عشقِ سرکار میں کس درجہ توانائی ہے

ایک تسکین مرے قلب میں در آئی ہے

لئے پھرتی ہے مجھے وادیء طیبہ کی ہوا

آنکھ روضے کی بصد شوق تمنائی ہے

میں شب تار میں تابندہ ہوں گو ذرہ ہوں

میری اس نیر اعظم ﷺ سے شناسائی ہے

اپنی درگاہ کے جاروب کشوں میں لکھ لیں

مجھ کو درکار فقط اتنی پذیرائی ہے

ہائے اس عہدِ بد آثار کی ہلچل مولا

بے قراری سے مری جاں پہ بن آئی ہے

ان کی رحمت کا سہارا ہے مجھے حشر کے دن

ورنہ میں ہوں مرے اعمال کی رسوائی ہے

باز ہو باب کرم ان کا تو میں سوچتا ہوں

یہ درودوں ہی کی اک شکل پذیرائی ہے

ایک بھی لفظنہ شایانِ پیمبر نکلا

مجھ پہ شاہد یہ عبث تہمتِ گویائی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY