انتالیس سالہ عمانوایل ماکروں: فرانس کے کم عمر ترین صدر

0
112

پہلی مرتبہ کسی عوامی انتخابات میں حصہ لینے والے عمانوایل ماکروں نے اپنی مخالف امیدوار مارین لے پین کو شکست دے دی۔ جیت کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ بطور صدر فرانس اور یورپ کا تحفظ کریں گے۔

اس مرتبہ کے فرانسیسی صدارتی انتخابات میں عوام کو دو انتہاؤں میں سے ایک کو منتخب کرنا تھا۔ ایک جانب قوم پرست، یورپی یونین اور تارکین وطن کی مخالفت کرنے والی دائیں بازو کی سیاست دان مارین لے پین تھیں تو دوسری جانب فرانسیسی سیاست میں ایک نیا چہرہ، عمانوایل ماکروں۔ عوام کی ایک واضح اکثریت نے ماکروں کا انتخاب کیا۔ ماکروں نے پینسٹھ فیصد سے زائد جب کہ لے پین نے چونتیس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

انتالیس سالہ سابق بینکار فرانس کے موجودہ صدر فرانسوا اولاند کی کابینہ میں وزیر اقتصادیات رہ چکے ہیں۔ جیت کے بعد ماکروں نے پیرس میں اپنے حامیوں سے مختصر خطاب کیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق پیرس سمیت ملک بھر میں ماکروں کے حامی جشن منا رہے ہیں۔ لیکن ماکروں کا خطاب فتح کا جشن نہیں تھا، بلکہ انہوں نے زیادہ توجہ بطور صدر خود کو اور فرانس کو درپیش چیلنجز پر مرکوز رکھی۔

عمانوایل ماکروں کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ موجودہ دور میں فرانسیسی معاشرہ کس حد تک منقسم ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ پورے فرانس کے صدر ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ لے پین یورپی یونین اور مشترکہ یورپی کرنسی یورو کی بھی مخالف ہیں۔ لیکن ماکروں کو کہنا تھا کہ وہ فرانسیسی صدر کے طور پر نہ صرف فرانس بلکہ یورپ بھر کا دفاع کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY