کونسل راولپنڈی سے گو گو کے نعروں میں رخصت کر دیا گیا

frzana book 1

عینی شاہدین کے مطابق انعام الحق تیز تیز قدموں سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھے تو احتجاج کرنے والے سب انکے پیچھے چل پڑے اور گو گو انعام الحق گو کے نعرے لگاتے بھاگ پڑے ,بتایا جاتا ہے کہ انعام الحق نے پیچھے مڑ کر نوجوان شاعرو ادیب احمد رضا راجہ کو دھمکی دی کہ تمیں تو میں دیکھ لوں گا , جس پر راجہ انکی جانب بڑھا اور مقابل جا کر کہا کہ جو دیکھنا ہے اسی وقت دیکھ لیں۔۔۔لیکن وہ گاڑی میں روانہ ہو گئے

یہ واقعہ آرٹس کونسل کے ہال سے باہر ہوا تا ہم جب وہ ہال میں اسٹیج پر اظہار خیال کے لیئے بلائے گٰے تومتعدد لوگوں نے تقریب کا بائیکاٹ کیا

بتایا جاتتا ہے کہ انعام الحق بات کر رہے تھے کہ ڈاکٹر ناہید اختر نے کہا کہ آئیں بائیں شائیں مت کریں , یہ بتائیں کہ فرزانہ مرحومہ کے بچوں کے سلسلے میں عملی کام کیا ہوا ابتک۔ اس پرانعام الحق کے پاس کوئی جواب نہ تھا…..وہ گفتگو ختم کر کے ہال سے باہر آئے تو احتجاجیوں نے گو گو انعام گو کے نعرے لگا دیے ,

اسموقع پر پنڈی کی افسانہ نگار پرتیا سیمی نے بھی انعام الحق کو خوب لتاڑا

اس صورت حال کو دیکھ کر عینی شاہدین کے مطابق انعام الحق بھاگ کھڑے ہوئے . مظاہرین گو گو انعام گو…. شیم انعام شیم کے نعروں کے ساتھ انکو رخصت کر کے واپس ہال میں آگئے جہاں تقریب پوری کامیابی اور خوش اسلوبی سے جاری تھی

کتاب کی تقریب مں اسٹیج پر صرف فرزانہ ناز کی تصویر تھی ,نظامت محبوب ظفر کر رہے تھے , جن سے نظامت کی گزارش فرزانہ ناز نے اپنی حیات میں خود کی تھی . تقریب میں بڑی تعداد میں ادیب شاعر اور فرزانہ کے چاہنے والے موجود تھے اور متعدد احباب بے نے کتاب اور فرزانہ کے بارے میں اظہار خیال کیا ,

ڈاکٹر انعام کے خلاف احتجاج کرنے والے چند نام ۔۔جاوید احمد , قیصر حمید , فرحین چوہدری , رخسانہ نازی , ڈاکٹر ابرار عمر , احمد رضا راجا , حسن ظہیر راجا , فدا ستی , پرتہا سیمی , ڈاکٹر ناہید , آصف نواز , عبدالقادر تاباں , رخسانہ سحر , صبا کاظمی

farzana book2

اس موقع پر فرزانہ کے شوہر نے کہا اسے کوئی امداد نہیں چاہیے , اس نے مطالبہ کیا کہ فرزانہ ناز کو سرکاری سطح پر شہید ِ کتاب کا خطاب دیا جائے ,جس پر اس پورے ہال نے تائید کی
تقریب میں عطاالحق قاسمی اور عرفان صدیقی نے شرکت نہیں کی تا ہم سرائیکی زبان کے بڑےشاعر شاکر شجاع آبادی نے بھی شرکت کی

SHARE

LEAVE A REPLY