بھارت نے جمعے کے روز ’ساؤتھ ایشیا‘ سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا، جس کے ذریعے ہمسایہ ملکوں کو مواصلات کی سہولتیں میسر آئیں گی۔ اس نئی پیش رفت کو سات جنوب ایشیائی ملکوں کے سربراہان نے علاقائی تعاون کے فروغ میں معاون قرار دیتے ہوئے، اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

بھارت کی ’’خلائی سفارت کاری‘‘، جس نے جدید نوعیت کا خلائی پروگرام جاری کر رکھا ہے، خطے میں مضبوط تعلقات پیدا کرنے کا خواہاں ہے، جس علاقے میں چین اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ لیکن، گنجان آبادی والے دونوں ملکوں کے مابین تناؤ بڑھ رہا ہے۔ بھارت کے بڑے حریف، پاکستان نے اس پراجیکٹ سے علیحدہ رہنا پسند کیا ہے۔

سات کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے سیٹلائٹ کو فضا میں چھوڑنے کے فوری بعد، جس کے لیے نئی دہلی نے رقوم فراہم کی ہیں، جو سات ملک اس منصوبے میں شریک ہیں، وہ ہیں: بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، افغانستان اور مالدیپ، جن کے راہنماؤں نے وڈیو کانفرنس میں شرکت کی، جسے اُن کے قومی ٹیلی ویژن پر نشر کیا۔

سات کروڑ ڈالر لاگت سے تیار ہونے والے سیٹلائٹ کو فضا میں چھوڑنے کے فوری بعد، جس کے لیے نئی دہلی نے رقوم فراہم کی ہیں، جو سات ملک اس منصوبے میں شریک ہیں، وہ ہیں: بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، افغانستان اور مالدیپ، جن کے راہنماؤں نے وڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی جسے قومی ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔

اسے اپنی نوعیت کا پہلا پراجیکٹ قرار دیتے ہوئے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ سیٹلائٹ کی مدد سے، خطے کے ڈیڑھ ارب افراد کی معاشی ترقی کی خواہش پوری ہو سکے گی۔ بقول اُن کے، ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے شہریوں کی مشترکہ خواہشیں تنازع نہیں بلکہ تعاون ہے؛ تباہی نہیں بلکہ ترقی ہے؛ اور غربت نہیں بلکہ خوش حالی کا حصول ہے، جو امنگ ہمیں یکجا رکھے گی‘‘۔

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ معاشی طور پر جنوبی ایشیا دنیا میں پیچھے رہ گیا ہے، افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ ’’علاقائی تعاون کے ضمن میں، جنوبی ایشیا نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے‘‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY