آٹھ مئی 1821ء یونانیوں نے ترک فوجوں کو شکست دی

0
54

ترکی دنیا کی آٹھویں سب سے زیادہ طاقتور فوج رکھتا ہے اس کے پاس مستقل طور پر فوج کی تعداد 06 لاکھ 12 ہزار اور ریزرو ترفوج کی تعداد چار لاکھ 29 ہزار ہے

 یوریشیائی ملک ہے جو جنوب مغربی ایشیا میں جزیرہ نما اناطولیہ اور جنوبی مشرقی یورپ کے علاقہ بلقان تک پھیلا ہوا ہے۔ترکی کی سرحدیں 8 ممالک سے ملتی ہیں جن میں شمال مغرب میں بلغاریہ، مغرب میں یونان، شمال مشرق میں گرجستان (جارجیا)، مشرق میں آرمینیا، ایران اور آذربائیجان کا علاقہ نخچوان اور جنوب مشرق میں عراق اور شام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شمال میں ملکی سرحدیں بحیرہ اسود، مغرب میں بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ مرمرہ اور جنوب میں بحیرہ روم سے ملتی ہیں۔ترکی ایک جمہوری، سیکولر، آئینی جمہوریت ہے جس کا موجودہ سیاسی نظام 1923ءمیں سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیر قیادت تشکیل دیا گیا۔ یہ اقوام متحدہ اور موتمر عالم اسلامی کا بانی رکن اور 1949ء سے یورپی مجلس اور 1952ء سے شمالی اوقیانوسی معاہدے کا رکن ہے۔ ریاست کی یورپی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات طویل عرصے سے جاری ہیں۔یورپ اور ایشیا کے درمیان محل وقوع کے اعتبار سے اہم مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی مشرقی اور مغربی ثقافتوں کے تاریخی چوراہے پر واقع ہے۔

ترکی 81 صوبوں (ایلر، واحد ایل) میں تقسیم ہے اور ہر صوبہ مزید چھوٹی اکائی اضلاع (الچہ لر، واحد: الچہ) میں تقسیم ہے۔ عام طور پر صوبہ اپنے صوبائی دارالحکومت کے نام پر ہی ہوتا ہے۔ بڑے صوبوں میں صوبہ استنبول، صوبہ انقرہ، صوبہ ازمیر، صوبہ بورصہ، صوبہ قونیہ اور صوبہ ادانا شامل ہیں۔ صوبہ اردو بھی ترکی کا ایک صوبہ ہے۔ترکی کا دارالحکومت انقرہ ہے لیکن تاریخی دارالحکومت استنبول بدستور ملک کا مالیاتی، اقتصادی و ثقافتی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں کاستامانو ازمیر،بورصہ، ادانا، طرابزون، غازی عنتب، ارض روم، قیصری، ازمیت، قونیہ، مرسین، اسکی شہر، دیار باکر، انطالیا اور سامسون شامل ہیں۔ ملک کی 68 فیصد آبادی شہروں میں قیام پذیر ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں 5 لاکھ سے زائد آبادی کے 12 اور ایک لاکھ سے زائد آبادی کے 48 شہر ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے، جسے ترکوں نے عظیم خدمات پر اتاترک (ترکوں کا باپ) کا لقب دیا تھا، وسیع پیمانے پر اصلاحات کیں۔ جدیدیت کے نام پر کی گئی یہ اصلاحات دراصل ملک کے مذہبی تشخص کے خاتمے کی کوشش تھیں۔ ترکی زبان کے رسم الخط کی عربی سے لاطینی کی جانب منتقلی اور اختیار کرنے کا اعلان قابل ذکر ہیں۔مصطفی کمال، جنہیں عظیم خدمات کے صلے میں قوم نے اتاترک (ترکوں کا باپ) کا خطاب دیا تھا، 1938 میں انتقال کرگئے۔ ان کے نائب عصمت انونو ملک کے دوسرے صدر بنے اور ان کے دور میں اتاترک کی اصلاحات کو جاری رکھا گیا۔

پاکستان بھر میں اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ ترک عوام نے فوجی بغاوت کو کچل کر رکھ دیا۔ حقائق اس کے بر عکس دکھائی دیتے ہیں ۔کیا ایک قلیل مسلح فوجی گروہ کی کارستانی کو فوجی بغاوت کا نام نہیں دیا جا سکتا ہے ؟کیونکہ حقیقی فوجی بغاوت کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ ترکی میں مکمل فوجی بغاوت نہیں تھی چند کرنلوں کا قلیل فوجی باغی گروہ جو قیادت سے بھی محروم تھا کی فوج اور حکومت کے خلاف بغاوت تھی جسے فوج ،پولیس ،حکومت اور عوام نے ناکام بنا دیا۔ مکمل فوجی بغاوت ہوتی تو ہمارئے ہاں اسے ”انقلاب“ کا نام دیا جارہا ہوتا۔ترکی کو اس سے پہلے بھی کئی بار فوجی بغاوتوں کا سامنا رہا ہے، تاہم فوج کے ایک حصے کی اقتدار پر قبضے کی تازہ ترین کوشش پچھلی بغاوتوں سے مختلف تھی۔ جس طرح کی فوجی بغاوت کی کوشش کی گئی، وہ اس سے مختلف تھی جس کا تجربہ ترک عوام نے اس سے پہلے کیا ہے۔ اس بار فوج کے صرف ایک دھڑے نے صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت گرانے کی کوشش کی۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ بغاوت کے پیچھے کون تھا۔ترکی میں ناکام فوجی بغاوت میں شریک متعدد اعلیٰ افسروں نے ایک جنگی ہیلی کاپٹر کے ذریعے یورپی یونین کے رکن اور قبرص کے تنازعے میں ترکی کے حریف ملک یونان پہنچ کر وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔

مسلح افواج روایتی طور پر ایک مضبوط سیاسی قوت ہیں جنہیں اتاترک کی جمہوریہ کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ ترک آئین اور ملکی سالمیت کا تحفظ قانوناً مسلح افواج کو تفویض کیا گیا ہے جو قومی سلامتی مجلس کے ذریعے باضابطہ اپنا سیاسی کردار ادا کرتی ہے۔ سیکولر، جمہوریت اور اتاترک کی اصلاحات کی حفاظت فوج کا نصب العین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1960ء1980ءاور 1997ء میں تین مرتبہ فوج نے حکومتوں کا تختہ الٹا ہے۔ ان میں سے 1960ءمیں عدنان میندریس اور 1997ء میں نجم الدین اربکان کی اسلام پسند حکومتوں کو ٹھکانے لگایا گیا۔ عدنان میندریس کو سزائے موت اور نجم الدین اربکان کو تاحیات سیاست پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔1970ء کے عشرے میں ملک میں امن و امان قائم رکھنے میں ناکام مخلوط حکومتوں سے بیزار ہوکر ستمبر 1980ء میں فوج نے ایک مرتبہ پھر میں اقتدار سنبھال لیا۔ مارشل لائی ضوابط کے تحت کئی ہزار افراد پکڑ دھکڑ کی زد میں آئے۔ ان میں سے کئی ہزار کو تخریب کاری کا مجرم قرار دے کر قید و بند کی صعوبتوں جھیلنا پڑیں اور کئی کو سزائے موت بھی دی گئی۔
ترکی نے پچھلی دہائیوں میں کئی فوجی بغاوتوں کا سامنا کیا ہے۔ انیس سو اسی میں دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے پہلے کی فوجی بغاوتوں کے پیچھے تمام فوج تھی، لیکن اس بار فوج کا صرف ایک چھوٹا سا دھڑا تھا جو ناکام ہوا۔ یہ سب کس کے ایما پر ہو رہا تھا؟ اس طرح کے سوالات کے جواب ضرور تلاش کرنے چاہیں ایک خیال یہ بھی سامنے آیا ہے کہ آئندہ ماہ اگست میں سپریم ملٹری کورٹ گولن تحریک سے منسلک فوجی افسران کو برخاست کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔کیا یہ بغاوت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
ترکی دنیا کی آٹھویں سب سے زیادہ طاقتور فوج رکھتا ہے اس کے پاس مستقل طور پر فوج کی تعداد 06 لاکھ 12 ہزار اور ریزرو فوج کی تعداد چار لاکھ 29 ہزار ہے۔ اس کے پاس 689 ہیلی کاپٹروں سمیت 1964 لڑاکا طیارے ہیں۔ اس کی بری افواج کے پاس 4246 ٹینک ہیں۔ترکی کے پاس اسلحہ بردار جہازوں کی تعداد 269 ہے۔ ترکی کے پاس 645 بحری جہاز موجود ہیں۔ ترکی کے ہوائی اڈوں کی تعداد 99 اس کے پاس 110 طاقتور آبدوزیں موجود ہیں۔ترک بحریہ کے زیر استعمال مال بردار جہاز LCM302 مجموعی طور پر 26 کی تعداد میں ہیں جو ایک ہی وقت میں 60 ٹن وزنی سامان سمندر میں اتارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس کے علاوہ مقامی سطح پر تیار کردہ ایک بحری مال بردار جہاز 100 فوجیوں اور 05 ٹینکوں کو لےجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان بحری جہازوں کی تعداد 30 ہے۔اس کے علاوہ ترکی کے پاس ”اوسمنگازی“ نامی بحری جہاز 900 فوجیوں اور 15 ٹینکوں اور ایک ہیلی کاپٹر کو بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر جہاز ”آرٹو گرول“ 350 فوجیوں اور 2200 ٹن دیگر سامان لے جا سکتے ہیں۔

ضمیر آفاقی

SHARE

LEAVE A REPLY