سیدنا حضرت صدیق اکبر (9)۔۔۔شمس جیلانی

0
73

ہم گزشتہ ہفتے غزوہ احد پر بات کر تے ہو ئے یہا ں تک پہو نچے تھے کہ نبی (ص) کی نافر مانی اور لالچ کی وجہ سے مسلمان جیتی ہو ئی با زی ہار گئے۔ درایں اثنا کفار نے یہ افواہ اڑادی کے حضو ر (ص)شہید ہو گئے ۔ پھر وہ صحابہ کرام (رض)جو کہ دشمن کے تعقب میں تھے اور بہت آگے نکل گئے تھے،جن میں حضرت ابو بکر (رض) بھی شامل تھے ۔اور ان کی جنگ کا انداز اس دن بہت ہی جا رہانہ تھا۔ وہ پہلے حملہ میں ہی دشمن کی صفوں کو چیرتے ہو ے بہت آگے چلے گئے تھے ۔اور جو سامنے آتا اس کو کاٹ کر رکھدیتے ۔ انکی محویت کا یہ عالم تھا کہ انہیں با لکل بھی ہوش نہیں تھا کہ ان کے چاروں طر ف کیا ہو رہا۔ اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے ۔ جب ا ن کے صا حبزادے عبد الر حمٰن (رض) بن ابوبکر مسلمان ہو گئے۔ تو انہوں نے ایک مرتبہ ان کو بتایا کہ ابا احد والے دن آپ دو مرتبہ میری زد میں آئے مگر میں نے آپ پر حملہ نہیں کیا ۔ اس کا جواب ملا حظہ فر ما ئے کہ “ فر مانے لگے اگر تم میری زد پر آجا تے تو میں تمہیں کبھی نہیں چھو ڑ تا “ جب حضو ر (ص) کی شہا دت کا عام چر چا کفار کر نے لگے ۔تو وہ بھی پریشان ہو گئے اور حضور (ص) کی خبر لینے کے لیئے واپس پلٹے۔ اتنے میں ان کے کانو ں میں ایک آواز پڑی جو کسی مژدہ سے کم نہ تھی۔ کہ “ حضو ر (ص) حیات ہیں “ یہ آواز حضرت کعب (رض) بن مالک کی تھی جنہوں نے حضور (ص) کو سب سے پہلے ان (ص) کی آنکھو ں کی چمک سے پہچا نا۔ حضو ر (ص) نے ان کو منع فرمایا۔ مگر جب تک وہ آواز لگا چکے تھے کہ حضور (ص) یہا ں ہیں ۔آواز سنتے ہی جانثاران رسول (ص) گڑھے پر پہو نچ گئے ۔ان میں حضرت ابو بکر ، طلحہ، عمربن خطاب ، علی بن ابی طالب، زبیر بن عوام اور حارث (رض) بن صمہ اور دوسرے بہت سے صحابہ کرام شامل تھے ۔جہاں کہ حضور (ص)ایک گڑھے میں دوسرے مردہ ساتھیوں کے ساتھ نحیفی کی بنا پر تقریبا ً نیم بیہو شی کی حالت میں تھے۔ کیو نکہ نقاہت بہت بڑھ گئی تھی اور حضور (ص) دو ہری زرہ پہنے ہو ئے تھے لہذا اپنے طور پر گڑ ھے سے باہر آنا مشکل تھا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ہا تھ بڑھایا جس کو پکڑ وہ (ص) با ہر تشریف لا ئے ۔ ان کو دیکھ کر صحابہ کرام ان کے گر د جمع ہو گئے ۔ حضرت علی کہیں سے پا نی لا ئے اور حضور (ص)کو پیش کیا ۔مگر اس میں کچھ مہک تھی۔ حضور (ص) کی نفا ست پسند طبیعت نے اس کو پینا پسند نہیں فر ما یا ۔ بہر حال اور پا نی دستیاب نہ تھا ۔لہذا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسی سے زخم دھو ئے ۔
ابو سفیان بہت ہی خو ش تھا اور کہتا پھر رہا تھا کہ “ ہبل عظیم ہے “ جس نے بدر کا بدلہ لیلیا ۔لیکن جب اس کو کہیں بھی حضور (ص) کا جسد مبا رک نہ ملا تو اس نے اس کی تصدیق کے لیئے ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر آواز لگائی ۔اے محمد (ص) تم کہیں ہو ؟حضور (ص) نے جو اب دینے سے منع فر مادیا۔ پھر اس نے حضرت ابو بکر، عمر اور علی (رض) وغیرہ کا نام لیا کہ تم میں سے کو ئی زندہ ہے ؟ تو بھی اجا زت نہ ملنے کی وجہ سے یہ سب لو گ خا مو ش رہے۔ پھر اس نے خو د سے مخا طب ہو کر کہا کہ لو یہ تو سب مر گئے ۔اور ہمیں عزیٰ نے فتح دی اور اس پر حضرت عمر (رض) کو حضور (ص) نے جواب دینے کا حکم دیا۔تو انہو ں نے فر ما یا اے دشمنِ خدا ہم سب زندہ ہیں ۔اور “اللہ بڑا ہے “ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے اس کے جواب میں یہ بھی کہا ہندا نے حمزہ (رض)کلیجہ تو چبا لیا مگر اسے نگل نہ سکی ۔ اس کے جواب میں حضور (ص) نے فر مایا کہ اس سے کہو کہ اللہ تعا لیٰ یہ نہیں چا ہتا ہے کہ حمزہ (رض) کے جسم کا کو ئی حصہ جہنم میں جا ئے اس لیئے وہ نگل نہیں سکی ۔ پھر وہ شر مندہ ہو کر چلا گیا۔ ایک جھپکی سی آئی ۔ اور جب کفا ر کو ہو ش آیا تو دیکھا کہ مسلمان پھر میدان جنگ پر غالب آچکے ہیں ۔اللہ نے ان کے د لوں میں عجیب دہشت ڈالدی کہ انہو ں نے بچے ہو ئے اسلامی لشکر سے لڑنے کے بجا ئے ۔ میدان جنگ سے پھر بھاگنا شروع کر دیا۔اور ایک جگہ جا کر سانس لی ۔ جو مدینہ سے مکہ کی طر ف جا نے والے راستہ پر واقع تھی ۔ حضور (ص) نے پہلے تمام شہدا کو جمع کیا پھر سب سے پہلے حضرت حمزہ (رض)کی نما ز جنا زہ پڑھا ئی اس کے بعد انہیں کے برابر ایک ایک شہید کولو گ رکھتے گئے اور حضور بار بار نماز جنازہ پڑھا تے گئے اس طر ح حضو ر (ص)نے حضرت حمزہ (رض) کی نما ز جنا زہ بہتر بار پڑھی ۔پھر اس کے بعد زیادہ تر شہدا کو اجتمائی قبروں میں اور ان ہی کپڑوں میں دفن کر دیا گیا جو وہ شہادت کے وقت زیب تن کیئے ہو ئے تھے۔ اس مو قعہ پر ایک بڑا رقت انگیز منظر دیکھنے میں آیا کہ حضرت زبیر (رض) بن عوام کی والدہ محترمہ اور حضور (ص) کی پھو پھی حضرت زینب (رض) جو کہ حضرت حمزہ (رض) کی والداور ماں دو نوں کی طرف سے ہم شیرہ تھیں ا نہوں نے اپنے بھا ئی کا آخری دیدار کر نا چا ہا ۔تو حضو ر (ص) نے حضرت زبیر (رض) کو منع فر مادیا کہ انہیں رو کو اس لیئے کہ عربو ں میں ایک قبیح رسم یہ بھی رائج تھی کہ وہ لا ش کا مثلہ کر تے تھے۔ چو نکہ ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے یہ قسم کھا ئی تھی کہ وہ حضرت حمزہ (رض) کا کلیجہ چبا جا ئے گی ۔لہذا اس نے ان کا مثلہ کیا ہوا تھا ۔ اس لیئے حضور (ص) نہیں چا ہتے تھے کہ ان (ص) کی پھو پھی اس منظر کو دیکھیں اور وہ بر داشت نہ کر سکیں۔ لیکن جواب میں انہو ں نے حضرت زبیر (رض)سے فر ما یا کہ تم اس لیئے منع کر رہے ہو کہ میں مثلہ شدہ میت دیکھ کر برداشت نہ کر سکو نگی۔ تو جمع خا طر رکھو انشا اللہ ایسا نہیں ہو گا ۔ اس لیئے کہ یہ میرے علم ہے اور میں جانتی ہو ں کہ وہ راہ ِ خدا میں شہید ہو ئے ہیں اور ان کا یہ حال ہوا ہے ۔ جب ان کا پیغام حضرت زبیر (رض) نے حضو ر (ص)کو پہنچا یا تو حضو ر (ص) نے اجا زت دیدی اور انہو ں نے بہت ہی ضبط کے سا تھ اپنے بھا ئی کی وہ حالت دیکھی ۔ جو اس سے پہلے حضور (ص) دیکھ کر غمزدہ ہو گئے۔ اور فر مایا تھا اللہ مجھے (ص) ایسا پھر کبھی نہیں دکھا ئے گا۔ اس کے بعد سب لوگوں نے قسم کھا ئی کہ ہم بھی جب ان پر کسی جنگ میں قابو پا گئے تو بدلہ لیں گے ان کی لا شو ں کا مثلہ کر یں گے ۔ لیکن اسی دوران اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فر ماکر ہمیشہ کے لیئے مثلہ کی مما نعت فر ما دی ۔لہذا سب نے اپنا خیا ل بد لدیا ۔ اردو تر جمہ۔ “اور تم سزا دو تو اسی سزا کے مثل دو جوتمہیں دی گئی ہے ،اور اگر تم صبر سے کام لو،تو یہ صبر کر نے والوں کے لیئے زیادہ بہتر ہے،اور صبر سے کام لو تمہا را صبر اللہ کے واسطے ہے اور ان پر ( حرکتوں ) غم مت کرواور نہ ان کے مکر اور تدبیر پر بد دل ہو
( سورہ 16 اور آیات 126، 127 )۔ نماز جنازہ اور تدفین کے بعد حضور (ص)واپس مد ینہ تشریف لے گئے ۔ مگر وہا ں پہو نچ کر اچا نک فیصلہ کیاکہ کفار کا فورا ً تعاقب کیا جائے۔ صحابہ کرام نے جو کہ زخموں سے چور تھے انہوں نے لبیک کہا اور ان کے تعاقب میں روانہ ہو گئے ۔ اس کے ہر اول دستہ کے سالار حضرت ابو بکر (رض) تھے۔ در اصل حضور (ص) کو اطلا ع ملی تھی کہ وہ لو گ وہاں ٹھیر کر یہ سو چ رہے ہیں کہ یہیں ٹھہرا جا ئے جو نقصان مالی ہوا کہ بھاگتے سامان چھو ڑ آئیں ابھی اس پر صبر کرو ،مزید کمک مکہ سے منگوا کر اور مدینہ پر حملہ کر کے قصہ ہی ختم کر دو ۔ جب انہیں یہ پتہ چلا کہ حضور (ص) تعاقب میں تشریف لا رہے ہیں تو وہ سمجھے کہ کہیں سے کمک آگئی ہے ، ورنہ ایک تھکن سے معمور اور زخموں سے چور ،چور فو ج کی یہ ہمت کہا ں ہو سکتی تھی کہ وہ ان کی فو ج کا تعاقب کر ے۔لہذا وہ تیزی سے بھا گ کھڑے ہو ئے ۔کہ کہیں بدر جیسی صورت ِ حال نہ پیدا جائے ۔ یہ حضور (ص) کا معجزہ فتح بالرعب کر شمہ تھا۔ جس کے با رے میں اپنی ایک حدیث میں حضور(ص) فر ما یا ہے کہ یہ میرے اور میری امت کے علا وہ کسی کو عطا نہیں ہو ا۔ جب کفارکو تیزی سے مکہ کی طر ف بھا گتے دیکھا، تو حضو ر (ص) کو حضرت ابو بکر (رض) نے واپس آ کر حضو ر (ص) کو صورت ِ حال سے مطلع فر ما یا۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY