ذیابیطس کی دو اقسام ہیں جیسے ٹائپ 1 یا ٹائپ ٹو مگر یورپی ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس کی تیسری قسم بھی ہے جو کہ ٹائپ 1.5 ہے۔

برطانیہ، جرمنی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی مشترکہ ٹیم کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹائپ 1.5 میں دیگر دونوں اقسام کی مختلف علامات مشترکہ طور پر نظر آتی ہیں اور یہ اکثر بالغ افراد کو نشانہ بناتی ہے۔

اس قسم کی ذیابیطس میں ٹائپ 1 ذیابیطس کی طرح دفاعی نظام بہت زیادہ متحرک ہوجاتا ہے جو کہ انسولین بنانے والے خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے مگر اس میں ٹائپ ٹو جیسی علامات بھی ہیں اور مریضوں کو علاج کے لیے انسولین کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تحقیق میں کہا گیا کہ مریضوں میں ذیابیطس کی اقسام کی درست تشخیص بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ان کا ٹھیک علاج ہوسکتا ہے۔

ٹائپ ون کا مرض عام طور پر بچپن میں سامنے آتا ہے مگر بالغ افراد بھی اس کا شکار ہوتے ہیں، تاہم نوے فیصد مریضوں میں ٹائپ ٹو کی تشخیص ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران لگ بھگ پانچ ہزار افراد کے ڈی این اے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ذیابیطس ٹائپ ون کا ٹائپ 1.5 سے جنیاتی تعلق ہے جبکہ ٹائپ ٹو کے جینز بہت کم اس سے تعلق رکھتے ہیں۔

ذیابیطس کی علامات اور بچاؤ کی تدابیر جانیں

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جینیاتی طور پر ٹائپ ٹو کا باعث بننے والے عناصر 1.5 کا سبب نہیں بنتے۔

SHARE

LEAVE A REPLY